وہ سوچ رہا تھا ” ہم خوف کا سماں بپا رکھنے پر مامورکئے گئے ہیں“

اُم مزمل۔جدہ
    وہ ڈپریشن میں اسپورٹس کی طرف متوجہ ہوجاتی تھی۔وہ اپنا ذہنی تناﺅ کم کرنے کے لئے بارڈر پر بلااشتعال بھاری اسلحہ کا آزادانہ استعمال کیا کرتا تھا۔ آج وہ اپنے تینوں ساتھیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار راج نیتی کے گھمنڈ کو ٹھہرا رہا تھا ۔جیسے ہی وہ انکے کمرے میں کوئی بات کرنے پہنچا ، دروازہ کھولتے ہی روح فرسا منظر سامنے تھا۔ اس نے ایک سپاہی ہونے کی حیثیت سے بہت سی جانوں کو اس دنیا کو خیرباد کہتے دیکھا تھا ۔ وہ کئی سپاہیوں کی خود کشی کا واقعہ بھی سن چکا تھا لیکن یہ تو اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ جن کے ساتھ ایسا روزانہ کا اٹھنا بیٹھنا ہو کہ جیسے وہ گھر کے افراد ہوں۔ حقیقت یہی تھی کہ آرمی میں ہونے کہ وجہ سے جو باتیں گھر والوں کو بتانا منع کیا جاتا تھا، وہ لوگ محکمہ جاتی پلان کے مطابق ان کے حکم پر خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ وہ ایک اکائی کی طرح تھے۔ جب کوئی چیز کھانے کی ایسی ملتی جو ان لوگوں کی بہت پسندیدہ ہوتی یا کئی ہفتوں کے بعد ان کا محکمہ یہ اشیاءپہنچانے میں کامیاب ہوتا تو ان لوگوں کو بھی بانٹی جاتی تھی۔ایسے میں وہ تینوں کیسے یہ پلان بنانے میں کامیاب ہو سکے کہ تینوں ایک ہی دن، ایک ہی وقت میں،ایک ساتھ ہال کمرے کے تینوں چھت کے پنکھوں سے لٹک کر جان دے دیں گے ۔وہ صرف ایک دن کے لئے تو دوسرے علاقے بھیجا گیا تھا کہ وہاں سے کچھ سامان آرہا ہے تو اس کو حفاظت سے پہنچانے کے لئے وہ بھی ساتھہ بھیجا گیا تھا۔ ابھی تو وہ اپنے صبح سویرے یہاں پہنچ جانے پر خوش تھا کہ سب کے ساتھ وہ ناشتے میں مزے مزے کی چیزیں جو ساتھ لایا ہے ، وہ مل بانٹ کر کھائے گا۔ صبح کا وقت ویسے بھی اس علاقے میں بہت خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ کچھ ڈر اور خوف کے باعث یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جن سے ابھی بہت سی باتیں کرنی تھیں، تھرل سے بھرپور اپنے سفر کا قصہ سنانا تھا، وہاں کتنے سارے امرود اور شریفہ کھاتے ہوئے انہیں یاد کیا تھا کہ اتنے طرح طرح کے سفید گلابی اور سنہرے رنگ کے امرود کیسے ہوجاتے ہیں۔ ایک سے ایک پھل مزیدار اور ہر ایک کا پسندیدہ تھا ۔ شریفہ کھاتے ہوئے وہ یہی سوچے جارہا تھاکہ میں اپنے سب سے سینیئر آفیسر سے یہ سوال ضرورپو چھوں گا کہ شریفے کے ایک ایک بیچ کے گرد موجود مزیدار پھل کے گودے کو کھانے میں اتنی دیر لگتی ہے اور پھر یہ بار بار ہاتھوں سے پھسل بھی جاتا ہے تو اتنے مشکل پھل کا نام اتنا شریفانہ کیوں رکھ دیا گیا ہے کہ شریفہ ہی پکارا جانے لگا اورمیں امرود کھاتے ہوے پورے مقابلے کا پلان ترتیب دے چکا تھا ، انہیں بتاﺅں گا کہ میں نے ایک درجن امرود ایک وقت میں کھائے ہیں۔ اب تم تینوںکا مقابلہ ہوگا ۔جو جیتے گا اس کے لئے ایک قلم میں اپنے ساتھ لیکر آیا تھا کہ اس کا دل بہت خوش تھا کہ اب تو سال سے زیادہ ہو گیا ہے تو گھر جانے کی اجازت ملے گی لیکن وہ یہاں روح فرسا منظر دیکھتے ہوئے یہی سوچے جارہا تھا کہ یہ لوگ بے وجہ موت کو گلے لگابیٹھے اور میں ان کا ساتھی ہونے کے باوجود کچھ بھی نہ جان سکا اور اب ساری باتیں ان سے کب اور کہاں ہونگی۔اس نے اچانک اپنا ہتھیار اٹھالیا۔ ہال کمرے کے چاروں اطراف دیواروں پر خاموش گولیوں کے نشانات ثبت ہوتے گئے۔ پچھلی جانب کھلنے والی طویل و عریض کھڑکی جو تقریباً دیوار گیر تھی اور اکثر وہ لوگ اسے کھڑکی کی بجائے دروازے کے طور پر بھی استعمال کر لیا کرتے تھے، چکناچور ہوچکی تھی ۔اس نے عجیب حرکت کی کہ ان شیشوں کے قریب جابیٹھا اور ان کو غور سے دیکھتا اورسوچتا رہا کہ ہم اپنے ملک کی سرحد پر اوراس کے ساتھ اندرون ملک وادی میں رہنے والوں کے لئے ایک خوف کا سماں بپا رکھنے پر مامورکئے گئے ہیں لیکن یہ کون جان سکتا ہے کہ اس طرح کی زندگی گزارنے سے ہم پر خود کیا کیا خوف طاری رہتا ہے۔ گھر سے دور رہنے پر اپنی جانوں پر موسم کی سختی برداشت کرنے پر ہمارے ہاتھوں بے گناہوں کا خون ہونے پر کتنی ذہنی اذیت ہوتی ہے۔ یہ کون سمجھ سکتا ہے اور یہی سب کچھہ وقتاً فوقتاً ذہن میں جمع ہوتا رہتا ہے جوایک دن سوچ کی صلاحیت کو مفقود کردیتا ہے اور اس احساس جرم سے بچنے کے لئے وہ اپنی جان اپنے ہاتھوں ختم کر بیٹھتے ہیں۔
    وہ لگاتار سگریٹ کاپیکٹ ختم کرتا جارہا تھا۔ ایک بال کہیں قریبی ریسٹ ہاﺅس سے اونچے درختوں کے درمیان سے ہوکر یہاں
 اس کے سامنے سبزے پر آگرا لیکن وہ ایسی انہونی رونما ہوجانے پر اتنا خوف زدہ تھا کہ اس کو تصور میںاپنا مستقبل بھی ایسا ہی نظر آرہا تھا۔ وہ سامنے درختوں کے جھنڈ سے ادھر ادھر دیکھتی آگے بڑھتی آ رہی تھی ۔وہ اس وقت لاشعوری کیفیت میں تھا کہ وہ ایسی زندگی تو نہیں چاہتا تھا۔ وہ بھی ہر نوجوان کی طرح ایک خوش وخرم زندگی گزارنے کا حق رکھتا تھا جہاں ایک چھوٹا سا گھر ہو ،کوئی اس کا بہت خیال رکھنے والا ہو، سارا دن محنت مزدوری کے بعد گھر پہنچتے ہی اس کی دن بھر کی تھکن یکدم ختم ہوجائے۔
    جیسے ہی سامنے اس کی نظر گئی تو اچانک وہ اپنے ہاتھ سے سگریٹ پھینک کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ایسا لگا جیسے قدرت نے اس کے تصور کو حقیقت کا روپ دے دیا ہو۔ جیسے تصور اور حقیقت ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے ہوں۔ وہ جیسے ہی ٹوٹے شیشوں کی طرف اپنا بال لینے کے لئے بڑھی،اس نے اچانک اپنے آپ کو اس کی حفاظت کے لئے آواز دیتے سنا ۔وہ کہہ رہا تھا، یہاں شیشے کے ٹکڑے بکھرے ہیں۔ آپ کے پاﺅں میں چبھ جائیں گے۔ وہ کہنے لگی،آپ یہاں اپنے تینوں خود کشی کرنے والے ساتھیوں کے لئے ایمبولینس کا انتظار کر رہے ہیں؟ وہ حیرت سے پوچھنے لگاکہ آپ کو کیسے معلوم ہے؟ وہ اس کے سوال پر سراٹھائے اسے تکنے لگی۔ کچھ نہ کہہ سکی کیونکہ اسکا دماغی واقعی اس وقت کہیں انجانے میں حقیقی منظر سے اسے دوررکھے ہوئے تھا کہ اس کے پس منظر میں ہی تو تین لوگ پنکھے کے ساتھ ایسی حالت میں نظر آرہے تھے کہ جس سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ خود کیا ہے اور وہ یہاں اکیلا ہے تو اس نے ہی ایمبولنس کے لئے فون کیا ہوگا ۔ سامنے کی بات تھی لیکن اس وقت وہ سخت ذہنی خلفشار کا شکار تھا لیکن پھر بھی اس سے سوال کرنا نہ بھولا کہ وہ اس جگہ آتے ہوئے کیوں نہیں ڈری؟ وہ کہہ رہی تھی کہ اس نے مسنون دعا پڑھ لی ہے۔ وہ حیرانی سے پوچھنے لگا کہ کیا اس کے بعد کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا ؟ وہ بتا رہی تھی کہ ”اپنے خالق کے سوا کسی سے بھی ڈر نہیں لگتا، بے شک وہی ہماری حفاظت کرنےوالا ہے ۔
    وہ پھر سوال کرنے لگا کہ کیا تم مجھے وہ دعا بتا سکتی ہو؟ وہ فوراًبولی ”ہاں کیوں نہیں ،اور فر فر اپنے بچپن میںیاد کی گئی دعا سنا دی اس نے کچھہ توقف کے بعد کہا اسکا ترجمہ بتا سکتی ہو؟اس نے کہا ترجمہ اس دعا کا یہ ہے کہ ” میںہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ،اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں۔“
    جب وہ اپنی کزنز کے پاس پہنچی تو انہوں نے ایک کے بعد ایک سوالات کرنے شروع کر دیے کہ جب ہمارے گھر کے بزرگوں نے
 ہمیں یہاں آنے کی اسی صورت اجازت دی ہے کہ ہم لوگ بس گھومنے ان کے ہی ساتھہ جایں گے وہ بھی ایسے پردے میں کہ ہم بھی اس علاقے کے ہی لوگ ہی لگیں لیکن آپ جناب نے تونئے جاگرز کیا خریدلئے ،ہر وقت کرکٹ کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔ وہ کہنے لگی کہ مجھے لگتا ہے ہر انسان میں بھلائی موجود ہوتی ہے ۔اس کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ دوسری ایک کزن جو کہ راستے میں جب یہاں آرہے تھے تو ایک ضعیف بزرگ اسے سڑک کے کنارے حقہ پیتے نظر آئے تھے تو سب کہہ رہے تھے کہ کتنا دھواں یہ آکسیجن میں شامل کر رہے ہیں اور جب بال کے جانے پر اس نے تجویز پیش کی تھی کہ اس وقت تو بہت سویرا ہے، کوئی نہیں جاگ رہا ہوگا تو ہم بال لا سکتے ہیں لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ اونچے درختون کی اوٹ میں کوئی رہائش بھی ہوگی اور اسے بھی ہوا میں آکسیجن سے دشمنی ہوگی ۔جب ہی پوری کوشش کر رہا ہوگا کہ اسے کیسے ہوا میں کم سے کم کیا جائے اور اس کاایک ہی طریقہ ہے کہ خود کو جلاﺅ اور ماحول کو بیکار بناﺅ۔
٭٭جاننا چاہئے کہ ”جنگ“ ماحول سے ہو یا پڑوسی سے ، ہر صورت میںنقصان کا باعث بنتی ہے ۔

 

شیئر: