مشینی چیز کا کیا اعتبار

 یہ بات طے ہے کہ جیت انسان کی ہوگی کیونکہ مشین پھر مشین ہے اور اس کا ایک معیار اور وقت ہوتا ہے جبکہ انسانی معیار وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے جو روبوٹ سے قدرے بہتر ہے
زبیر پٹیل ۔ جدہ
برطانوی ماہر کی اس پیشگوئی پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ مستقبل میں ہر گھر میں انسان کے بجائے روبوٹس کا راج ہوگا۔ دیکھا جائے تو آج کا انسان بھی کسی روبوٹ سے کم نہیں رہا۔ آج کے مادہ پرستی کے دور میں انسان بہت زیادہ کمانے کے چکر میں انسان سے روبوٹ بنا ہوا ہے اور اسکی جگہ اگر مشینی روبوٹ لیں گے تو کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ مشین ویسے ہی انسان کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ جیت انسان کی ہوگی کیونکہ مشین پھر مشین ہے اور اس کا ایک معیار اور وقت ہوتا ہے جبکہ انسانی معیار وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے جو روبوٹ سے قدرے بہتر ہوتا ہے۔
روبوٹس کی ابتدا اسی دن ہوگئی تھی جب انسان نے کمپیوٹر تیار کیا تھا۔یہی روبوٹس آج انسان کو روبوٹ بناکر تگنی کا ناچ نچانے پر تلے ہوئے ہیں۔گو کہ اس وقت مغربی ممالک میں سپر مارکیٹوں اور دیگر کئی جگہوں پرروبوٹس کام کررہے ہیں مگر اس کا یقینی طور پر یہ مطلب نہیں کہ انسانی کام کاج کا اختتام ہوگیا۔ ان روبوٹس کو بہتر اور اچھے و معیاری کام کیلئے استعمال کرینگے۔ برطانوی ماہر کے مطابق مستقبل میں روبوٹ برتن دھونے اور کھانا پکانے کے کام بھی انجام دے سکیں گے تو اس طرح شوہروں کو ان دونوں کاموں اور باورچی خانے سے چھٹکارا مل جائیگا۔ مگر دیکھنا ہوگا کہ روبوٹ نے کھانا کیسا بنایا۔ یہ چیک کرنے کیلئے انسان کا ہونا ضروری ہے کیونکہ آخر میں کھانا کسی انسان نے ہی ہے نہ کہ روبوٹس نے۔ اسلئے انسان کو انسان ہی رہنے دیا جائے کیونکہ مشینی چیز کا کوئی اعتبار نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: