امریکی طالب علم کا سی این این پر ہتک عزت کا مقدمہ

 امریکی ریاست کینٹکی کے ایک سکول کے طالب علم نے  امریکی میڈیا ہاؤس سی این این کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کیا ہے ۔ 
کینٹکی کے کونگٹن کیتھولک ہائی اسکول کے طالب علم نکولس سینڈمان کے مطابق سی این این نے اپنے ناظرین کے سامنے انہیں ایک ’نسلی منافرت‘ کے ہجوم میں سے ایک چہرے کے طور پر دکھایا جو کہ لنکن میموریل ہال واشنگٹن میں ایک مقامی امریکن ایکٹوسٹ سے الجھ رہے تھے۔
 ریاست کینٹکی کی وفاقی عدالت میں دائرکیے گئے ہتک عزت کے دعوے میںاستدعا کی گئی ہے کہ  ’شہرت کو نقصان پہنچانے پر سی این این سے275 ملین ڈالر بطور ہرجانہ اور جرمانہ دلوائے جائیں۔‘
 خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالب علم سینڈمان کونگٹن کیتھولک ہائی سکول کے دوسرے طلبہ کے ہمراہ اسقاط حمل مخالف ریلی میں شرکت کے لیے واشنگٹن گئے تھے۔
 سی این اینپر نشر کی گئی فوٹیج اور ویڈیومیں سینڈمان اور مقامی امریکن ایکٹوسٹ ناتھن فلپس کو آمنے سامنے دیکھا  گیا ہے۔  ویڈیو میںسینڈمان فلپس کو گھورتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے نظرآرہا ہے جبکہ فلپس گاتے اور ڈرم بجاتے نظر آتے ہیں ۔
مذکورہ فوٹیج اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد  ان پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا کیونکہ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعدادکے مطابق سینڈمان اور ان کے ساتھی طالب علم فلپس کو گھیر کر ان کا تمسخر اڑاتے نظر آرہے تھے۔
سینڈمان کے ہتک عزت کے دعوی کے مطابق سی این این نے چار ہتک آمیز ویڈیوز نشر کیں اور نو آن لائن آرٹیکل چھاپے جن میںانہیں اور ان کے ساتھیوں پر نسلی پرستانہ فعل کے مرتکب ہونے کا 'غلط‘ الزام لگایا گیا۔
 دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ’ سی این این کے الزامت مکمل اور واضح طور پر جھوٹے ہیں اور اگر چینل ان الزامات کو چلانے سے پہلے ان کی تصدیق کے لیے مناسب کوشش کرتا تو انہیں حقیقت کا پتہ چلتا۔‘
خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق سی این این کے ایک ترجمان نے ہتک عزت کے دعوی پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
 گزشتہ مہینے کاونگٹن کے رومن کیتھولک ڈائسس کی جانب سے ہائیر کیے جانے والے ایک پرائیوٹ تفتیشی کمپنی نے اس واقعے کی تفتیش کرنے  کے بعد کہا تھا کہ اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ملا کہ کونگٹن کیتھولک ہائی سکول کے طالب علم ایکٹیوسٹ فلپس کے ساتھ الجھ گئے تھے۔
 رپورٹ میں یہ کہاگیا کہ کاونگٹن کے طالب علموں کو افریقن امریکن مظاہرین کی جانب سے ہتک آمیز نعروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔  اس رپورٹ کے مطابق طالب علموں نے اپنے ٹیچر کی اجازت سے مذکورہ نعروں کا جواب "اسکول اسپرٹ" کے جوابی نعروں سے دیا تھا۔
گزشہ مہینے سینڈمان نے واشنگٹن پوسٹ کے خلاف بھی اس واقعے کی کوریج پر 250 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔   مقدمے کے جواب میں واشنگٹن پوسٹ نے اعلان کیا تھا کہ اخبار اس مقدمے میں اپنا دفاع بھرپور طریقے سے کرے گا تاہم بعد میں پوسٹ نے ایک 'ایڈیٹر نوٹ'  شائع کیا کہ کس طرح واقعے کی کوریج کے دوران نئی معلومات سامنے آئیں۔    
 
 
 
 
 
 
 

شیئر: