فش پلیٹ، ایک حقیقہ

شہزاد اعظم
ہمارے وطن میں ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کیلئے مختلف ذرائع موجود ہیں۔ طیارے سے آپ دو ڈھائی گھنٹے میں پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرسکتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔ جیب بھاری ہو تو طیارہ، جیب ہلکی ہو تو ریل گاڑی اور جیب نہ ہوت کا شکار ہو توبس کے ذریعے ”SUFFER“کرنا پڑتا ہے۔اگر جیبی صورتحال اس سے بھی گئی گزری ہو تو”نصف ملاقات“یعنی خط پر ہی اکتفا کرکے انسان خوش ہو جاتا ہے۔
یہ ان دنوں کا ”حقیقہ“ہے جب ناپسندیدہ عناصر ریلوے لائن کی فش پلیٹس تک اکھاڑ رہے تھے۔ہمیں سوا دو روز کیلئے کراچی سے لاہور جانا تھا۔ جیبی کیفیات درمیانی نوعیت کی تھیں۔ طیارے پر سوار ی کی سکت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ ریل گاڑی کی "ٹھنڈی" بوگی میں سفر کی اہلیت بھی نہیں تھی چنانچہ موسم کی خنکی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم نے ٹرین کے ذریعے کراچی سے لاہور اور واپسی دونوں کا ٹکٹ خرید لیا۔ ہمیں مشورہ دیاگیا تھا کہ موسم سرد ہے اسلئے ٹرین کے دروازے اور کھڑکیاں بند رہیں گی اس طرح دھول اندر نہیں آئے گی اور آپ ایسی حالت میں لاہو رپہنچنے کے قابل ہونگے کہ بلاغسل گھر والوں کو منہ دکھا سکیں ۔ 
حقیقت تو یہی ہے کہ جب آپ اکانومی کلاس میں سفر کرنے کے بعد کراچی سے لاہو رپہنچتے ہیں تو آپ کے استقبال کیلئے آنے والے آپ کو پہچان نہیں سکتے اسلئے ہمارے ساتھ عموماً یہی ہوتا رہا ہے کہ جب ہم کراچی سے تھرڈ کلاس کی بوگی میں سوار ہوکر لاہور اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہیں تو اپنے گھر والوں کو سامنے پاکر انہیں نام لے کر مخاطب کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم ہی ان کے چہیتے ہیں جو کراچی سے لاہور آئے ہیں کیونکہ اکانومی کلاس کی بوگی میں موسم گرما میں سفر کے دوران تمام کھڑکیاں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اس طرح راستے کی گرد ناک ، منہ اور بالوںپر ایسا میک اپ کرتی ہے کہ مسافر کو اپنوں کی نظر میںبے گانہ بنا دیتی ہے اور وہ اسے پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں۔ 
ہم نے 1600 روپے کے قریب ادائیگی کرکے ایک تیز رفتار ٹرین کا ریٹرن ٹکٹ منگوایا اور اپنے اس سفر کی اطلاع اعزہ و احباب کو دیدی مگر فوراً ہی ہمیں احساس ہو گیا کہ ہم نے اپنے سفری روز نامچے سے احباب کو مطلع کرکے انجانی اور غیر متوقع صورتحال پیدا کر ڈالی ہے۔ ہر نصف گھنٹے بعد گھنٹی بجتی اور کوئی نہ کوئی دوست یا عزیز رشتہ دار اپنے اہل و عیال سمیت آدھمکتا۔ مہمان خواتین خلاف معمول بہت ہی سادہ لباس پہنے اور نہایت ہلکا میک اپ کئے ہوتی تھیں۔ یہ لوگ اس طرح ملاقات کرتے کہ گویا ہم سے آخری مرتبہ مل رہے ہیں۔ ایک زیرک بزرگ نے ہماری شجاعت کی داد دی اور کہا کہ ہم سب کی دعا ہے کہ آپ ٹرین سے واپسی کا ٹکٹ استعمال کرنے کے قابل بھی ہو سکیںاس کے باوجود انہوں نے کہا کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ ٹرین پر سوار ہونے سے قبل لوگوں سے کہا سنا معاف کرالیں۔
رات کو ہم سوئے تو علی الصباح بیگم نے آکر جگایا۔ وہ زاروقطار رو رہی تھیں۔ ہم نے خوفزدہ لہجے میںسبب دریافت کیا تو بولیں میں نے ڈراﺅنا خواب دیکھا ہے۔ ہم نے انہیں دلاسا دیا۔ انہوں نے اپنا موقف واضح کرنے اور مدعا سمجھانے کیلئے کہا کہ یقین کیجئے، بیوہ کی زندگی بالکل بے رنگ اور گمبھیر مسائل کا شکار ہوتی ہے۔ ہم نے بھانپ لیا اور کہا کہ موت کا ایک وقت معین ہے ،فکر نہ کیجئے۔ ہم موبائل فون پر رابطہ رکھیں گے۔ بالآخر ہم لاہور جانے کیلئے ٹرین پر سوار ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق کراچی میں ہمیں الوداع کہنے والوں اور لاہور میں ہمارے استقبال کا انتظار کرنے والوں نے 18 گھنٹے دعاﺅں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہم نے اپنے آرام دہ سفر کیلئے استراحی نشست یعنی برتھ محفوظ کرائی تھی مگر انجام یہ ہوا کہ جب تک ٹرین کا پہیہ گھومتا رہا ہماری نیند اڑی رہی۔ ہم نے زیادہ تر وقت گناہوں کو یاد کرکے معافی مانگنے میں گزارا۔ جب ٹرین کھڑی ہوتی تو ہم ذرا آنکھ موند لیتے۔ ایک اسٹیشن پر ٹرین ٹھہری ہوئی تھی کہ کھڑکی سے کسی ہاکرنے آواز لگائی،” کھانے مزیدار کھانے“(ہم محو خواب تھے) ایک صاحب نے پوچھا کھانے میں کیا ہے۔ اس نے جواب دیا بریانی، نان چھولے، پکوڑے اور مچھلی (اس وقت بھی ہم محو خواب تھے) صاحب نے پوچھا بریانی کس طرح ہے اس نے کہا کہ بریانی پلیٹ 25 روپے کی ۔ اس وقت بھی ہم محو خواب ہی رہے۔ صاحب نے پوچھا کہ مچھلی کس طرح ہے اس نے کہا کہ ایک فیش پلیٹ۔۔۔۔ جیسے ہی فش پلیٹ کی اصطلاح ہماری سماعت سے ٹکرائی، نیند میں بھونچال آگیا ۔ ہاکر نے فش پلیٹ کے بعد بھی بہت کچھ کہا تھا مگر ہمارے کان فش پلیٹ کے بعد کچھ نہ سن سکے کیونکہ سر سے لے کر پاﺅں تک ہمارے جسم کے ریشے ریشے میں ہڑبڑاہٹ اور کپکپاہٹ کی مخلوط کیفیات سرابھار چکی تھیں۔ ہم نے اسی حالت میں دروازے تک پہنچنے کی کوشش کرنے کے بجائے قریب ترین کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی کیونکہ خدشہ تھا کہ دروازے تک پہنچنے میں دیر ہوجائے گی۔ کھڑکی سے کودنے کے بعد احساس ہوا کہ گاڑی کھڑی ہے چنانچہ ہماری سانسیں بتدریج بحال ہونا شروع ہوگئیں۔ اس وقت ہمیں وہ زیرک بزرگ بہت یاد آئے جنہوں نے ہماری شجاعت پر ہمیں داد دی تھی۔ ساتھ ہی یہ عقدہ بھی کھلا کہ بڑے ہمیشہ سچ نہیں کہتے۔ ان سے بھی فاش غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں۔ درحقیقت بہادر یا شجیع تو ٹرین کے ڈرائیور اور گارڈ یا کنڈکٹر وغیرہ ہیں جو تمام تر خدشات اور امکانات کے باوجود ٹرینوں میں روزانہ سفر کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔
بہرحال وقت گزرتا گیا ہماری ٹرین رائے ونڈ کے بعد والٹن پہنچ چکی تھی ۔ٹرین سے ہم نے پہلے تو کراچی فون کیا تاکہ الوداع کہنے والوں کو اپنے لاہور پہنچنے کا مژدہ جانفزاءسنا سکیں۔ بیگم نے فون اٹھایا، ہم نے کہا بس لاہور آنے ہی والا ہے چند کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اب بے فکر ہوجائیں مگر بیگم نے کسی خوشی کا اظہار کرنے سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ فکر کیسے نہ کروں، ٹرین چل رہی ہے اور اس کے پہئیے پٹریوں پر دوڑ رہے ہیں انہی پٹریوں میں فش پلیٹس ہوتی ہیں، بیگم کی زبان سے فش پلیٹس کا نام سنتے ہی غیرارادی طور پر نجانے ہم سے موبائل فون کا کونسا بٹن دب گیا کہ رابطہ منقطع ہوگیا۔ ہم نے اپنے اوسان مجتمع کرکے لاہور میں اپنے استقبال کے منتظرین سے فون پر بات کی۔ ہم نے کہا کہ کوٹ لکھپت گزر گیا۔ دھرم پورہ کا پل گزر رہا ہے۔ بس ،ٹرین لاہور پہنچے والی ہے۔ جواب ملا ہم فون پر بات نہیں کرسکتے۔ مسلسل دعا کررہے ہیں جب تک لاہور کے پلیٹ فارم پر قدم نہیں رکھ دیتے ،” فش پلیٹ دہشتگردی “کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔
آخرکار ہم پونے 19 گھنٹے تک خوف و دہشت کے اسیر رہنے کے بعد لاہور پہنچ گئے۔ سوا دو روزہ قیام کے دوران لاہور میں ہمارے اپنوں، بہی خواہوں اور احباب نے زور دیا کہ ایک مرتبہ ٹرین سے سفر کر کے زندہ سلامت پہنچنے کا مطلب یہ نہیں کہ بار بار زندگی اور موت کا یہ کھیل کھیلا جائے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ ٹرین سے کراچی واپس جانے کے لئے خریدا جانیوالا ٹکٹ فوراً واپس کر دیا جائے۔ ہم حیران تھے کہ اپنوں کے علاوہ بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہمارے جیسے ”کھوٹے سکے“ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ ایک جانب ہمیں اپنے چاہنے والوں کی تعداد درجن بھر سے زیادہ ہونے پر جہاں خوشی اور انجانی سی مسرت کا احساس ہو رہا تھا وہیں ہمیں ایسے سیکڑوں بدخواہ بھی ملے جو اسی امر پر زور دے رہے تھے کہ آپ ٹرین کے ذریعے ہی واپس جائیں۔ وہ جو دلائل دے کر ہمیں قائل کرنے کی کوششیں کر رہے تھے ان میں یہ دلیل شامل تھی کہ آپ اگر ٹکٹ واپس کریں گے تو اس سے 50فیصد سے زائد رقم کاٹ لی جائے گی اور آپ کی محنت و مشقت سے کمائی جانیوالی رقم اکارت ہو جائے گی اس لئے بہتر یہی ہے کہ ٹکٹ واپس کرانے سے احتراز کیا جائے اور اسی ٹرین سے واپس جایا جائے۔
ہم مخمصے کا شکار رہے کہ کس کی سنیں اور کس کی مانیں۔ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ ہمارے اعزہ نے چندہ جمع کیا اورہمیں مژدہ یہ سنایا کہ انہوں نے ہمارے لئے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا انتظام کر لیا ہے۔ ہماری تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ہمارے اعزہ نے یہ دلیل بھی دی کہ اس طرح نہ صرف آپ کا سفر اطمینان سے کٹے گا بلکہ وہ 19یا20گھنٹے جو آپ ٹرین میں سفر کے دوران تنہا بیٹھ کر گزارتے، وہ بھی اب ہمارے ساتھ گزریں گے یوں انہوں نے ہمیں واپسی کاٹرین ٹکٹ منسوخ کروا کر طیارے سے روانہ کردیا۔واقعی یہ سفر انتہائی حسین اور مامون گزرا۔

شیئر: