حوثیوں کی جیلیں

جمعرات 14مارچ2019ءکو سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ”عکاظ“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
  ایرانی حمایت یافتہ حوثی دہشتگرد فرزندان یمن کو بھوکا مارنے اور انہیں زبردستی گھر سے بے گھر کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ سیاسی مخالفین اور نہتے شہریوں کی گردنیں سر سے جدا کرنے اور اغوا کرنے کی وارداتیں بھی انتہا پر ہیں۔ کل بدھ کو یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے بتایا کہ حوثیوں نے حجہ صوبے کے کشر ضلع میں 4ہزار خاندانوں کو گھر سے بے گھر کردیا۔ انہوں نے ریاض میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ حوثی باغی حجور قبائل کے خلاف اجتماعی سزا کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔ کانفرنس میں حوثی جیلو ں سے رہائی پانے والے کئی مغوی بھی شریک تھے۔ اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی دہشتگرد مذکورہ شکل میں قتل عام کریں۔ اچھنبے کی بات یہ ہے کہ بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے حوثیوں کے جرائم بند کرانے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری سے آنکھیں موندیں ہوئے ہیں۔ حوثی نہ جانے کتنے یمنی شہریوںکو بلا قصور موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ حوثیوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ ہر علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دیتے ہیں اور مقامی باشندوں کو قتل کی دھمکیاں دیکر ان سے اپنے کام نکالتے ہیں۔
حوثی دہشتگردوں کے اغوا کا یہ سلسلہ بند ہونے والا نہیں۔مغوی شہریوں کی ماﺅں کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ 20مغوی حوثیوں کی جیلو ںمیں تشدد سے متاثر ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مغوی شہریوں کو رہا کرانے کیلئے حوثیوں پر دباﺅ ڈالے اور انہیں قیدیوں پر تشدد سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: