آپ بھی لکھئے: ہرکا م کا ایک طریقہ، ہر مصروفیت کا ایک سلیقہ

شہزاد اعظم
    اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہر کا م کا ایک طریقہ اور ہر مصروفیت کا ایک سلیقہ ہوتا ہے۔لیٹ کر کار نہیں چلائی جا سکتی اور کھڑے ہو کر موٹرسائیکل چلانا ممکن نہیںچولھا بندکر کے چائے پکانا ممکن نہیں اور کریڈل سے ریسور اٹھاکر رکھ دینے کے بعد فون ملانا ممکن نہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ، ان تمام حقائق کا ایک مشترکہ جواب یہی ہے کہ ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔موبائل فون بھی ایک شے ہے جس کے استعمال کا ایک طریقہ ہے اور اس میں مصروف ہونے کا ایک سلیقہ ہے۔جن ذہین و فطین لوگوں نے موبائل فون ایجاد کیا انہوں نے صارفین سے دست بستہ استدعا کی کہ ”بھائیو اور بہنوں، موبائل فون کو کسی پرسکون مقام پراستعمال کیجئے اورفون کرنے والے کی گفتگو بصد اطمینان سن کر، سمجھ کر جواب دیجئے اور خیال رکھئے کہ گفتگو مختصر اور جامع ہو تاکہ رقم اور وقت دونوں کو ضیاع سے بچایاجا سکے۔انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ کار یا کوئی بھی گاڑی چلاتے وقت موبائل فون ا ستعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ڈرائیور کی توجہ ادھر اُدھر ہو جاتی ہے اور نتیجتاً کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔موبائل کے موجدین نے چار پہیوں والی گاڑی چلاتے وقت موبائل کے استعمال کو ممنوع قرار دیا تھا انہوں نے موٹر سائیکل کی تو بات ہی نہیں کی تھی کیونکہ وہ تو صرف 2پہیوں کی حامل ہوتی ہے اور اسے بیک وقت دونوں ہاتھوں کے استعمال سے قابو کیاجاتا ہے مگر ہم ٹھہرے تیسری دنیا کے باسی،ہم نے نے موبائل ایجاد بے شک نہ کئے ہوں مگر ہم مغرب کے سائنسدانوں سے زیادہ ذہین ہیں چنانچہ ہم نے کار تو کار موٹرسائیکل چلاتے ہوئے بھی موبائل فون کا استعمال اپنی وتیرہ بنا رکھا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نسل نو کے نوجوان تو موٹر سائیکل چلاتے وقت ٹیکسٹ میسجز بھی ارسال کرتے ہیں۔ زیر نظر تصویر شہر کراچی کی ہے جہاں ایک اچھا خاصا ذی ہوش و ذی فہم موٹرسائیکل سوار ہیلمٹ پہننے کے باوجودموبائل پر گفتگو کرتا ہوا جا رہا ہے۔ اس کے آگے ایک پک اپ رواں دواں ہے جس نے اپنی ”حیثیت اور اوقات“ سے زیادہ سامان لاد رکھا ہے۔بفرض محال اس پک اپ میں سے کچھ سامان سڑک پر گر جائے یا موٹرسائیکل سوار کے ٹیلی فونی گفتگو میں محو ہونے کے باعث کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو اس کا ذمہ دار بلا شبہ وہی ہو گا جو قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس میں پک اپ کا ڈرائیور اور موٹر سائیکل سواردونوں ہی شامل ہیں۔ موٹرسائیکل والے نے بظاہر ہیلمٹ تو پہن رکھا ہے مگر ایسے ہیلمٹ کا کیا فائدہ جسے پہن کر خطرات کو دعوت دینے کا سلسلہ ترک نہ کیاجائے۔ آپ کیاکہیںگے؟

 

شیئر: