Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہانگ کانگ میں 3 روز

   مسلمان جس ملک یا شہر میں جاتے ہیں وہاں مسجد بنانے کا اہتمام کرتے ہیں، ہمارے پیارے رسولجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ازواجِ مطہرات کے حجرے بنانے سے پہلے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی
 
عبد المالک مجاہد۔ریاض

میں اگر رضی صاحب کے گھر اور ان کی دعوت کا ذکر نہ کروں، تو مجھے ملائیشیا کا سفر نامہ ادھورا لگے گا۔ ان کا گھر شہر کے پوش علاقے میں واقع ہے۔ بڑی خوبصورت عمارتوں کے جھرمٹ میں ان کا اپنا فلیٹ 40ویں فلور پر واقع ہے۔ سیکیورٹی کے زبردست انتظامات ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں ناں کہ فلاں جگہ پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، خود کار سسٹم کے تحت یہاں کے رہائشی بڑی لگژری لائف گزار رہے ہیں۔ سیکیورٹی کا بڑا عمدہ سسٹم ہے۔ پارکنگ لاٹ میں آپ گاڑی کھڑی کریں لفٹ تک جاتے ہوئے چند منٹ لگیں گے۔ کارڈ کی بدولت ہی آپ اپنے فلیٹ تک جا سکتے ہیں۔ ہر جگہ کارڈ آپ کے رہائشی ہونے کی تصدیق کرے گا۔ میں اس سے پہلے اونچی عمارتوں میں رہائش کا قائل نہیں تھا مگر ایک تو لفٹوں کا نظام بڑا شاندار ہے ،کوئی 20,15 سیکنڈ میں آپ نیچے سے اوپر اور اتنے ہی وقت میں اوپر سے نیچے آ سکتے ہیں۔ گھرکم و بیش ایک کنال کے رقبے پر ہے۔ کھلے کمرے، بڑا ڈرائنگ روم ، سب سے زیادہ جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ ان کے فلیٹ کی وسیع و عریض بالکونی ہے۔ یہاں سے شہر کا خاصا حصہ نظر آتاہے۔ بالکونی میں کھڑے ہو کر آپ دائیں بائیں دیکھیں تو روشنیاں ہی روشنیاں نظرآتی ہیں۔ بارش اکثر ہوتی ہے اس لئے بادل آپ کے قدموں کے نیچے سے گزرتے ہیں۔
     رضی صاحب کی اہلیہ نے ہمارے لیے گھر کا خصوصی کھانا بنایا تھا جو واقعی مزیدار تھا۔ ہم نے بالکونی میں بیٹھ کر چائے کے مزے لیے۔ ان کے بچوں کے ساتھ بیٹھے ،میں ان کیلئے کتابوں کا تحفہ لے کر گیا تھا۔ رضی صاحب کی فرمائش پر دارالسلام کی کامیابیوں کی کہانی بھی بچوں کو سنائی ۔ان کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔
     کوئی بھی کامیاب شخص جب محنت کرتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں اور ترقی کے سفر سے اپنے دوستوں اور پیاروں کو مطلع کرے۔ کچھ یہی معاملہ ہمارے دوست فرید احمد کا تھا۔ انہوں نے اسلامی کتب کی اشاعت کیلئے بلاشبہ بڑی محنت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجاہد صاحب! آپ ایک پورا دن مجھے دیں۔ میں آپ کو اپنے ادارے کے ہیڈ آفس اور برانچوں میں لے کر جاؤں گا چنانچہ میں نے دن کا بڑا حصہ ان کے ساتھ گزارا ۔علامہ اقبال رحمہ اللہ کا بڑا مشہور شعر ہے:
 محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
     برادرم فرید احمد بھی انہی کمند ڈالنے والے لوگوں میں سے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں کامیاب ادارہ چلانے کے بعد انہوں نے کوالالمپور میں رکن الدعوۃ کی کئی برانچیں بنا رکھی ہیں، انکے پاس20افراد کام کرتے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین ہیں ۔میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ملائیشیا ایسا ملک ہے جہاں عورتیں مردوں کے مقابلہ میں زیادہ کام کرتی ہیں۔ کسی بھی دفتر میں چلے جائیں آپکو بڑی تعداد میں عورتیں کام کرتی ملیں گی ۔اس ملک میںتنخواہیں معقول ہیںحتیٰ کے ہوٹل میں کام کرنیوالے بنگالی بھائیوں سے تنخواہ پوچھی تو 15سو سے ڈھائی ہزار رِنگٹ ہے۔
    ملائیشیا سے واپسی 21 نومبر 2018 کو ہانگ کانگ کے لیے تھی ۔فلائٹ کا وقت کم و بیش 4گھنٹے تھا۔ میرا بیٹا طلحہ جب سیٹ بک کررہا تھاتو کہنے لگا کہ اس کے لیے اچھی آفر ہے ۔قیمت میں بہت زیادہ فرق نہیں ۔میرا مشورہ ہے کہ آپ یہ سیٹ بزنس کلاس میں لے لیں، میں نے موافقت کر دی۔
     آج ہمارا کوالالمپور میں آخری دن تھا ۔صبح سویرے برادرم فرید احمد گاڑی لے کر ہوٹل پہنچ گئے۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے اور ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ کوالالمپور شہر سے ایئرپورٹ تک ایک گھنٹہ لگ ہی جاتا ہے۔فرید احمد سے باتیں کرتے تبادلہ خیال، خوبصورت مناظر میں وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور ہم بڑے ہی خوبصورت ایئرپورٹ کی حدود میں تھے۔ بزنس کلاس کا ٹکٹ ہونے کی وجہ سے بغیر کسی تاخیر کے بورڈنگ ہوگئی۔ کولالمپور کا وی آئی پی لاؤنج واقعی بہت خوبصورت ہے۔ انواع و اقسام کے کھانے اور ناشتہ کی اشیاء وافر مقدار میں میسر تھیں۔ لائونج کے اندر مرد و خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ ہم نے ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھیں۔کپ چینوپی گئی ،اتنے میں فلیٹ کا وقت ہو گیا۔ سفر خاصا آرام دے تھا۔ اگر آپ کے پاس ویزا اور دیگر ضروری کاغذات مکمل ہوں تو پھر آپ بڑے آرام اور چین سے سفر کرتے ہیں بلکہ سفر سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ کھانے کے معاملے میں میری کوشش ہوتی ہے کہ یا تووجیٹیرین فوڈ لینا یا پھر فش ہوجائے۔ سفر کے دوران گوشت کے معاملہ میں آپ مجھے قدامت پسند کہہ لیں۔ سفر میں اگر ہم میاں بیوی دونوں ہوں تو پھر دونوں کھانے کے مزے ایک ویجیٹیرین اور ایک فش لے لیتے ہیں۔ اس طرح دونوں قسم کے فوڈ انجوائے کرتے ہیں۔ میں ریاض سے چلا تھا تو خاصی تعداد میںکتب بھی لے کر آیا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں بے شمارسفر کیے ہیں۔ دوران سفر کتب پڑھتا ہوں۔ ماضی میں کئی کتابیں سفر کے دوران مرتب کیں۔ ہماری فلائٹ وقت سے پہلے ہی ہانگ کانگ کے خوبصورت ایئرپورٹ پر اتر گئی۔ میں کوئی 20,15 مرتبہ اس ایئرپورٹ کو استعمال کر چکا ہوں اس لئے اس کا کونا کونا میرے لیے جانا پہچانا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستانیوں کو ہانگ کانگ ایئرپورٹ پر ہی انٹری مل جاتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دوسرے ملکوں نے پاکستانی پاسپورٹ پر ویزا کو مشکل بنا دیا وہاں ہانگ کانگ کی حکومت بھی پیچھے نہ رہی ۔اس نے بھی ایئرپورٹ آمد پر ویزا دینا بند کردیا۔ ہانگ کانگ میں مسلمان آبادی کم و بیش 3لاکھ ہے۔ چھوٹے مگر امیر ملک میں مسلمان کاروباری لوگ 1841 سے آنا شروع ہوئے۔
     مسلمان جس ملک یا شہر میں جاتے ہیں وہاں مسجد بنانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے پیارے رسولجب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ازواجِ مطہرات کے حجرے بنانے سے پہلے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ مسجد کی تعمیر میں خود حصہ لیا۔ اس طرح قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ جس جگہ بھی آپ جائیں وہاں قیام کریں، وہاں پر مسجد بنانے کا اہتمام کریں۔ بلاشبہ مسجد بنانے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔
     قارئین کرام! اس سے زیادہ اجر کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا:
    ’’ جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا گھر بنائیں گے۔ ‘‘
    ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ مسجد خواہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو بلکہ اسے پرندے کے گھونسلے سے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ خواہ مسجد پرندے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو ،اللہ تعالیٰ اسکے بدلے میں جنت میں گھر بنائینگے چنانچہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں گئے انہوں نے مسجد بنانے کو اہمیت دی اور مسجد کی تعمیر کیلئے کوشش کی۔ ہانگ کانگ پر ایک عرصہ تک برٹش حکومت رہی۔ ہانگ کانگ میں مقیم مسلمانوں نے اسوقت کی حکومت کو مسجد کی تعمیر کیلئے درخواست دی چنانچہ 1850ء میں ہانگ کانگ کی سپریم کورٹ نے اجازت دید ی ۔یوں تو ہانگ کانگ میں متعدد جگہوں پر نماز باجماعت پڑھی جاتی ہے مگر باقاعدہ اور رجسٹرڈ مساجد5 ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی مسجد کولون کی جامع مسجدہے جہاں بیک وقت ساڑھے 3 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔
     ایک زمانے میں راقم کو مسجد میں کتنی ہی بار نماز کی ادا ئیگی اور افطاری کرنے کا موقع ملا۔ مسجد کے امام مفتی محمد ارشد ہیں۔ میرا ان سے تعارف کم و بیش 18سال سے چلا آ رہا ہے۔ بڑے سلجھے ہوئے،نہایت پڑھے لکھے بہترین خطیب اور مقرر ہیں۔ بڑی نپی تلی بات کرتے ہیں۔ انگلش زبان پر عبور ہے ۔پاکستان میں شجاع آ باد سے تعلق ہے۔ میں زندگی میں ایک بار ہی شجاع آباد گیا ہوں اور وہ بھی مفتی صاحب کی صاحبزادی کی شادی میں شرکت کرنے کیلئے۔ میری ان کے ساتھ اللہ واسطے دوستی ہے۔ بڑے مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک ہیں۔ بڑے مہمان نواز اورخلیق انسان ہیں۔ ایک مرتبہ فیملی سمیت ریاض میں ہمارے گھر بھی تشریف لائے تھے۔ مفتی ارشد صاحب نے متعدد بار مجھے ہانگ کانگ آنے کی دعوت دی۔ میں نے ایک مرتبہ ایسے ہی کہہ دیا کہ جناب! آپ کی حکومت تو ہم پاکستانیوں کو ویزا ہی نہیں دیتی۔ فرمانے لگے کہ آپ پاسپورٹ کی کاپی ای میل کردیںباقی میرا کام ،دیکھتے ہیں آپکو ویزا کیسے نہیں ملتا اور پھر واقعی انہوں نے ایک ،2مہینے کے بعد مجھے پیغام بھجوا دیا کہ آپ دونوں میاں بیوی کا ویزاتیار ہے۔ آپ جب چاہیں ویزہ ارسال کردو ں گا۔مجھے ویزا ملنے کی اطلاع ملی تو میں نے بھی سنجیدگی سے سفر کنفرم کر دیا۔
     مسجد کے امام برادرِ عزیز محمد علی کا تعلق کشمیر کے علاقہ باغ سے ہے۔ مدینہ یونیورسٹی میں کم و بیش 12سال پڑھتے رہے۔ انکی خوش قسمتی کے انھوں نے مدینہ یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ جس زمانے میں یہ مدینہ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے مجھے ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ گزشتہ ایک سال سے ہانگ کانگ میں مرکز توحیدمیں امامت اور خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ جب انہیں میرے ہانگ کانگ آنے کا علم ہوا تو انہوں نے رابطہ کیا۔ انکا اصرار تھا کہ میں ان کے ادارے کا ضرور وزٹ کروں اور نماز جمعہ بھی پڑھاؤں ۔ادھر محترم شیخ مفتی محمد ارشد نے بھی مجھے کولون مسجد میں خطبہ جمعہ کی دعوت دے رکھی تھی۔ ہانگ کانگ میں تھوڑا عرصہ پہلے ہی اہلحدیث ساتھیوں نے مرکز قائم کیا ہے۔ کافی مشوروں اور بحث کے بعد میرا فیصلہ تھا کہ میں ان شاء اللہ مرکز توحید والسنۃ میں 23 نومبر 2018 کو جمعہ پڑھاؤنگا۔ 21نومبر کی شام کو میں جب ہانگ کانگ کے ائیر پورٹ پر اترا تو مفتی محمد ارشد اور امام محمد علی صاحب کی قیاد ت میں کافی ساتھی ائیرپورٹ پر مجھے خوش آمدید کہنے کیلئے موجود تھے۔ ہر چند کہ میں نے ساتھیوں سے متعدد بار کہا تھا کہ ایک ساتھی گاڑی لے کر آئے۔ ہانگ کانگ میں بطور خاص ہر شخص شدید مصروف ہے۔ میں کسی کو تکلیف دینا نہیں چاہتا مگر یہ احباب کی محبت تھی ،وہ مجھے یکے بعد دیگرے ایئرپورٹ پر گلے لگا رہے تھے۔ ساتھیوں نے میرا سامان گاڑی میں رکھا۔ ہم دونوں میاں بیوی مفتی ارشد صاحب کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ہمارارخ مسجد کولون کی طرف تھا ۔میرا ہوٹل مسجد کے قریب تھا۔ میرے بیٹے عبدالغفارخاصی جدوجہد اور محنت سے میرے لئے قدرے سستا اور اچھا ہوٹل بک کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ہانگ کانگ دنیا کے سب سے مہنگے ملکوں میں سے ایک ہے ۔یہاں ہوٹل خاصے مہنگے ہیں۔ میرا ہوٹل غالباً تھری ا سٹار تھا، کمرہ چھوٹا تھا اور کم و بیش ایک ہزار ریال روزانہ کرایہ تھا مگر اس کی ایک خوبی تھی کہ یہ کولون کی جامع مسجد کے قریب تھا۔ہم جیسے لوگ جو گزشتہ پورا ہفتہ کولالمپور کے فائیوا سٹار ہوٹل کے ایک کمرے میں گزار کر آئے تھے۔ اب یہ کمرہ ہمیں چھوٹا لگ رہا تھا۔ سامان رکھنے کے بعد بمشکل ایک شخص نماز پڑھ سکتا تھا۔
    ہانگ کانگ میںکافی عرصہ سے میرے ایک عزیز برادرم عزیر مقیم ہیں۔ وہ بوجوہ ایئرپورٹ پر تشریف نہ لاسکے مگر انہوں نے ہمارے لیے پھولوں کا گلدستہ بھجوایا۔میں نے ہوٹل میں سامان رکھا۔ ذرا آرام کیا اور پھرہمارا رخ کولون کی جامع مسجد کی طرف تھا جہاں انہوں نے ہمارے عشائیہ کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ مفتی صاحب کی اہلیہ نے میری اہلیہ کو گلے لگا لیا۔ بڑی محبت اور اپنائیت کا اظہار کیا مفتی صاحب کی چھوٹی سی پیاری سی بیٹی نے ہمیں پھول پیش کیے۔ مفتی صاحب کے بیٹے اسامہ اپنے گھر سے انواع و اقسام کے کھانے لائے ہوئے تھے۔ مسجد کے وسیع مہمان خانہ میں ٹیبل سجا دی گئی جہاں کھانے کے ساتھ ہانگ کانگ کے مسلمانوں کے حالات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی۔
     کولون مسجد کے بارے میں آج سے مدت پہلے میں نے ایک داستان سنی تھی کہ جس جگہ یہ مسجد ہے ،وہاں باغ کے ایک کونے میں انگریز کی فوج میں بعض مسلمان یا اردلی یاانگریز کے ملازم نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مٹی کا تھڑا بنایا ہوا تھا۔ ایک انگریز کمانڈر کا ہانگ کانگ میں دورانیہ مکمل ہوا تو لوگوں نے اس کے اعزاز میں پارٹیاں دینی شروع کیں۔ یہ معمولی بات ہے کہ جب بھی کوئی افسر اپنا دورانیہ مکمل کرتا ہے تو اس کے اعزاز میں الوداعی پارٹیاں دی جاتی ہیں۔ مسلمان ملازم اردلی یا معمولی نوکری پیشہ تھے۔ انہوں نے بھی کمانڈر صاحب سے درخواست کی کہ ہم بھی آپ کی دعوت کرنا چاہتے ہیں، آپ ہماری بھی دعوت قبول کریں۔ دعوت قبول کر لی گئی۔ مسلمان ملازمین نے اپنی توفیق کے مطابق کمانڈر کو الوداعی پارٹی دی۔ یقینا تقاریر ہوئی ہو ں گی، کمانڈر صاحب خوش ہو گئے۔ انہوں نے اپنی جوابی تقریر میں جہاں مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا وہاں ان سے پوچھا کہ اگر آپ کی کوئی خواہش ہو تو میں پوری کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اب قربان جائیں اور اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں ان مسلمانوں پر جنہوں نے دنیا نہیں دین مانگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسجد بنانے کی اجازت دی جائے۔اس گورے نے اپنی بات کی لاج رکھی اور جس جگہ وہ نماز ادا کرتے تھے انہیں وہاں پر مسجد بنانے کی اجازت دے دی۔
     یہ واقعہ میں نے آج سے15 سال پہلے سنا تھا۔ اسکے حوالے کوئی دعویٰ نہیں کروں گا۔ میرے لئے یہ باعث اطمینان ہے کہ کولون کی مسجد بلاشبہ بڑی خوبصورت اور وسیع ہے۔ اسکے متعدد حال اور منزلیں ہیں۔ یہاں ہر مسلک کے لوگ نماز کی ادائیگی کیلئے آتے ہیں۔ مسجد کا ٹرسٹ ہے جس کے ممبران بڑے شوق اور محبت سے مسجد کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ مسجد میں نکاح رجسٹر ہوتے ہیں۔ بچوں کو قرآن پاک پڑھایا جاتا ہے۔ قرآنی حلقے قائم ہیں۔ یہاں پر مختلف زبانوں میں اسلامی لٹریچر تقسیم کئے جاتے ہیں۔ نو مسلم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ غیر مسلم کو کلمہ پڑھا کر مسلمان بھی کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کے مہینہ میں اس مسجد کی رونقین دیکھنے والی ہیں ۔رمضان کے مہینہ میں یہاں کم و بیش2 ہزار افراد ہر روز افطاری کرتے ہیں ۔آج سے 15سال پہلے جب میں کثرت سے چین جایا کرتا تھا تو رمضان المبارک کے مہینہ میں دانستہ ہانگ کانگ میں قیام کرتاتھا۔ 2ہزار لوگوں کو افطار کرتے دیکھ کر مجھے دلی سکون ملتا ۔ یکجہتی کا مظاہرہ دیکھنے کیلئے میرے جیسے متعدد لوگ آتے ہونگے۔ یہ افطاری مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے ہر روز مفت کروائی جاتی ہے۔ میں افطاری میں پیش کئے جانیوالے سوپ کی لذت کو آج تک نہیں بھولا۔ میں لوگوں کو ایک صف میں بیٹھ کر ایک ہی قسم کی افطاری کو دیکھ کر بڑا خوش ہوتا اور مجھے سرور ملتا۔ اس معاملے میں مفتی ارشد صاحب کی محبتیں اور مہمان نوازی کو میں کبھی نہیں بھولونگا۔ مجھے مسلمانوں کو اکٹھا دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے ۔
     برادرم ابرار عباسی جمعرات کو 10بجے امام محمد علی سمیت اپنی خوبصورت گاڑی لیکر میرے ہوٹل پہنچ گئے۔ آج کا دن ہانگ کانگ کی سیر و تفریح کیلئے مختص تھا۔ شہر میں بلند و بالا عمارتیں ہیں۔ چونکہ رہائش کیلئے جگہ کم ہے اسلئے یہ شہر لمبائی چوڑائی میں پھیلنے کی بجائے آسمان کی طرف بلند ہو رہا ہے۔ سب سے اونچی عمارت انٹرنیشنل کامرس بلڈنگ 108منزلہ ہے۔ دنیا میں بلڈنگ کے اعتبار سے اسکا نواں نمبر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس شہر میں9 ہزار سے زائد اونچی بلڈنگیں ہیں۔ یہ وہ بلڈنگیں ہیں جن کو آپ سر اٹھا کر دیکھیں تو آپکی ٹوپی نیچے گر سکتی ہے۔    ہانگ کانگ میں سیاحوں کی دلچسپی کیلئے بہت ساری جگہیں ہیں۔ برادرم عباسی صاحب بڑی مہارت سے اپنی گاڑی کو شہر کے رش سے نکال کر پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے ۔وہاں سے ہانگ کانگ کا نظارہ قابل دید ہے۔ نیچے سمندر، شہر کی بلند عمارتیں ،موسم ٹھنڈا تھا۔ اسی دوران ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ مجھے اُس شاپنگ سینٹر کا نام یاد نہیں تاہم یہاں پر مونو ریل کی پٹری بھی نظر آئی۔ یہاں بیٹھ کر کپ چینو کا مزہ لیا۔ میرے شدید اصرار کے باوجود ابرار عباسی نے مجھے بل نہ دینے دیا۔ انہوں نے حقِ ضیافت ادا کر دیا۔ ہم نے وضو کیا اور سڑک کے کنارے مناسب جگہ پر نماز پڑھنے کیلئے رک گئے۔ مسلمان کیلئے سب سے اہم چیز نماز ہے۔ اسے حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی نماز کا وقت آئے کسی صاف جگہ دیکھ کر نماز ادا کرلیں۔ اگر نماز بروقت ادا کر لی تو مسلمان کو سکون مل جاتا ہے۔ ابرار بھائی اپنی گاڑی سے جائے نماز نکال لائے سامنے خوبصورت سبزہ ،اونچا پہاڑ ہم نے اذان دی اور ساتھیوں نے مجھے جماعت کیلئے آگے کھڑا کردیا ۔اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک ایسی جگہ پر سجدے ادا کرنے کی توفیق دی جہاں بہت کم لوگوں نے سرجھکائے ہوں گے۔نماز ادا ہوجائے تو ایسا سمجھ لیں بہت بڑا فریضہ ادا ہو گیا۔ اگر خدانخواستہ نماز لیٹ ہو جائے تو بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)
مزید پڑھیں: - - - -مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات

شیئر: