ماہ رجب المرجب میں مروجہ بدعات

کسی خاص زمانے میں متعین عبادت نہیں کی جا سکتی جب تک شرعی دلیل موجود نہ ہو البتہ اگر کوئی شخص رجب کی خاص فضیلت کا اعتقاد رکھے بغیر عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں
 
قاری محمد اقبال عبد العزیز۔ فیصل آباد

سنت نبوی کی روشن شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اورجنت کا راستہ ہے جبکہ دین میں بدعات کا اجراء ضلالت اور جہنم کا راستہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:’’ میں تمہیں سیدھی روشن شاہراہ پر چھوڑ کر جارہا ہوں ،اس کی رات بھی دن کی روشن اور واضح ہے،میرے بعد کوئی ہلاکت اور تباہی چاہنے والا ہی اس راہ سے ہٹے گا۔‘‘( مسند احمد)۔
     مطلب یہ کہ سنت کی راہ جنت اوررضائے الہٰی کی راہ ہے مگر بدعت کی راہ اختیار کرنیوالے کیلئے جہنم اور تباہی مقدر ہے۔                         
    اسلام کے صاف ستھرے اور پاکیزہ دین کو اسی دین کے نام لیواؤں نے مختلف بدعات کے اجراء کے ذریعے چیستاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ ویسے تو کوئی بھی مہینہ بدعات وخرافات سے خالی نہیں رہنے دیا گیا مگر رجب وہ مظلوم مہینہ ہے جسے کثرت رسوم و بدعات سے: ظُلُمَاتُ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ-النور40( اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پے درپے ہیں) کا مظہر بنا دیا گیا ہے۔
    رجب کے لغوی معنی’’ عزت واحترام ‘‘کے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں اس مہینے کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا تھااس لیے اس ماہ کو رجب کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ صحیح احادیث میں رجب کو 4 حرمت والے مہینوں میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔ بقیہ3 مہینے لگا تار ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں۔ حدیث سے اس کی حرمت تو ثابت ہوتی ہے مگر اس کے علاوہ اس کی کوئی خاص فضیلت یااس مہینہ میں کسی خاص عبادت کے افضل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ 
    رجبی عمرہ:
    بعض لوگ بطور خاص اس مہینے میں عمرہ کرنے کو بہت اجرو ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ اس عمل پر کوئی دلیل کتاب وسنت اور عمل صحابہ میں نہیں پائی جاتی۔اس کے بجائے آپ ﷺ نے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کو حج کے برابر ثواب والاعمل قرار دیا ہے۔ اسی طرح حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی بھی خاص فضیلت وارد ہے۔ یہ مہینے شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں ۔صحیحین میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول مروی ہے کہ’’رسول اللہ ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔‘‘(البخاری و مسلم)۔
 کسی خاص زمانے میں متعین عبادت نہیں کی جا سکتی جب تک اس پر شرعی دلیل موجود نہ ہوہاں البتہ اگر کوئی شخص رجب کی خاص فضیلت کا اعتقاد رکھے بغیر رجب میں مکہ مکرمہ چلا جائے اور عمرہ کرے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔
    صلاۃ الرغائب:
     سب سے پہلے ہم اُس بدعت کا ذکر کریں گے جو رسو ل اللہ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے سے قریبا ًپونے 500سال بعد دین میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ایک من گھڑت روایت کو بنیاد بنا کر اس بدعت کی عمارت کھڑی کی گئی۔اس موضوع روایت کے مطابق یہ ایک نماز ہے جس کا نام اس کے وضاعین نے ’’صلاۃ الر غائب‘‘ رکھا۔ یہ نماز ماہ رجب المرجب کی پہلی جمعرات کا روزہ رکھنے کے بعد جمعہ کی شب مغرب اور عشاء کی نمازوں کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔اس نماز کی 12رکعتیں ہوتی ہیں۔ ہر 2 رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد 3 مرتبہ سورۃ القدر اور 12مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی جاتی ہے۔نماز کے اختتام پر 70 مرتبہ یہ درود شریف  اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَآلِہِ  پڑھا جاتا ہے۔ پھر2 سجدے کیے جاتے ہیں۔ ہر سجدے میں70 مرتبہ ’’سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوحِ‘‘ پڑھا جاتا ہے۔سجدے کے بعد یہ دعا ’’رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمْ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الأَعْظَمُ‘‘70 مرتبہ پڑھی جاتی ہے، پھر دوسرے سجدے میںبھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نماز پڑھنے والا اپنی جو بھی حاجت بیان کرے گا اس کی وہ حاجت پوری ہو جائیگی۔ اس خود ساختہ نماز کی ایسی ایسی مبالغہ آمیز فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ جن سے یہ نماز خود بخود باطل اور بدعت ثابت ہو جاتی ہے۔مثلاً یہ کہ اس نماز کی ادائیگی پر اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیںچاہے وہ سمندر کی جھاگ اور درختوں کے پتوں کے برابر ہوں۔ وہ روز قیامت اپنے خاندان کے 70 افراد کی سفارش کر سکے گا۔اس نماز کا ثواب جب قبر میں آئیگا تو صاحب قبر اس سے کہے گا: تم کون ہو؟ اللہ کی قسم!میں نے تم سے زیادہ حسین، خوش گفتار اور خوشبو دار جسم نہیں دیکھا۔یہ کہے گا: میں تمہاری اس نماز کا ثواب ہوں جو تم نے رجب کی فلاں رات میں پڑھی تھی۔ آج میں تمہارا حق لوں گا، قبر میں تمہاری تنہائی دور کروں گا، تمہاری وحشت کو دور کروں گا، روز قیامت میں تمہارے سر پر سایہ فگن رہوں گااور تم کبھی خیر سے محروم نہیں رہو گے۔پھر وہ خوشخبری سنائیگا کہ آج تو میری وجہ سے عذاب قبر سے بچ گیا ہے۔ علامہ ابن الجوزی نے اس نماز والی روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے۔سب سے پہلے یہ نماز سن 480ہجری میںبیت المقدس میں ادا کی گئی۔ 
    احباب گرامی قدر! اندازہ فرمائیں کہ جو عبادت عہد نبوی میں نہ رسول اللہ ﷺ نے اداکی، نہ صحابہ کرامؓ نے کی ، نہتابعین کرام نے نہ تبع تابعین نے یہ عبادت کی ۔ وہ چیز جو پونے 500برس تک دین کا حصہ نہ تھی، اچانک اتنی مدت کے بعد وہ دین کا حصہ کیسے بن گئی؟!شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:صلاۃ الرغائب کی دین میں کوئی اصل نہیں بلکہ یہ ایک بعد میں ایجاد کردہ بدعت ہے۔یہ جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے نہ ہی انفرادی طور پر اس کی ادائیگی درست ہے، بلکہ صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جمعہ کی رات قیام کرنے کے لیے اور جمعہ کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے خاص کرنے سے منع فرمایا ہے۔اس نمازکی مشروعیت کے سلسلے میں جو اثر ذکر کیا گیا ہے اس کے جھوٹ اور من گھڑت ہونے پر علماء متفق ہیں۔ سلف اور ائمہ نے سرے سے اس کا ذکر ہی نہیں کیا (مجموع فتاویٰ)۔
    رجبی کونڈے:
    اس ماہ کی ایک اور نہایت مکروہ اور خطرناک بدعت رجبی کونڈوں کے نام سے مشہور ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بہت سے لوگ ماہ رجب کی 22تاریخ کو امام جعفر صادق رحمہ اللہ کے نام کے کونڈے بھرتے ہیں۔ اس بدعت کو ثابت کرنے کے لیے ایک جھوٹی کہانی گھڑی گئی۔ ہندوستان کے ایک شخص نے ’’داستانِ عجیب ‘‘نامی کتاب میںاس بدعت کا تذکرہ ’’نیاز نامہ امام جعفر صادق‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ لکھتا ہے:
     مدینہ طیبہ میں ایک غریب لکڑ ہارے کی بیوی وزیر کے محل میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ وزیر کے محل کے باہر اما م جعفر صادق اپنے ساتھیوں سے فرما رہے تھے: جو شخص ماہ رجب کی 22 تاریخ کو غسل کرکے صاف ستھرا ہو کر میرے نام کی پوریاں بنا کر کھیر 2کونڈوں میں بھر کر میرے نام پر فاتحہ کرے اور بارگا الٰہی میں اپنی مراد اور حاجت پیش کرے۔اگر اسکی حاجت پوری نہ ہو تو کل قیا مت کے دن میرا گریبان پکڑ لے۔لکڑہارے کی بیوی نے ایسا ہی کیا؛ چنانچہ اسکا شوہر بہت سارا مال لے کر لوٹا اور شاندار محل تعمیر کرکے اس میں رہنے لگا۔ وزیر کی بیوی نے کونڈوں کا انکار کیا تو اسکے شوہر کی وزارت چلی گئی پھرجب اس نے کونڈوں کی حقیقت کو تسلیم کرکے کونڈے بھر ے تو اسکی وزارت بحال ہو گئی۔اسکے بعد بادشاہ اور اس کی قوم کے لوگ ہر سال بڑے اہتمام سے کونڈے بھرنے لگے۔اس سارے قصے میں شرک اکبر پر مبنی اعمال کی طرف دعوت دی گئی ہے۔شریعت اسلامیہ میں اللہ کے سوا کسی نبی ولی جن یا فرشتے کے نام پر کوئی صدقہ و نیا ز دینا شرک اکبر ہے۔نیا ز دینا عبادت ہے اور عبادت کا حق اللہ کیلئے خاص ہے۔کسی دوسرے کو اس میں شریک کرنا بہت بڑاجرم ہے۔اس کہانی میں 22رجب کی تاریخ متعین کی گئی ہے جو امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی نہ تاریخ پیدائش ہے نہ تاریخ وفات ہے۔ نہ ہی انکی زندگی کے کسی اہم واقعے سے اسکا تعلق بنتا ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ قصے میں مدینہ کی جس بادشاہت کا ذکر ہے تاریخ میں اسکا کوئی ذ کر نہیں پایا جاتا۔ جناب جعفر صادق رحمہ اللہ کے دور حیات میں مسلمانوں کا دار الخلافہ یا تو دمشق تھا یا بغداد تھا۔ اصل میں اسکے پیچھے رافضیوںکی ایک گھنا ؤنی سازش کارفرما ہے ۔ بات در اصل یہ ہے کہ 22رجب سیدنا امیر معاویہ کی وفات کا دن ہے۔یہ لوگ انکی وفات کے دن خوشی منا تے ہیںاور اس دن میں کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیںمگر اپنے اس خبث باطن پر پردہ ڈالنے کیلئے لکڑہارے کی دا ستان تراشی گئی ہے۔کہا جاتا ہے کہ برصغیر میں سب سے پہلے یہ بدعت ریاست رامپور میں امیر مینائی لکھنوی کے خاندان میں شروع کی گئی ۔
جشن معراج:
    ماہ رجب کے حوالے سے ایک اور بدعت 27رجب کو جشن معراج کے نام سے جاری کی گئی ہے۔اس رات میں مختلف عبادتیں انجام دی جاتی ہیںجن کے بارے میں کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ستائیسویں کی رات کو قیام کرنا ، نمازشب معراج پڑھنا،محفلیں منعقد کرنا، واقعہ اسراء ومعراج پڑھنا کہ یہ رات ہی معراج کی رات ہے۔ بغیر کسی شرعی دلیل سے بعض ایام کو دیگر ایام پر فوقیت دینا یا انہیں افضل سمجھناایک غلط عقیدہ ہے۔اس رات کو جشن منانا اور اسے عبادتوں کیلئے مختص کرنا کئی ایک لحاظ سے غلط اور نامناسب ہے۔
    سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ 27رجب کو ہی شب معراج سمجھنا درست عمل نہیں،نہ اس کے دن مہینے اور سال کا درست تعین کیاجاسکا۔ تاریخ وسیرت کے علمائے کرام نے6 مختلف اقوال پر اختلاف کیا ہے اس لیے 27 کی شب ہی کو شب معراج سمجھنا ٹھیک نہیں(الرحیق المختوم)۔
    اگر اس رات کا ٹھیک ٹھیک پتہ چل بھی جائے تو بھی اس رات میں مخصوص عبادات انجام دینا ناجائز کام ہے جس کا نبی کریم ﷺ نے حکم دیا نہ اس پر عمل کیا۔نہ آپ ﷺ کے اصحاب کرام ؓسے یا خلفائے راشدین ؓسے یہ عمل ثابت ہے ۔ اس جشن کو مناتے وقت بہت سے غیر شرعی اور نامناسب امور انجام دئیے جاتے ہیں۔ اس میں بالعموم ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جوشرعی فرائض تک کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کرتے۔ بعض 5وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجدمیں تو جاتے نہیں، مگر اس قسم کی محفلوں میں بڑی سرگرمی اور اہتمام سے شریک ہوتے ہیں۔یہ بہت سی احادیث صحیحہ کا انکار بھی ہے جن میں دین میں بدعات داخل کرنے سے سختی سے منع کیاگیا ہے۔
    رجبی صیام وقیام:
    ما ہ رجب کی مروجہ بدعات میں سے ایک یہ ہے کہ خصوصیت کے ساتھ اس مہینہ میں قیام وصیام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس مہینے کی پہلی، دوسری، تیسری اور ساتویں تاریخ کا روزہ اور کبھی پورے مہینے کا روزہ رکھا جاتا ہے۔ ان روزوںکوسنت ثابت کرنے  کے لیے کچھ ایسی احادیث کا سہارا لیا جاتا ہے جو ضعیف ہیں یا من گھڑت ہیں۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس مسئلے پر یوں رقمطراز ہیں:
’’رجب اور شعبان کے مہینوں کو ایک ساتھ روزے یا اعتکاف کے لیے مخصوص کرنے کے متعلق نبی اکرم ﷺ، صحابہ کرامؓ ، یا ائمہ مسلمین سے کوئی چیز وارد نہیںبلکہ صحیح بخاری ومسلم میں یہ بات ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ماہ شعبان میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔ آپ ﷺ پورے سال میں ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں نفلی روزے نہیں رکھتے تھے البتہ جہاں تک رجب کے روزے کی بات ہے تو اسکے بارے میں ساری احادیث ضعیف بلکہ موضوع ہیں۔ اہل علم ان میں سے کسی کو لائق اعتماد اور قابل عمل نہیں سمجھتے۔یہ احادیث ضعیف روایات کے اس گروہ میں سے نہیں جو فضائل کے سلسلے میں بیان کی جاتی ہیں بلکہ یہ گھڑی ہوئی حدیثیں ہیں۔‘‘(مجموع فتاویٰ ) ۔
    علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ماہ رجب کے روز ے کی فضیلت میں نبی کریم ﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں (لطائف المعارف)۔
علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ماہ رجب کی فضیلت یا اس کے روزے کی فضیلت یا اس کے کسی مخصوص دن کے روزے کی فضیلت ، یا اس کے کسی مخصوص رات میں قیام کرنے کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں جو قابل حجت ہو ۔مجھ سے پہلے امام اسماعیل الہروی نے بھی اسی بات کی صراحت فرمائی ہے (تبیین العجب بما رود فی فضل رجب) ۔
    علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ماہ رجب کے روزے کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کے طریق کار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :’’ آپ ﷺ نے مسلسل3 مہینوں:رجب ، شعبان اور رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھے جیسا کہ بعض لوگوں کا                    طریقہ ہے۔ نہ ہی آپﷺ نے رجب کا روزہ رکھا، نہ ہی اس کے روزے کو پسندفرمایاہے بلکہ آپ ﷺسے رجب کے روزے کی ممانعت کے سلسلے میں حدیث وارد ہے جسے ابن ماجہ نے ذکر کیا ہے۔‘‘ (زاد المعاد)۔
    اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت سے رجب کے روزے کی کراہت مروی ہے، یہاں تک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رجب کے مہینے میں روزہ رکھنے والے کو درہ لگایا کرتے تھے جب تک کہ وہ کھانے کے برتن میں اپنا ہاتھ نہ ڈال دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: رجب کیا ہے؟ رجب کی تعظیم تو اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔جب اسلام کا زمانہ آیا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔البتہ اگر کوئی شخص ہر ماہ ایام بیض کے3 روزے رکھتا ہے یا صوم داؤدی پر عمل پیرا رہتا ہے یعنی ایک دن روزہ رکھتا اور ایک دن افطار کرتا ہے تو ایسا شخص رجب میں بھی اپنے معمول کے مطابق روزہ رکھے تو اس میں حرج والی کوئی بات نہیں۔
    فرع اور عتیرہ رجب:
    ایک اور رسم جو زمانہ جاہلیت ہی سے عربوں میں چلی آتی تھی۔ اس کا نام ’’فرع‘‘ اور ’’عتیرہ‘‘ ہے۔’’فرع ‘‘کا مطلب  ہے جانور کا پہلا بچہ۔عرب اونٹ اور بکری کے پہلے بچے کو اپنے بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے۔حرمت والے4 مہینوں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے وہ ماہ رجب کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس میں بتوں کے نام پرجانور ذبح کیا کرتے تھے۔ ’’عتیرہ رجب‘‘ اس جانور کو کہا جاتا تھا جسے ماہ رجب میں بتوں کے نام پر قربان کیا جاتا تھا۔عید الاضحی کی طرح یہ چیز ان میں عام طور سے رائج تھی ۔ اسلام آیا تو نبی کریم ﷺ نے کچھ عرصہ بعد اس قبیح رسم کا خاتمہ کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ: لَا فَرَعَ وَلَا عَتِیرَۃَ(صحیح البخاری)۔ ’’ اب کوئی فرع اور عتیرہ نہیں ہوگا‘‘ ۔
    بلکہ شریعت نے اپنے ماننے والوں کوعید الاضحی کا تہوار عطا فرمایا کہ اس روز عید مناؤ اور اللہ کے نام پر اپنے بہترین پیارے پیارے جانور ذبح کرولہذا رجب کی افضلیت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس مہینے میں جانور ذبح کرنا جائز نہیں ۔ اس میں اہل جاہلیت کی مشابہت بھی ہے اور نبی کریم ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی بھی پائی جاتی ہے۔ ماہ رجب میں عمومی طور پر جانور ذبح کرنے پر کوئی پابندی نہیں مگراس مہینے کی خاص فضیلت کا اعتقاد رکھ کر اور یہ سمجھ کر جانور ذبح کرنا کہ یہ بڑے ثواب کا کا م ہے تو یہ اسی زمانہ جاہلیت کے عتیرہ کی مانند ہو جائے گا۔ان کے علاوہ بھی کچھ بدعات لوگوں میں رائج ہو گئی ہیں جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ۔ ان کا ذکر اجمالی طور پر کیاجاتا ہے۔
    (1) رجب کی پہلی تاریخ کو ہزاری نماز پڑھنا(2) پندرہویں رجب کو اُمّ ِداؤد کی نماز پڑھنا(3)  مُردوں کی طرف سے اس مہینہ میں صدقہ وخیرات کرنا(4) اس ماہ میں بطور خاص قبروں کی زیارت کرنا(خصوصا نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کرنا)(5) اس ماہ میں چند مخصوص دعائیں پڑھناجن کا کتاب وسنت میں کوئی ذکر نہیں(6) یمن میں سیدنا معاذ بن جبل کے نام سے موسوم ایک مسجد ہے ،بطور خاص اس کی زیارت کے لیے لوگ اہتمام کرکے جاتے ہیں۔ فرض کریں کہ واقعی اس جگہ سیدنا معاذ بن جبل نے نماز ادا کی ہو تب بھی خصوصی طور پر اس کے لیے سفر کرنے کی شریعت میں گنجائش نہیں۔
 

مزید پڑھیں:-  - - -  - -خاتون جنت ، سیدہ فاطمہ الزہراءؓ

 

شیئر: