نجی اداروں کو راحت

پیر 11فروری 2019ءکو سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ” عکاظ“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
  سعودی حکومت نجی اداروں کو ملک کی تعمیر و ترقی میں موثر شریک کے طور پر شامل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سعودی حکومت چاہتی ہے کہ افرادی قوت کے فروغ اور آئندہ مرحلے میں سعودی شہریوں کو ملازمت کے قابل بنانے کے عمل میں نجی ادارے موثر کردارادا کریں۔ یہ سعودی حکومت کی اولیں ترجیحات میں شامل ہے۔ 
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ترقیاتی اہداف اور شہریوں کو پیش کی جانے والی خدمات کا معیار بلند کرنے کے سلسلے میں نجی اداروں کے اہم کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سعودی ایوانہائے صنعت و تجارت کے سربراہوں ، وزارت تجارت و سرمایہ کاری کے اعلیٰ عہدیداروں اور ممتاز تاجروں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ صنعت و تجارت کے شعبے کو مضبوط بنانا ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ، مختلف سرگرمیوں کےلئے مناسب ماحول فراہم کرنا اشد ضروری ہے۔ مملکت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے پرکشش ماحول مہیا کرنا بھی ضروری ہے۔
اسی تناظر میں شاہ سلمان نے نجی اداروں کی حوصلہ افزائی کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس کے تحت انہوں نے سعودائزیشن کےلئے نطاقات پروگرام کی پابندی کرنے والے اداروں کو انکی جمع کردہ فیس واپس کرنے اور اس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس مد کیلئے 11.5ارب ریال مختص کئے گئے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس اقدام کی بدولت نجی اداروں کو اپنی قیادت کی آرزوئیں پوری کرنے کی تحریک ملے گی۔ نجی اداروں کو قومی آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں اہم کردارادا کرنا ہے۔ انہیں سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانا، نئی ملازمتیں پیدا کرنا اور قومی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ یہ سب کچھ سعودی وژن کا اٹوٹ حصہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: