” تعبیر تم بتانا ،میں خواب دیکھتا ہوں“

احمد امیرپاشا۔بحرین
     اپنی ثقافتی بُنت،ارتقاءاور عروج کے لحاظ سے مشاعرہ فی زمانہ اب روایت کی حدود سے نکل کر ایک عمدہ ادبی قدرکا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ ہمہ جہت میکانی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہو نے والے ذہنی انتشار کی وجہ سے اس کی علمی افادیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ایک شاندار اور قابلِ فخرادبی قدرکے طور پر اس کا حسن مزید دو چندہوجا تا ہے جب اس کا انعقادعالمی سطح پرکیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ثقافتی اشتراک واظہار کا وہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے جو دراصل کسی زبان اور اس سے وابستہ ادبی قدروں کا اصل مقصود ہے۔ مجلس فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو کے عالمی مشاعروں اور ان سے وابستہ نادر علمی و ادبی تحقیق نے جس مثالی اندازمیں اپنے فروغِ اردو کے دعوے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، وہ بلا شبہ مشاعروں کی قدری اہمیت کو اجاگر کرنے کا ایک اچھوتا انداز ہے۔مجلس کے بانی و سرپرست شکیل احمد صبر حدی کا ادبی شعور اس ضمن میں بہت متحرک و بیدار ہے۔ ان کا استدلال اس حوالے سے بڑا فعال اور تاریخی حقائق پر مبنی ہے کہ اردو کسی خاص مذہب یا سماج کی زبان نہیں بلکہ یہ بر صغیر ،جنوبی ایشیا کی مشترکہ سماجی و علمی میراث ہے۔ اس زبان کی نشوو نما میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم شعراء اور ادباءنے جو تاریخی کردار ادا کیا ،اس سے انکار تو کیا صرفِ نظر بھی ممکن نہیں۔اس لئے مجلس فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو نے اپنے عالمی مشاعروں کے انعقاد میں بھی اسی اصولی اعتراف کو اپنے لئے ضابطہ مقرر کر لیا کہ ایک سال کسی مسلم شاعر اور دوسرے سال کسی غیر مسلم شاعر کی یاد میں عالمی مشاعرے کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ ان عالمی مشاعروں کے انعقاد میں مجلس نے ایک نادر علمی جہت یہ نکالی کہ عالمی مشاعرے کے لئے نامزد شاعر کے فن اور شخصیت پر ہندوستان کی کسی معروف جامعہ میں سیمینار منعقد کرا کے اساتذہ فن کی قیمتی تحریروں اور مقالہ جات کی کتابی شکل میں تالیف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس پر مستزاد ایک دیدہ زیب مجلّے کی اشاعت ہے جو عالمی مشاعرے کا عنوان بننے والے شاعر اور اس مشاعرے میں شریک شعراءکے کلام پر مشتمل ہو تا ہے۔اس طرح صاحبِ جشن شاعر کی زندگی اور فن پر ایسا قیمتی اور مستند موادجمع ہو جاتا ہے جو بلا شبہ کسی گرانقدر علمی حوالے سے کم نہیںہوتا۔اب تک مجلس فخرِ بحرین برائے فروغِ اردونامور اردو شعراء شہر یار،رگو پتی سہائے فراق گورکھپوری،آنند نرائن ملا،خلیل الرحمٰن اعظمی،عرفان صدیقی ،پنڈت برج نرائن چکبست اور مجروح سلطان پوری کی یاد میں عالمی مشاعروں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ ان شعرائے عظام کے علمی و شعری مقام پرمبسوط کتب اور مجلوں کی اشاعت بھی عمل میں لا چکی ہے۔اپنے حسنِ انعقاد کے لحاظ سے مجلس کے یہ عالمی مشاعرے بلا شبہ اردو شعرو ادب کی روایتی پاسداری کا حسین اظہار ہی نہیں بلکہ اس کی قدری افادیت کا بر ملا اعتراف بھی ہیں اور یوں بھی ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ستم ہائے زمانہ سے روایتیں تو ٹوٹتی اور بکھرتی رہتی ہیں لیکن سماج و ادب کی اساسی قدروں سے انحراف ممکن نہیں ہو تا ۔اسی لئے اب بھی عالمی مشاعرے اردو زبان کی مستند،شعری قدر کے طور پر اس کے شعری وجدان کے تحفظ کا فریضہ کما حقہ ادا کر رہے ہیں۔مجلس کے عالمی مشاعروں کو اس ضمن میں تحقیق و تالیف کے لحاظ سے یک گونہ تفوق حاصل ہے۔
اسے بھی پڑھئے:ڈاکٹر شفیق ندوی کی یادیں ، باتیں ہمیشہ تازہ رہیں گی
     ایوانِ ثقافت، مملکتِ بحرین میں مجلسِ فخرِ بحرین کے زیرِ انتظام، اردو کے مشہور شاعر اور گیت نگار مجروح سلطان پوری کی یاد میں عالمی مشاعرے کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس کی صدارت ہندوستان سے آئے ہوئے اردو کے مشہور نقاد،ادیب، شاعراور محقق ڈاکٹر شہپر رسول نے کی جبکہ مہمانِ اعزاز محقق و مرتب” مجروح فہمی“، معروف صحافی آصف اعظمی تھے۔اس عالمی مشاعرے کی ابتدائی نشست کی نظامت کے فرائض خرّم عباسی نے سر انجام دیئے۔مشاعرے میں شریک دیگر شعرائے کرام میں ڈاکٹر نوازدیو بندی، منصور عثمانی، چرن سنگھ بشر، اتل اجنبی، عزم شاکری، ڈاکٹر مہتاب عالم، سلیم سالم(انڈیا) عمران عامی(پاکستان)خالد صبرحدی(سعودی عرب) احمد عادل، رُخسار ناظم آبادی اور سعید سعدی( بحرین)شامل تھے۔بحرین کے ایوانِ ثقافت کی ملگجی روشنیوں میں صدرِ مشاعرہ ڈاکٹر شہپر رسول،مہمانِ اعزاز آصف اعظمی، شکیل احمد صبر حدی اور دیگر شعرائے کرام نے عالمی مشاعرہ بیاد مجروح کی شمع روشن کی بعد ازاں مجلسِ فخرِ بحرین کی طرف سے شائع کردہ کتاب مجروح فہمی اور مذکورہ عالمی مشاعرے کے حوالے سے شائع کردہ مجلّے کی تقریبِ اجراءصدرِ مشاعرہ، سرپرست و بانی مجلس اور مہمانِ اعزاز کے ہاتھوں انجام پائی۔ اپنے خطبہ استقبالیہ میں شکیل احمد صبر حدی نے مجلسِ فخرِ بحرین کے قیام و تاسیس کے حوالے سے مجروح صاحب کا یہ شعر پڑھ کر کوزے میں دریا بند کر دیا کہ:
میںاکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
    شکیل احمد صبر حدی نے تمام شعرائے کرام اور اہلِ علم و ادب نواز سامعین و حاضرین کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا مزید براں، مجلس کی تازہ تصنیف ” مجروح فہمی“ اور اس حوالے سے دو روزہ سیمینار کے انعقاد اور دیگر علمی معاونت کے لئے انڈیا سے آصف اعظمی اور قطر سے مجلس کے مشیرِ خاص نبیل عزیز کے تعاون کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے مجلسِ فخرِ بحرین کے لئے ان دونوں احباب کی رفاقت کو بر ملا ایک نعمت قرار دیا۔عالمی مشاعرے کے انعقاد اور مقامی شعری نشستوں کے حوالے سے انہوں نے خرم عباسی، رخسار ناظم آبادی اوراحمد امیر پاشاکی معاونت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
    مہمانِ اعزازآصف اعظمی نے اس یادگار عالمی مشاعرے کے انعقاد کے لئے شکیل احمد صبر حدی اور ان کے رفقائے تنظیم کو مبارکباد پیش کر تے ہوئے اس مشاعرے میں شرکت کو اپنے لئے ایک اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے مجروح کے حوالے سے ممبئی یونیورسٹی میں دو روزہ سیمینار کے انعقاد اور ” مجروح فہمی “ کی اشاعت کے ضمن میں بانی و سرپرست مجلسِ فخرِ بحرین کی کشادہ دلی اور تعاون کے لئے ان کو قلبی سپاس بھی پیش کیا۔
    صدرِ عالمی مشاعرہ ڈاکٹر شہپر رسول نے،فروغِ اردو کی عالمی کاوشوں اور سرپرستی کے لئے شکیل احمد صبر حدی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مشاعرے کے علمی اور تحقیقی پہلو کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو مشاعرہ ہے یہ خالص اردو کی چیز ہے اس طرح کی محفلیں تو آج کل ہندی ، پنجابی اور وسری زبانوں اور دوسرے ملکوں میں بھی ہوتی ہیںلیکن یہ شعراءاور سامعین سے مل کر جو کل بنتا ہے وہ صرف مشاعرہ ہے۔عوام کے سامنے شعر پڑھنا اور عوام کا اس پر ردِ عمل آنا یہ صرف اردو کی چیز ہے،مغلیہ زمانے میں اس کا آغاز ہوا اور ا میر تقی میر ، میر درد اور مصحفی کے عہد میں مشاعرہ ، ارتقائی مراحل طے کرتارہا۔ان کے گھروں پر نشستیں ہوتی تھیں، اس وقت طریقہ یہ تھا کہ خواص اپنے دیوان خانوں میں اور بڑے شعراءاپنے گھروں پر دوسرے شعراءکو مدعو کرتے تھے، اپنا کلام سناتے تھے ، ان کا کلام سنتے تھے۔اس میں عوام کا دخل نہیں تھا پھر مشاعرہ خواص کے دیوان خانوں سے مغل دربار میں پہنچا اور پھر عوام میں۔ اسی طرح جوش و داغ سے ہوتا ہوا یہ مشاعرہ موجودہ نہج پر پہنچا۔اب یہ اردو کی ایک روایت کے طور پر زندہ ہے۔ میں اس عالمی مشاعرہ بیاد مجروح سلطان پوری کے انعقاد پر مجلس کے سرپرست و بانی شکیل احمد صبر حدی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کر تا ہوں۔ اس عالمی مشاعرے سے منسوب شاعر کی زندگی اور شاعری پر کتاب ”مجروح فہمی“ کی اشاعت ایک گرانقدر علمی کاوش ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ اردو شعرو ادب کے طلبہ کے لئے ایک قیمتی تحفے سے کم نہیں۔
    اس عالمی مشاعرے میں شریک شعرائے کرام کی جانب سے پیش کردہ کلام کی جھلک قارئین کی نذر ہے:
٭٭ ڈاکٹر شہپر رسول
میںآج میں بھی کل کے آداب دیکھتا ہوں
تعبیر تم بتانا ،میں خواب دیکھتا ہوں
٭٭٭
خوش یقینی میں یوں خلل آیا
کچھ نکلنا تھا کچھ نکل آیا
٭٭ منصور عثمانی:
کیا ضروری ہے کچھ بہانہ ہو
ہم سے ویسے بھی روٹھ جایا کر
زخم دل کے دہائی دینے لگیں
بات اتنی بھی مت بڑھایا کر
٭٭ عمران عامی:
بابِ قفس کھلا بھی تو کچھ دیر کے لئے
جو قید میں نہیں تھے رہا کر دیئے گئے
ہم کو ہماری نیند بھی پوری نہیں ملی
لوگوں کو ان کے خواب جگا کر دیئے گئے
٭٭ چرن سنگھ بشر:
ابھی ہے صبر مجھ میں جتنا جی چاہے ستانے دو
پھر اس کے بعد تجھ کو بھی پریشانی میں رہنا ہے
٭٭٭
یہ سچ تو ٹوٹ کے کب کا بکھر گیا ہوتا
اگر میں جھوٹ کی طاقت سے ڈر گیا ہوتا
٭٭ ڈاکٹر مہتاب عالم:
جلے گا تو ہمارا گھر جلے گا
تمہیںتو روشنی اچھی لگے گی
اگر جینا پڑا ہم کو بچھڑ کر
بتاﺅ زندگی کیسی لگے گی
٭٭٭
آنکھ کو آنکھ، آنسوﺅں نے کیا
درد نے دل کو دل بنایا ہے
٭٭ عزم شاکری:
کون کرتا ہے زمانے میں ہمارا اکرام
ہم کسی گھر سے نہیں دل سے نکالے گئے ہیں
٭٭٭
جب ہم اپنے گھر آئے
آنکھ میں آنسو بھر آئے
چڑیا رو کر کہتی ہے
کیوں بچوں کے پر آئے
٭٭ نواز دیو بندی:
دشمن ہماری ہار پر خوش تھے بہت یہاں
لیکن ہمارے دوست بھی کم خوش نہیں رہے
٭٭٭
ر±لایا اس نے یہ غم ہے مگر خوشی بھی ہے
وہ خود بھی رویا تھا ظالم مجھے رلاتے ہوئے
٭٭اتل اجنبی:
لوگ اس پہلو سے انجان بنے رہتے ہیں
جنگ میں صلح کے امکان بنے رہتے ہیں
جب بھی ملتے ہیں یہی پوچھتے ہیں کیسے ہو
کتنی دانائی سے نادان بنے رہتے ہیں
٭٭٭
چمک آنسو کی بڑھتی جا رہی ہے
یقینا زخم گہرے ہو رہے ہیں
٭٭ سلیم سالم:
کسی روٹھے ہوئے کی ناز برداری میں رہتی ہے
ہماری زندگی بھی کتنی لا چاری میں رہتی ہے
نجانے کب نکلنا ہو تری آواز پر ہم کو
ہماری خامشی ہر وقت تیاری میں رہتی ہے
٭٭٭
پلکوں پہ جو ذرا سی بوندیں چمک رہی تھیں
دامن بڑھا کے اس نے طوفان کر دیا ہے
٭٭ خالد صبر حدی:
چھینتے ہیںوہ گویائی کو، نطق و لب پر پہرے ہیں
سمع و بصارت رکھنے والے لوگ بھی اندھے بہرے ہیں
٭٭ احمد عادل:
مرے کہے کو کبھی غور سے سنا ہی نہیں
کہا بھی میں نے کچھ ایسے کہ کچھ کہا بھی نہیں
یہ سب مزاج شناسی ہے آپ کی ورنہ
مری زبان پہ شکوہ کبھی ہوا ہی نہیں
٭٭رخسار ناظم آبادی:
اک اندھیرا ہے یہ روشنی کی طرح
زندگی ہے نہیں، زندگی کی طرح
٭٭٭
یہ الگ بات وہ تھا دورِ جہالت لیکن
لوگ ان پڑھ بھی سمجھدار ہوا کرتے تھے
٭٭ سعید سعدی:
سلیقہ ہم نے سیکھا ایک پروانے سے جینے کا
اجل کی لوپہ رقصِ زیست کرنا اور مر جانا
٭٭٭
کل ملاقات ان سے طے تھی مگر
یہ بتاﺅ کہ آج کیا کرتے
    اس عالمی مشاعرہ بیادِ اسرارالحسن مجروح سلطان پوری کی نظامت کے فرائض ، آسمانِ نظامت کے ماہتاب اورفنِ نظامت میں شہرتِ کمال رکھنے والے ہندوستان سے آئے ہوئے معروف شاعر منصور عثمانی نے سر انجام دیئے۔
 

شیئر: