علیم خان کی گرفتاری ،’’بیلنس‘‘ کیلئے قربانی

***سید شکیل احمد***
یوں تو خبر ،خبر ہی ہو تی ہے جیسا کہ سابق وزیر اعلیٰ بوچستان کے لئے ڈگری ڈگری ہوتی ہے، چاہے وہ اصلی ہو یا نقلی ، مگر خبر کے معاملے میں اصل کو ہی دخل ہے ، کیونکہ خبر وہی ہو تی ہے جو اصل ہو ورنہ وہ فتنہ ہی ہے ۔ حال ہی میں کئی اہم ترین خبریں سامنے آئیں ، ان میں سے اہل پا کستان کے لئے تین خبریں افغانستان کے بارے میںما سکو میں منعقدہ افغان کا نفرنس کا اعلامیہ ، پنجا ب کے وزیر علیم خان کی گرفتاری اور نو از شریف کا اسپتال سے جیل منتقل ہو نے پر اصرار اہمیت کی حامل ہیں۔ عمو ما ًپاکستان میں تاریخ کا تجر بہ یہ کہتا ہے کہ سیا سی لیڈر جیل جا نے سے گھبراتے ہیں چنانچہ ڈھیل یا ڈیل کر لیتے ہیں۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں ہیں مگر سو فی صد ایسا نہیں ۔ پاکستان کے سیا ست دانو ں نے صبر کے ساتھ جبر کی قید بھی جھیلی ہے ، اس معاملے میں آصف زردای کی مثال موجو د ہے جنہو ں نے تقریبا ًسات سا ل کا ل کوٹھری میں گزار دئیے تاہم ایک مسلم لیگی رہنما ء خان عبدالقیوم خان بھی گزرے ہیںجو خود کو شیر سرحد کہلا تے تھے مگر انہو ں نے صدرایو ب خان کی جیل کے خوف سے معافی مانگ لی تھی جس پر انقلا بی شاعر حبیب جا لب نے ان پر ایک نظم بھی کہی تھی ۔ نو از شریف کو جب باہر بھیجا گیا تو ان کو بھی خان عبدالقیوم خان کے کر دار سے تشبیہ دی گئی تھی مگر نو از شریف نے کوئی براہ راست ڈیل نہیں کی تھی۔ اس مر تبہ تو نو از شریف نے کمال ہی کر دکھا یا کہ وہ اپنی شریک حیا ت کو بستر مر گ پر آخری سانسیں لیتے چھو ڑ کر پاکستان آئے اور گرفتاری دی۔ ایسی مثال کسی سیا ست دان کے کر دار سے مبرا ہی ہے ۔
نو از شریف جیل کیو ں جا نا چاہتے ہیں ، یہ بات تو وہ خود بتا سکتے ہیں مگر تحریک انصاف کے لیڈر اور ان کے حامی بار با ر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ڈھیل اور ڈیل کی نو از شریف کی طر ف سے مساعی ہو رہی ہے جبکہ مسلم لیگ کے رہنما ء اس کی تردید کر رہے ہیں۔
ما ضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ سیا ست دان جیل جا تے ہی بیما ر پڑ جاتے اور اسپتال منتقل ہو جاتے تاکہ عقوبت خانے کی صعوبتو ں سے نجا ت رہے ، مگر نو از شریف کا اصرا کچھ الگ انداز کا ہے ، اگرچہ ان کے مخالفین نے ما ضی جیسا ہی تاثر دینے کی سعی کی ہے تاہم مر یم نواز اوردوسرے مسلم لیگی لیڈروںکی جانب سے ڈیل اور ڈھیل کی بار بار تردید ہورہی ہے جس سے اندازہ ہو تا کہ کوئی ڈھیل اور ڈیل کی کاوش نہیں کیونکہ مسلم لیگ اس نقطے پر ہے کہ نو از شیریف کی سیا ست کا عروج اس امر میںہے کہ وہ کوئی ڈھیل یا ڈیل نہ کر یں جبکہ ارباب حل وعقد اس کا وش میں ہیں کہ بیما ری کے بہا نے اگر کوئی ڈھیل یا ڈیل کی با ت ہو جا تی ہے تو یہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ خاص طورپر نو از شریف خاند ان کے لئے سیا سی خود کشی کا موجب ہو گی ۔
  اس ڈھیل اور ڈیل کے چکر کے بارے میں جو آگاہی ہو ئی وہ یہ ہے کہ نو از شریف سیا ست میں بقاء چاہتے ہیں اور پا مر د رہنا چاہتے ہیں چنا نچہ ان کے ڈاکٹروں کے مطا بق ان کو جو اس وقت بیما ری ہے اس کے بارے میں مختصراًاورغیر طبی زبان میںیہ کہا جا تا ہے کہ ان کے دل کی بائیں جا نب کی شریانوں میں سوزش پید ا ہو گئی ہے جس سے خون کی روانی میں رکا وٹ آرہی ہے اورخون جسم کوپوری طرح آکسیجن فراہم نہیں کر رہا ہے ۔نو از شریف اور ان کے خاندان کا موقف ہے کہ اس بیما ری کا علا ج پاکستان میں ممکن ہے اس لیے نو از شریف کا ملک سے باہر جا کر علا ج کرا نا ضروری نہیں۔ نو از شریف اسی بنیا د پر کہہ رہے ہیں کہ اس کے لئے اسپتال میں بھی رہنے کی ضرورت نہیںچنانچہ ا نہیں اسپتا ل سے جیل منتقل کر دیا جا ئے اور ڈاکٹرنسخہ تجو یز کر دیں ۔جب کی ڈیل اور ڈھیل کی بات کرنے والے چاہتے ہیں کہ نو از شریف بیرون ملک علا ج کو ترجیح دیں تاکہ سیا سی نمبر اسکو رنگ ہو سکے ۔
دوسری اہم خبر تحریک انصاف کے لیڈر اور سنییئر صوبائی وزیر علیم خان کی پانا مہ کے چکر میں گرفتاری ہے ۔ علیم خان کی گرفتاری کے حوالے سے نیب نے اپنے اعلامئے میں کہا ہے کہ سینیئر صوبائی وزیر کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم نے پارک ویو کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کے سیکریٹری اور رکن صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اس کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک آمدنی سے زیادہ اثاثے بنائے۔
علیم خان کی گرفتاری پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ جو یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ کرپٹ ، چور صرف مسلم لیگ ن اورپی پی میں ہیں، علیم خان کی گرفتاری سے ثابت ہو گیا کہ چور تحریک انصاف میں بھی مو جو دہیں ۔ قومی احتساب بیورو ’’نیب‘‘ کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے بعد حکمراں جماعت کے بعض دیگر رہنمائوں پر بھی خطرے کی تلوار لٹک گئی ہے۔ ان میں پرویز خٹک اور عاطف خان شامل ہیں۔اگر نیب غیر جا نبداری کا مظاہر ہ کررہی ہے تو پھر تو پرویز الٰہی بھی خطر ے کی زد میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی علیم خان کی اچانک گرفتاری کے مختلف پس پردہ محرکات بیان کئے جارہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری کا مقصد احتساب کو غیر جانبدار ثابت کرنا اور نون لیگی رہنمائوں کی گرفتاریوں کو بیلنس کرنا ہے جبکہ اس گرفتاری سے مزید بڑی گرفتاریوں کی راہ ہموار کی گئی ہے لہٰذا آنے والے دنوں میں آصف زرداری سمیت چند بڑے ناموں کے خلاف بھی نیب کی جانب سے ا سی نوعیت کاایکشن متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق بیلنس کئے بغیر آصف زرداری جیسے بڑے نام پر ہاتھ ڈالنے سے بالخصوص سندھ میں احتجاج اور سندھ کارڈ کھیلے جانے کا خدشہ تھا۔ ذرائع اور تجزیہ نگارو ںکا دعویٰ ہے کہ علیم خان کی گرفتاری سے ہونے والی شروعات نہ صرف آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، بلکہ حمزہ شہباز کی گرفتاری تک پہنچیں گی۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت اس گرفتاری پر خوش نہیں لیکن ’’مجبور‘‘ پی ٹی آئی قیادت کے پاس اس فیصلے کو تسلیم کئے جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ احتساب میں بیلنس لانے کے لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے علیم خان کی قربانی دینی پڑی جبکہ صورت حال جا ننے والے یہ بھی بتارہے ہیں کہ علیم خان پنجا ب کی وزارت اعلیٰ کے ان تین امید واروں میں سے ایک تھے جن کو یہ منصب نہیں ملا اور وہ عثما ن بز دار کے لئے رکا وٹ کا باعث بھی تھے چنا نچہ ان کی گرفتاری سے یہ تنبیہ ان عناصر کو بھی ہوگئی ہے جو تحریک میں باغی کا کر دار ادا کر رہے تھے اور یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ پنجا ب کی وزارت کسی ایرے غیرے کو نہیں سونپی جا ئے گی ،جو فیصلہ ہو گیا ہے وہ اٹل ہے ۔
 

شیئر: