گوادر میں آئل ریفائنری پر چین کو اعتراض نہیں، ہارون شریف

اسلام آباد۔۔۔۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 10 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا امکان ہے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہارون شریف نے بتایا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان 3 بڑی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے جائیں گے ۔ان کی مالیت 10ارب ڈالر سے زائد ہو گی۔انہوں نے کہا کہ آئل ریفائننگ، ایل این جی اورمعدنی ترقی کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ سعودی ولی عہد کے ہمراہ 40 سعودی کاروباری شخصیات بھی پاکستان آئیں گی۔یہ وفد مقامی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا۔ نجی سطح پر بھی کچھ معاہدے متوقع ہیں۔ ہارون شریف نے کہا کہ سعودی عرب گوادر میں 8ارب ڈالر کی لاگت سے ریفائنری تعمیر کرے گا جو غیرملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساحلی شہر کے مقامی افراد کو نوکریوں کے مواقع بھی فراہم کرے گی۔ اگر سعودی عرب آئل ریفائنری کے ساتھ پیٹروکیمیکل کمپلیکس بھی تعمیر کرتا ہے تو اس کے لئے الگ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی ۔ سعودی حکومت گوادر میں آئل ریفائنری لگانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے پر زور دیا گیا ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر پر چین کو کوئی اعتراض نہیں۔ حقیقتا سعودی عرب کو جہاں آئل ریفائنری بنانی ہے اس کا تعین فزیبلیٹی اسٹڈی کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ مقام پاک چین اقتصادی راہدری (سی پیک) منصوبے سے بہت دور ہے۔
 

شیئر: