فوکو شیما ایٹمی سانحہ کے ریڈیائی اجزا برطانیہ میں

  لندن ۔۔۔ جاپانی ساحلی علاقے میں 11مارچ 2011ءکو 9.0طاقت کا زلزلہ آیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ سونامی بھی آئی تھی اور زلزلے کی شدت سے قریب واقع ایٹمی پلانٹ کو نقصان پہنچا تھا۔ اب اتنے عرصے بعد متاثرہ علاقوں سے جمع کردہ تابکار ذرات کو لندن پہنچا دیا گیا ہے۔ جہاں جاپانی سائنسدان ، برطانوی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ 11مارچ کے سانحہ کے بعد جو تابکاری ذرات فضا میں اڑے تھے اور جن کے اثرات اب بھی باقی ہیں وہ کس نوعیت کے ہیں اور اتنے عرصے بعد کتنے نقصان دہ یا کارآمد ثابت ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایٹمی سائنسدانوں کی اچھی خاصی تعداد 11مارچ کے اس سانحہ کو چرنوبل کی ٹکر کا سانحہ سمجھتے ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کو برطانیہ میں ہونے والے مشترکہ تجزیئے اور تجربے سے بہت ساری نئی باتیں معلوم ہونگی۔ واضح ہو کہ فوکو شیما کے سانحہ کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو گھر بار چھوڑ کر علاقے سے جانا پڑا تھا اور یہ لوگ اب تک واپس نہیںآئے۔
 
 

شیئر: