اصغر خان کیس: ملوث فوجی افسران کیخلاف انکوائری مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد:  عدالت عظمیٰ نے اصغر خان کیس میں فوج کے ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتوں میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ اسلام آباد میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران عدالت نے 4 ہفتے کے اندر پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف انکوائری مکمل کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا اور پھر جائزہ لیں گے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔دوران سماعت جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع نے کورٹ ماشل کے لیے کارروائی کیوں شروع نہیں کی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد معاملہ آگے چلے گا۔  فراڈ ہو یا قومی خزانے کو نقصان پہنچے تو کسی بھی وقت کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ 1990ء کی انتخابی مہم کے حوالے سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں میں پیسے تقسیم کیے گئے تھے۔ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنماؤں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے اور پیسے لینے والوں میں غلام مصطفی کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ نواز شریف کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ اس معاملے پر ائر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔
مزید پڑھیں:- - - -سعودی ولی عہد کی آمد سے قبل سیکورٹی ٹیم پاکستان میں

شیئر: