Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اس نے صدق دل سے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا

کچھ نہیں بیٹا !! انہوں نے دلاسہ دیا، اللہ تعالیٰ سب کچھ ٹھیک کردیں گے، تم فکر مت کرو، ایسے لوگوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے
مسز زاہدہ قمر ۔ جدہ
پھر اب کیا ہوگا امی؟ انیلا بیحد مایوس اور دل گرفتہ تھی۔ 
کچھ نہیں بیٹا !! انہوں نے دلاسہ دیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ ٹھیک کردیں گے۔ تم فکر مت کرو۔ ایسے لوگوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ انہوں نے صدق دل سے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا۔ لہذا وہ پرسکون ہوگئی تھیں اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کررہی تھیں۔ 
جاﺅ بھئی !! اب جاکر اچھی سی چائے بناﺅ اور ساتھ میں گرما گرم پکوڑے بھی۔ اپنے ابو کو بھی یہاں بلا لاﺅ۔ سب ساتھ مل کر کھائیں گے۔انہوں نے ماحول بدلنے کی غرض سے کہا تو بچیاں بھی ریلیکس ہوگئیں۔
ٹھیک ہے امی !! میں ابو کو بلاتی ہوں اور سنو !! انیلا تم بیسن بناﺅ پھر پکوڑے بناتے ہیں۔ آج آلو بخارے کی چٹنی بھی بنائیں گے۔ راحیلہ نے فوراً پروگرام ترتیب دیدیا اور پھر یہ سب کی سب فوراً ہی لاﺅنج سے نکل گئیں۔ عالم آراءنے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا اور خبریں دیکھنے لگیں۔
انکا ذہن بڑی تیزی سے تانے بانے بن رہا تھا۔ کافی دن سے وہ ایک بات مسلسل سوچ رہی تھیں مگر ذہن یکسو نہیں ہورہا تھا۔ آج نازو کے گھر سے آکر انکا ذہن آئینے کی طرح صاف تھا اور وہ ایک اہم فیصلہ کرچکی تھیں۔ اب اس فیصلے سے یوسف صاحب کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔ یوسف صاحب لاﺅنج میں آئے۔ وہ پہلے سے بہت بہتر لگ رہے تھے۔ عالم آراءنے انہیں بڑی محبت اور ادب کے ساتھ سلام کیا۔ جس کا جواب یوسف صاحب نے بڑی خوشدلی سے دیا ۔
اور جناب!! آج کہاں گئی تھیں چپکے سے؟؟
انہوں نے بڑے چونچال موڈ میں عالم آرا سے دریافت کیا۔
بس !! گئی تھی کہیں، اور جہاں بھی گئی تھی وہاںسے ایک فیصلہ کرکے لوٹی ہوں۔ اب آپ کی اجازت اور مشورہ درکار ہے کہ آپ متفق ہیں یا نہیں؟؟ انہوں نے یوسف صاحب کا تجسس بھڑکا دیا۔
ہاں ہاں !! بولو! کیا بات ہے؟؟ کیسا مشورہ چاہئے؟ میں ہر وقت تیار ہوں تمہارا ساتھ دینے کیلئے انہو ںنے متجسس ہوکر پوچھا تو جواب میں عالم آرا نے اپنا خیال پوری تفصیل کیساتھ ان کے سامنے رکھ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت دیر سے نرمین کا انتظار کررہا تھا۔ آج ہی نرمین نے صبح کے وقت اسے کال کرکے یونیورسٹی کے قریب چھوٹے سے ایک نئے ریستوران میں بلایا تھا۔ اسے نرمین نے بلایا ہے؟؟؟ یہ احساس ہی اسے دنیا بھلا دینے کیلئے کافی تھا۔
وہ دل لگا کر تیار ہوا۔ پھر بھی اسے اپنی تیاری ناکافی لگ رہی تھی۔ آفس میں تھوڑا سا کام نمٹا کر وہ بارہ ، ساڑھے بارہ بجے کے قریب ریستوران تک پہنچ گیا۔ سردیوں کی دوپہر تھی۔ نرم تمازت اور خنک ہوا نے اسے پریوں کے دیس میں پہنچا دیا۔ اس کی نظروں میں بے تحاشا گلاب کھلے ہوئے تھے۔ معطر فضاﺅں میں محو خرام تھا۔
”اف!! یہ ساڑھے بارہ کب بجیں گے؟؟ اس نے گیارہویں بار ریسٹ واچ پر نظر ڈالی
وقت گزر ہی نہیں رہا تھا۔...... وہ گاڑی پارکنگ ایریا میں کھڑی کرکے اندر ہی بیٹھا تھا۔ اسے نرمین کے بغیر اندر جانا اچھا نہیں لگا۔ تھوڑی دور ہی سہی ، وہ اس کے ہم قدم تو ہوگی۔ ...... اور اب اسے اسی ساتھ کا انتظار تھا۔
مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کا منتظر ہونا
مگر وہ خوبصورت ہے، اسے تاخیر کا حق ہے۔
اور پھر جیسے وقت تھم گیا اور ہر سمت قوس و قزح بکھر گئی۔ سامنے وہ دشمن جاں آرہی تھی۔
صارف نے گاڑی سے اتر کر اس کا استقبال کیا۔ وہ رکشہ میں آئی تھی۔ صارف نے اس کے منع کرنے کے باوجود رکشہ والے کو بل دیا او رپھر اسے لیکر ریستوران میں آگیا۔وہ نسبتاً ایک الگ تھلگ گوشے میں بیٹھ گئے۔
ہاں اب بتاﺅ!! کیا لو گی؟؟ صارف نے اسے کرسی پیش کی اور اس کے بیٹھنے کے بعد اس کے سامنے کی کرسی سنبھال لی۔
کچھ نہیں!! وہ مضطرب تھی.... بہت الجھا الجھا انداز تھا۔ 
کچھ نہیں؟؟ صارف نے حیرت سے ناک چڑھائی ۔
یہ کیا بات ہوئی؟؟ بھئی کچھ نہ کچھ تو تم کو لینا پڑیگا۔ میں نے سنا ہے یہاں کے سینڈوچ بہت اچھے ہیں، وہی منگوا لیتے ہیں۔ ٹھیک!! 
وہ پوچھنے کے انداز میں اطلاع دے رہا تھا۔
ٹھیک ہے، اس نے فوراً ہی حامی بھر لی۔ 
ویٹر کو آرڈر دینے کے بعد وہ پھر سے اس کی جانب متوجہ ہوا جو کہ بیحد مضطرب اور پریشان نظرآرہی تھی۔
ہاں اب بتاﺅ نرمین!!! مجھے اتنے شارٹ نوٹس پر کیو ں بلایا؟؟؟ وہ اصل وجہ پوچھ رہا تھا۔
بات یہ ہے کہ میں آجکل اپنے گھر میں ہونے والی اس نئی بات سے بہت پریشان ہوں سمجھ میں نہیں آرہا کہ کس نے ہمارے بزرگوں کے ذہن میں یہ بات ڈالدی؟؟ وہ بہت جھجھک رہی تھی۔ صارف حیران ہوگیا۔
کونسی بات؟؟ کیسی بات؟؟ ذرا کھل کر بتاﺅ!!
اس نے حیرت سے کئی سوالات پوچھ ڈالے
ہیں؟؟ آپ کو نہیں معلوم؟؟ آج کل ہمارے گھر والے کیا بات ڈسکس کررہے ہیں؟ نرمین اس سے بھی زیادہ حیران تھی۔
نرمین!! بخدا مجھے نہیں معلوم، دراصل آج فیکٹری میں کام بہت ہے لہذا مجھے کسی بات کا ہوش نہیں۔ میں اکیلا ہی سب کچھ سنبھال رہا ہوں ۔ ابو بیمار ہیں۔ چچا جان پر اب ہم اعتبار نہیں کرسکتے اور شارق ابھی چھوٹا ہے۔ تمہیں تو اندازہ ہوگا کہ میں کتنی مشکل سے سب کچھ مینیج کرتا ہوں۔ وہ بڑی اپنائیت سے نرمی سے اپنی پرابلم شیئر کررہا تھا۔
نرمین کے احساسات عجیب سے ہوگئے۔ 
اتنی بات کہہ کر وہ سوالیہ انداز میں نرمین کو دیکھ رہا تھا۔ وہ مزید بلش کرنے لگی
دراصل! بات یہ ہے کہ آج کل ....گھر میں.... دونوں گھرانوں میں ..... ہماری شادی کی بات ہورہی ہے ۔ ..... نرمین نے سر جھکا کر بہت اٹک اٹک کر اسے بتایا۔
ہیں!! اگر نرمین اس کے سامنے ہی فضا میں اڑ جاتی تو اسے اتنا تعجب نہ ہوتا جتنا اس وقت ہوا تھا۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: