چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کیخلاف قرارداد پھر رکوادی

نیو یارک ...چین نے سلامتی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پھر رکوادی۔ ہند کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔سلامتی کونسل میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہرکے خلاف قرارداد پراعتراض کی ڈیڈلائن ختم ہونے کا آج آخری دن تھا۔ فرانس، امریکہ، برطانیہ نے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پیش کی تھی تاہم چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کے خلاف قرارداد کو فنی بنیادوں پررکوا دیا۔ ہند نے چین کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل میں ہمیشہ ذمہ دارانہ رو ئیے کا مظاہرہ کیا اور مناسب موقف اپنایا۔ مسعود اظہر کے خلاف قرارداد پرفریقین سے رابطے میں رہے ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ اس مسئلے پرمتعلقہ اداروں کو قوانین اورطریقہ کارکی پیروی کرنی ہوگی۔تمام فریقین کے لئے قابل قبول حل نکالا جائے۔د یرپا نتائج کے لئے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد ہندنے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ قرار دلوانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ امریکہ ، فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مشترکہ قرارداد پیش کرکے مطالبہ کیا کہ 10 دن میںعسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کوعالمی دہشت گرد قرار دیا جائے۔اس قرارداد کے منظور ہونے کے بعد پاکستان کےلئے مسعود اظہر کے خلاف فوری کارروائی کرنا ، ان کی تنظیم کے ارکان پر سفری اور ہتھیاروں کی پابندیوں سمیت ان کے مالی اثاثہ جات اورفنڈز کو منجمد کرنا لازمی ہوجاتا۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے 5میں سے3 مستقل اراکین کی جانب سے عسکریت پسند تنظیم کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی یہ قرارداد چوتھی مرتبہ پیش کی گئی ہے ، ماضی میں بھی چین ہمیشہ ویٹو کرتا رہا ہے۔ امریکہ اور ہند کی طرف سے امید کی جا رہی تھی کہ اس مرتبہ چین اس کی مخالفت نہیں کرے گا۔

شیئر: