’’حکومت ہے ناں‘‘

شہزاد اعظم٭٭٭***
کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں، شہریت میں سمجھتے آئے ہیں، اساتذہ سے سنتے آئے ہیں، فلموں میں دیکھتے آئے ہیں کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت وقت کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ تمام جوانب سے یہ بات سن سن کر ہم دل و جان سے اسی امر کے قائل ہو گئے چنانچہ شعور سنبھالتے ہی ہم نے اپنی جان اوراپنے مال، دونوں کی فکر کرنا ترک کر دی کیونکہ جب سے ہم نے آنکھ کھولی ، ملک میں حکومت کو قائم و دائم دیکھا، کسی ایک دن بھی ’’ناغہ‘‘ نہیں ہوا۔ اس لئے ہم نے مال اور جان کی پروا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور جب کبھی خیال آیا تو سوچا کہ ’’فکر کس بات کی ،حکومت ہے ناں‘‘۔پھر ہم نے گھر کی چہار دیواری سے جب قدم باہر نکالا اورعملی زندگی میں داخل ہوئے تو علم ہوا کہ ہمیں یہ دونوں ذمہ داریاں بھی خود ہی سنبھالنی ہیں۔ہم نے اپنے استادِ کہنہ سے شکوہ کیا کہ ہمیں تو بتایا ، سکھایا، پڑھایا گیا تھا کہ عوام کی جان اور مال کے تحفظ کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہے ہی نہیں۔ انہوں نے بھِنّا کر جواب دیا ’’حکومت ہے ناں‘‘، اپنی ذمہ داری بھی پوری کر رہی ہے، کسی روز موٹر سائیکل پر’’بے ہیلمٹی‘‘ سواری کر کے دیکھ لو، پتا لگ جائے گا، جیسے ہی موٹر سائیکل کا پہیا تارکول کی استرکاری والی سڑک پرچڑھے گا، کہیں نہ کہیں سے سرکاری پوشاک میں ملبوس صاحبِ اختیارراستے کی رکاوٹ بنا کھڑا دکھائی دے گا اور آپ کو موٹرسائیکل ایک جانب کھڑی کرنے کا حکم صادر کرے گااورپھر بھاری بھرکم ، اچھی خاصی رقم زبانی بیان کر کے ڈرائے گا کہ آپ نے ہیلمٹ نہیں پہناتھاناں اس لئے اتنے سو روپے کا چالان کیاجا رہا ہے ۔ یہ سن کر آپ کے ہاتھوں کے توتے اڑجائیں گے، سٹی گُم ہو جائے گی اور آپ ہکا بکا رہ جائیں گے اور آپ خود کہہ اٹھیں گے کہ ’’حکومت ہے ناں‘‘۔آپ سرکاری ہستی سے  کہیں گے کہ جناب میرے پاس تو اتنے پیسے ہی نہیں ۔ وہ جواب دے گا ، ٹھیک ہے ، میں گاڑی بند کر دیتا ہوں، آپ یہ رقم بینک میں جمع کرائیں اوررسید لے کر تھانے آ جائیں،آپ کو گاڑی واپس کر دی جائے گی۔اب آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہے گا کہ آپ یتیم مسکین ہونے کی اداکاری کریں، بے کس و مجبور ہونے کا بہانہ کریں اور اس کے دل میں رحم کی رمق پیدا کرنے کیلئے اسکے سامنے گھگیانا شروع کر دیں۔ اسے عزت و احترام والے القاب سے نوازیں اور کہیں کہ ’’ڈیئر پولیس آفیسر! میں واقعی شرمندہ ہوں، آئندہ میں جب تک ہیلمٹ نہیں پہن لوں گا، گھر سے باہر قدم نہیں رکھوں گا۔ پلیز آپ مہربانی فرمائیں، مجھے اس مرتبہ معاف کر دیں۔ وہ جواب دے گا کہ میں تو معاف کر دوں گا مگر قانون معاف نہیں کرے گا ناں۔آپ کو جرمانہ تو بھرنا ہوگا۔چلیں ، آپ کیلئے میں اتنا کر دیتا ہوں کہ چالان 500روپے کر دیتا ہوں۔ آپ اس کے التفات کواپنی کامیاب اداکاری کا نتیجہ سمجھتے ہوئے مزید گھگیانے کی کوشش کریں اور اسے یقین دلائیں کہ آپ کے اور ایک بھکاری کے معاشی حالات میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ آپ کے پاس موٹر سائیکل ہے جبکہ بھکاری پاپیادہ ہوتا ہے۔ اب وہ ’’سرکاری چالان‘‘ کی مالیت 200روپے تک گرا دے گا ۔ آپ اسے 200روپے دیں گے تووہ جیب میں رکھ لے گا اور کہے گا ’’جائیے‘‘۔ آپ کہیں گے کہ جناب رسید تو دے دیں۔ وہ جواباً کہے گا کہ میں نے یہ چالان صبح 10بجے بینک میں جمع کروانا ہے ، اس لئے رسید نہیں دی،اگر آپ خود جمع کرانا چاہتے ہیں تو رسید دے دیتا ہوں۔ یہ سوچ کر آپ کہیں گے کہ ’’چھوڑو جی! جان بچی سو لاکھوںپائے۔‘‘ہم نے ’’بے ہیلمٹی سواری‘‘کی اور ہمارے ساتھ من و عن وہی ہوا جو استادِ کہنہ نے فرمایا تھا۔ ہمارے دل نے گواہی دی کہ واقعی ’’حکومت ہے ناں‘‘۔ ہم ’’بلا رسید چالان‘‘ ادا کر کے جیسے ہی موٹرسائیکل پر سوار ہوئے ، سامنے روڈ پر ایک موٹر سائیکل والے کا اگلا ٹائر ’’بے ڈھکنی گٹر‘‘ میں دھنس گیا اور اس کا ’’ہیلمٹی سوار‘‘ اُچٹ کر دور جا گرا۔ اس کی ٹانگ کی ہڈی 2جگہ سے ٹوٹ گئی۔ ہم نے پولیس والے سے کہا کہ اس حادثے پر چالان کس کے خلاف کاٹا جائے ، پولیس والے نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہاکہ اس کا چالان دگنے جرمانے کے ساتھ عوام کے خلاف کاٹنا چاہئے جو قانون کی خلاف ورزی پر خود کو تو سزا کا مستحق سمجھتے ہیں مگرقانون پر عملدرآمد نہ کئے جانے پر حکومت کوکسی’’ سزا، چالان یا جرمانے ‘‘کا مستحق قرار نہیں دیتے۔ہم نے گزشتہ دہائیوں میں کراچی میں رہ کریہی سیکھا اور دوسروں کو سکھایا کہ ہمیں نہ صرف اپنے مال کی حفاظت خود کرنی ہے بلکہ اپنی ’’جان‘‘ کو بھی ہم نے ہی دشمنوں سے بچانا ہے ۔اُس دور میں ہم کراچی میں رہتے ہوئے ’’آوارہ‘‘ گولی سے اپنی جان کو بچانے کی کوشش کرتے رہے،بھتہ خوروں سے جیب کو بچانے کی تگ و دومیں جُتے رہے ، ’’قتلِ ہدف  و بے ہدف‘‘ سے اپنی جان کو محفوظ رکھنے کی چالیں چلتے رہے ،سڑک پر تیز رفتاری کی مسابقت میں شریک بسوں اور ویگنوں تلے کچلے جانے سے اپنے آپ کو بچاتے رہے۔عروس البلاد میں آئے روزجا بجا بوریاں ملا کرتی تھیں جن کی تعداد خوف ناک انتہائوں کو پہنچ چکی تھی۔ کسی بھی ’’جان‘‘ کے حصے بخرے کر کے اسے اس بوری میں ٹھونس دیاجاتا تھا اور اخبار میں ایک سطری خبر لگا دی جاتی تھی کہ کراچی کے فلاں علاقے سے ’’اک بندے کی بوری بندلاش برآمد‘‘۔ایسے میں ہم ر وزانہ ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو ہماری’’ بوری‘‘ بھی تیار ہو چکی ہو ۔دو روز قبل ایسا ہوا کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ ’’تبدیلی آ چکی ہے ‘‘ کیونکہ وہی کراچی جہاں گھر سے نکلتے وقت دہلتا تھا مَن، اب وہیں پر بپا کی گئی تھی میرا تھن، جس میں دوڑے جا رہے تھے مرد و زن،وہاں نہ کوئی بوری دکھائی دی ، نہ 9ایم ایم کی گن،الحمد للہ، آج پھر وہی ماضی والا عروس البلاد ہے یعنی’’شہروں کی دلہن۔‘‘ 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں