عورت سے رقابت، ناقابل فہم نسوانی رویہ

حسد کی آگ میں جلتا نسوانی وجود اپنی ہی صنف کو جلا ڈالتا ہے ،زبانوں سے اگلتا زہر خود ان کے لئے ہی مسائل کھڑے کر دیتا ہے،ایسی خواتین خود بے سکون رہتی ہیں 
تسنیم امجد۔ریاض
کوہساروں کے پر وقار سکوت سے لے کر سمندری لہروں کے شوخ طلاطم تک، صحراﺅں کی بے سرو سامانی اوردریاﺅں کی روانی جیسے متضاد جذ بوں کواپنے وجود میں سموئے امتدادِ زمانہ کا سامنا کرتی صنف نازک ما ضی ،حال اور مستقبل کے پر پیچ اور طویل رہ گزر پر عزم و حوصلے کے ساتھ رواں دواں ہے۔یہ نسلِ انسانی کی نہ صرف پرورش اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے بلکہ وقت پڑنے پراپنے فطری کردار کے دائرے سے با ہر نکل کر فتح و نصرت کا علم بلند کرنے کے حو صلے سے ما لا ما ل ہے۔ان سب خصو صیات کی حامل اس ہستی کے لئے عالمی پیمانے پرمنائے جانے والے ایک دن پر ہم اس سے سوال کرنا چاہتے ہیں کہ عورت ہی عورت کی حریف کیوں ہے؟آ ئیے آج ہم اس ناقابل فہم نسوانی رویے کی شنا خت کریں۔
کتاب ما ضی کی ورق گردانی کرتے ہوئے ہمارے سامنے ایسے ایسے حقائق آجاتے ہیں جنہیںدوسروں تک پہنچا کر انہیں آ گہی دینے کادل چاہتا ہے ۔ان میں بعض تو خوش کن ہوتے ہیں اور بعض سے طبیعت رنجیدہ ہو جاتی ہے ۔
عذرا ہماری بہت ا چھی دوست ہے۔اس سے ملاقات پانچ برس بعد کراچی کے سفاری پارک میں ہوئی۔ اس کے ساتھ اسکی بیٹی ریم بھی تھی۔عذ راکی صحت خا صی گری ہوئی تھی ۔ وہ اداس لگ رہی تھی ۔کہنے لگی کہ اس کے شو ہر کی پوسٹنگ ایک بار پھر کراچی ہوگئی ہے۔ وہ اپنی کمپنی کے ایچ آر کے عہدے پر پروموشن پر آئے ہیں ۔دو سال کے لئے ہم ان کے ہمراہ جر منی چلے گئے تھے ۔ان کو ٹریننگ کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ہم نے ریم کے بارے میں پو چھا کہ یہ آ جکل تمہارے پاس آ ئی ہوئی ہے کیونکہ اس کی شادی کا کارڈ تومو صول ہوا تھا لیکن ہم آ نہیں سکے تھے۔ان دنوںہمارے امتحان چل رہے تھے ،ہم نے معذرت کرتے ہوئے کہا ۔عذرا نے آنکھیں چراتے ہوئے ہمیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے کر اجازت چاہی ۔
ہم نے اگلے ہی ہفتے ملاقات کی تو عذرا کی اداسی اور صحت کی خرابی کی وجہ جان گئے ۔کہنے لگیں اچھا ہی ہوا ،ریم گھر پر نہیں ہے ۔ذرا کھل کے بات ہو جائے گی ورنہ اس کے سامنے اس کے بارے میں کوئی بات کی جائے تو وہ بہت محسوس کرتی ہے ۔اس کے کارڈ تو تقسیم ہوئے تھے لیکن شادی نہ ہو سکی ۔ان کی بات نے ہمیں چو نکا دیا کیونکہ ریم لاکھوں میں ایک تھی ۔لڑکے نے اسے یونیورسٹی کے انگریزی مباحثے میں دیکھا تھا ۔وہ اپنے دوست کے اصرار پر شر کت کرنے گیا تھا ۔ریم پسند آئی اور پھر اس کی ٹوہ میں کامیاب بھی ہو گیا ۔والدین کو بھیجنے اور رشتہ طے کرنے کے تمام مرا حل بھی جھٹ پٹ طے ہو گئے ۔ہم نے بھی ساری معلومات حا صل کیں تو اطمینان ہوا کہ گھرانہ بھی معزز ہے اور لڑکا بھی کمپیوٹر سائنس انجینیئرہے ۔نہایت مہذب اور شریف ۔اس کے بعد انہوں نے جو سنایا وہ نہایت افسوس ناک تھا ۔کہنے لگیں :
تمہیں شاید یاد ہو کہ مسز بلال ہماری ہمسائی تھیں جو کچھ ہی عرصے کے بعد اپنے ذاتی گھر میں شفٹ ہو گئی تھیں ۔اترا کر کہتی تھیں کہ ہم کمپنی کے کمپاﺅنڈ میں نہیں رہ رہے کیونکہ ہمارا بنگلہ تیار ہو گیا ہے ۔پھر وہ بنگلے کی تعریفوں کے پل با ندھتیں ۔ہم نے کہا کہ وہ بھولنے والی شخصیت نہیں تھیں ۔شیخی تو ان کی بات بات میں تھی۔ان کی تین بیٹیاں تھیں ۔انہیں ان کے رشتوں کی فکر لگی رہتی تھی ۔وہ بچیاں خوش شکل بھی تھیں لیکن شاید ان کے مزاج ماں پر ہی گئے تھے اس لئے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کوئی رشتے کی بات کرنے سے ڈرتا تھا ۔ہاں تو بد قسمتی سے وہ لڑکے والوں سے جان پہچان رکھتی تھی ۔اسے جب علم ہوا کہ ان کے بیٹے کا رشتہ ہو گیا ہے اور کہاں ہوا ہے تو اس نے حسد کی آ گ میںریم کی کردار کشی کی اور بتایا کہ جو جیسا دکھائی دیتا ہے، ویسا نہیں ہوتا ۔میری بیٹیوں کی اس سے بہت دو ستی تھی ۔اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر میں نے اپنی بیٹیوں کو اس کے گھر جانے سے روک دیا ۔اس کی بد زبانی سے تو سبھی تنگ تھے ۔یہ لوگ اس کی شادی جلد سے جلد اسی لئے کرنا چاہتے ہیں کہ اس بلا کو جلد رخصت کر کے بد نامی سے بچیں ۔
یہ سب باتیں سن کر لڑ کے والوں کو اس لئے بھی یقین آ گیا کیونکہ وہ ریم کی ہمسائی رہ چکی تھیں ۔بد ظن ہو کر انہوں نے رشتے سے انکار کر دیا ۔یہ بھی نہیں سوچا کہ کچھ اور ا حباب سے بھی پو چھ لیں ۔ہم جس اذیت سے گزرے اس کا اندازہ تم لگا سکتی ہو ۔ریم کو تو جیسے چپ لگ گئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی شادی کا سو چنا ہی چھوڑ دیں۔اب اس نے انگریزی کی لیکچرر کی حیثیت سے کالج جوائن کر لیا ہے ۔ہو سکتا ہے وقت کے ساتھ بدل جائے۔ ہم اس پر زوربھی نہیں دیتے لیکن اندر ہی اندر اس غم نے مجھے کھو کھلا کر دیا ہے ۔
یہ سب سن کر بہت دکھ ہوا ۔ریم جیسی سلجھی ہو ئی لڑ کی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔عذرا کو دکھی دیکھ کر مسز بلال پر افسوس ہوا ۔انہیں کیا ملاکسی کی خو شیاں چھین کر ۔ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ حسد کی آگ انہیں اس حد تک گرا سکتی تھی ۔ہم بظاہر جدت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، بنگلوں کے مکیں ہیں،تعلیم یا فتہ بھی ہو چکے ہیںلیکن فطرت کو نہیں بدل سکے ۔خوا تین کی اکثریت حسد و رقابت میں مبتلا ہو کر دو سروں کی زندگی اجیرن کرنے میںایڑی چو ٹی کا زور لگا دیتی ہے ۔آخرکیوں ؟اس سوال کی گھنٹیاں ہمارے دماغ کو ما ﺅ ف کرنے لگیں ۔
خواتین زبان کی لغز شو ں سے مضبوط سے مضبوط رشتوں کا شیرازہ بکھیر دیتی ہیں۔حسد کی آ گ میں ان کا اپنا وجود بھی جل کر خاک ہو جاتا ہے ۔اپنی ہی صنف کے در پے رہنا کہا ں کی شرافت ہے جبکہ اس کے حوالے سے ہمارے دین نے ہمیں آگاہ فرما دیا ہے کہ حاسدمسلمان نہیں ہو سکتا ۔ مسلمان کو حسد سے بھی بچنا چاہئے کیونکہ یہ نیکیوں کو اس طر ح کھا جاتا ہے جس طر ح آ گ لکڑی کو کھا تی ہے ۔حسد کی آگ میں جلتا نسوانی وجود اپنی ہی صنف کو جلا ڈالتا ہے ۔زبانوں سے اگلتا زہر کبھی نہ کبھی خود ان کے اپنے لئے ہی مسائل کھڑے کر دیتا ہے ۔ایسی خواتین خود بے سکون رہتی ہیں ۔تناﺅ انہیں پریشان کئے رکھتا ہے ۔وہ ا حساسِ محرومی کی آگ میں جلتی رہتی ہیں ۔در اصل یہ قدرت کی تقسیم سے ہی ا ختلاف رکھتی ہیں ۔ہمارے معاشرے میں سفلی یا کالا علم کرنے والے خوب پیسہ بٹور رہے ہیں ۔کاروبار میں نقصان، مالی بد حالی ،شادی اور اولاد میں بندش کرنے والے جھو ٹے سچے ہتھکنڈوں سے انہی خواتین کی بدولت اپنا کاروبار چمکائے ہوئے ہیں ۔کاش اس حقیقت کا اعتراف کر لیا جائے کہ اس طرز عمل کے باعث وہ خود خسارے میں ہیں ۔ایسے لوگ جلد یا بدیر پہچانے جاتے ہیں اور لوگ ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔بزرگوں کا کہنا ہے کہ حسد کرنے والے نفرت کی آگ میں جلتے ضرور ہیں لیکن جب بھی ہارتے ہیں ،محبت سے ہارتے ہیں۔“
کاش ہم بر تری کے غلاف کو اتار پھینکیں۔کبھی کبھی یہ بھی ہمیں نفرت و حسد کے قریب لے جا تا ہے ۔یہ منفی جذ بہ ہماری اپنی خوشیوں کا قاتل بن جاتا ہے ۔آئے روز ایسے جرائم کی خبروں سے میڈیا آ گاہ کرتا رہتا ہے جن کے پیچھے حسد و رقابت ہی ہوتا ہے۔ کاش ہم یہ جان جائیں کہ دوسروں کی خو شیاں چھین کر اپنی جھولیاں کبھی نہیں بھری جا سکتیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

شیئر: