رجب کی دعا

    رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا میں رسول اکرمﷺ سے منسوب ایک دعا بہت زیادہ پھیلائی جاتی ہے، وہ دعا اس طرح ہے:
    اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان۔
    ’’اے اللہ !ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان کو پانے کی توفیق عطا کر۔‘‘
    سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعا درست اور رسول اکرمﷺ سے ثابت ہے؟
    زبان زد عام اس دعاکوعبد اللہ بن احمد نے زوائد المسند میں اوربزار نے اپنی مسند میں اس دعا پر مشتمل حدیث کو نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حدیث کشف الاستار اور طبرانی اوسط میں بھی نقل کی گئی ہے۔     یہ حدیث بطریق زائدہ بن ابی الرقاد سے زیاد النمیری حضرت انسؓ سے مروی ہے۔
    زائد ہ بن ابی الرقادکو علم حدیث کے اکثر ماہرین نے ضعیف جبکہ امام المحدثین حضرت امام بخاریؒ نے حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے۔امام نسائیؒ نے اس راوی کو ’’کتاب الضعفاء‘‘ میں شامل کرکے لکھا ہے کہ یہ حدیثیں گھڑنے والا ہے۔امام ابوداؤد نے کہا ہے کہ میں زائدہ بن الرقاد کو نہیں جانتا۔ امام ابن حبانؒ نے لکھا ہے کہ یہ مشہور راویوں سے حدیث گھڑنے والاہے ۔ اس سے مروی حدیثیں نہ لکھی جائیں ۔ حافظ ابن رجب ؒ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
    اس حدیث کے دوسرے راوی زیاد النمیری کو علامہ ابن معین نے ضعیف کہا ہے، علامہ ابوحاتم کا کہنا ہے کہ یہ راوی قابل اعتبار نہیں جبکہ علامہ ابن حبان ؒ نے اسے اپنی کتاب’’الضعفاء ‘‘ میں شامل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ قابل اعتبار نہیں۔
    اس دعا پر مشتمل حدیث کو امام نوویؒ نے اپنی کتاب ’’الاذکار‘ ‘ میں نقل کرنے کے بعد اسے ضعیف بھی لکھاہے۔علامہ ابن رجبؒنے بھی ’’لطائف المعارف‘‘ میں اسے ضعیف کہا ہے جبکہ علامہ البانی ؒ نے اس حدیث کو اپنی کتاب’’ضعیف الجامع‘‘ میں نقل کرتے ہوئے اسے انتہائی ضعیف کہا ہے۔
    اس روای کی وجہ سے اکثر معتبر محدثین نے اس حدیث کوانتہائی ضعیف قرار دیاہے تاہم علمائے کرام کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کو پانے کی مطلق دعا صحابہ کرام ؓ سے ثابت ہے کہ وہ رمضان المبارک کی آمد سے 6ماہ قبل اسے پانے کی دعا کیا کرتے تھے ۔
 
مزید پڑھیں:- - -  -اغیار کے تہوار اور مسلمانوں کی روش

شیئر: