وزیراعظم کی ٹویٹ نے 'وزرا کا قبلہ تبدیل کر دیا`

شاہد عباسی
 
 پاکستان کے صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ، وزرا اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر سوشل میڈیا پر زبردست گہما گہمی تھی مگر اس فیصلے پر بحث کو وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ نے ایک الگ رخ دے دیا۔
وفاقی اور صوبائی وزرا و ترجمان جو جمعرات کی صبح تنخواہوں میں اضافے کو جواز فراہم کرنے کے لیے دلائل تراش رہے تھے وزیراعظم کی ٹویٹ کے بعد اس پر تنقید کرتے پائے گئے۔
 
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے صرف ایک گھنٹے کے وقت میں تنخواہوں کے فیصلے پر دو دیکسر مختلف اور متضاد مؤقف آئے تو صارفین نے سوشل میڈیا پر ان کو ٹیگ کرکے دلچسپ تبصرے کیے۔
مظہر اعوان نے لکھا کہ ’آپ لوگ صرف بے عزتی کرواتے ہو، اب ٹویٹ کرکے مزید بے عزتی کروا رہے ہو۔‘
رضوان ساجد نے اپنے تبصرے میں سوال کیا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے تھے کہ اوپر لیڈر ٹھیک ہو تو نیچے سب اچھا ہو جاتا ہے۔ ساری پارٹیوں سے اکٹھا کیا جانے والا گند اپنے فائدے ہی سوچے گا۔
 

پنجاب اسمبلی نے بدھ کو عوامی نمائندگان ترمیمی بل 2019 منظور کیا تھا جس کے تحت ارکان اسمبلی، وزرا اور وزیراعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کے رکن غضنفر عباس چھینا کے متعارف کردہ بل کی منظوری کے بعد ارکان اسمبلی کی تنخواہ ومراعات ایک لاکھ 90 ہزار روپے کر دی گئی ۔

جمعرات کو اسلام آباد بار میں ایک تقریب کے دوران فواد چوہدری نے پنجاب اسمبلی اراکین کی تنخواہ و مراعات میں اضافہ کی واضح حمایت کی تھی ۔ ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہیں کم تھیں، اب ان میں اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے تنخواہ و مراعات میں اضافہ کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر اضافہ نہ کیا گیا تو مڈل کلاس والے انتخابی امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آئیں گے۔‘
 

وفاقی وزیر کی تقریر ابھی تک ٹیلی ویژن کے خبرناموں کا حصہ تھی کہ دوپہر تقریبا ایک بجے وزیراعظم عمران خان نے اپنی ہی پارٹی کی پنجاب حکومت کے اقدام پر تنقید کر دی۔

وزیراعظم نے پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ قانون پر صوبائی حکومت اور وزیراعلی سے ناراضی کا اظہار کیا۔ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ ’پاکستان میں استحکام کے بعد ایسے اقدامات کا جواز ہو سکتا ہے لیکن عوام کی بنیادی ضرورتوں کیلیے وسائل کی قلت میں ایسا کرنا درست نہیں۔‘
پہلے انگریزی اور چند منٹ بعد اردو میں وزیراعظم کی ٹویٹ سامنے آنے کے بعد کچھ ٹوئٹر صارفین نے تجویز کیا کہ عمران خان اس معاملے پر ٹوئٹر کا سہارا لینے کے بجائے براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بات کرتے تو بہتر تھا۔
عمران خان کے اظہار ناراضگی کے ٹھیک 13 منٹ بعد وزیراطلاعات فواد چوہدری نے اپنے پہلے والے موقف سے رجوع کیا ۔ اس بار اپنی ہی پارٹی کی پنجاب حکومت اور وزیراعلی عثمان بزدار ان کی تقنید کے نشانہ پر تھے۔
فواد چوہدری نے بھی  تبصرے کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی اور پنجاب حکومت وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسیوں سے لاعلم نظر آتے ہیں، وگرنہ اپنے لیے اتنی بڑی مراعات کا انتخاب نہ کیا جاتا۔
وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری نے بھی عوامی نمائندگان ترمیمی بل 2019 کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں کے پی اور بلوچستان کی مطابق کرنا چاہتے ہیں کئی ارکان دور دراز سے آتے ہیں اس لیے تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔‘
وزیراعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل بھی وزیراعظم کی ٹویٹ کے بعد صوبائی حکومت کے ناقد بن گئے۔ انہوں نے لکھا کہ ' (میرے قائد آپ کی ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مجھے آپ سے عقیدت ہے۔مجھے پتہ ہے آپ اپنے بجلی گیس کے بل اور کچن تک کا خرچہ جیب سے دیتے ہیں۔ میں ذاتی حیثیت میں اس سے رنجیدہ ہوں اور خوش نہیں ہوں)۔
جمعرات کو وزیراعظم کی ٹویٹ سے قبل سوشل میڈیا سمیت پاکستانی نیوز چینلز پر ایک سیلری سلپ دکھا کر رپورٹ کیا گیا کہ وزیراعظم کی تنخواہ وفاقی وزرا اور وزرائے اعلیٰ سے کم ہے ۔ ایک نجی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عمران خان اپنے ملٹری سیکرٹری سے بھی کم تنخواہ لیتے ہیں ۔
ان رپورٹس میں تصدیق کی گئی ہے کہ وزیراعظم کے مقابلہ میں وفاقی وزراء کی تنخواہ تقریبا اڑھائی لاکھ روپے جب کہ انہی کی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی پنجاب کی تنخواہ 3 لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔
 
 

شیئر: