العلاءاچھوتے پن کا مینارہ

پیر 11فروری 2019ءکو سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ”الریاض“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
  ثقافتی ورثہ بنی نوع انساں کا لازوال خزانہ ہے۔ قومی ورثہ اقوام و ممالک کی تمدنی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہ جغرافیہ کو تاریخ اور تاریخ کو جغرافیہ سے جوڑتا ہے۔ شعور و وجدان میں اسکا رتبہ بیحد بلند ہے۔ اس سے خود اعتمادی کا احساس ملتا ہے۔ ثقافتی اور تمدنی ورثہ فخر و ناز کی تحریک دیتا ہے۔
العلا ءکو جدید خطوط پر استوار کرنے کی شروعات جب سے ہوئی ہے تب سے وہ اپنے یہاں آنے والوں کو روشنی فراہم کرنے والا مینارہ بنا ہوا ہے۔ العلاءاپنے قدیم شہریوں کے تمدن ، تاریخ او رعظمت کا شان بنا ہوا ہے۔ یہاں حسن ، انسانی عظمت اور حیرانگی کے ملے جلے جذبات از خود اجاگر ہوتے ہیں۔
العلاءکمشنری میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ماضی میں بھی آتے رہے ہیں۔ مہم جوئی ، انجانی دنیا کی دریافت اور زمان و مکان کے تمدن سے مطلع ہونے کا جذبہ یہاں سیکڑوں لوگوں کو مختلف اوقات میں لاتارہا ہے۔ جب سے بین الاقوامی کمپنیوں کے تعاون سے العلاءکو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تب سے یہاں علوم و معارف کے فروغ، ثقافتی ورثے کی تقویت و تحفظ کے نئے روشندان کھلے ہیں۔ دائمی سیاحت کے نئے راستے سامنے آئے ہیں۔العلاءدنیا بھر کے انسانوں کی نظروں میں آگیا ہے۔ العلا ءسے یہ دلچسپی اس کے تاریخی ورثے اور غیر معمولی قدرو قیمت کا حامل ہونے کا پتہ دے رہا ہے۔ العلاءمستقبل قریب میں سعودی عرب کیلئے منافع بخش اقتصادی وسیلہ ثابت ہوگا۔ دنیا بھر سے سیاحتی وفود یہاں آئیں گے ۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن اس کی بدولت پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: