پاکستان کی اخلاقی، جنگی اور سیاسی کامیابی

پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتکاری کے ذریعے خود کو منوایا ،پلوامہ واقعے کا ہند میں اُلٹا اثر ہوا ، عالمی ساکھ بھی مجروح ہوئی

سجاد وریاہ

 انسانی تاریخ کے تناظر میں اگر قوموں کی کے عروج وزوال کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں شخصیات بھی اہم ہوتی ہیں جن کی جُرأت مند قیادت اور فیصلوں کی وجہ سے قوموں کو مناسب سمت ملتی ہے جبکہ کرپٹ اور بزدل قیادت قوم کو زوال کا شکار کر دیتی ہے۔پاکستان ایک ذہین قوم کا بہترین ملک ہے لیکن بدقسمتی سے اہل قیادت کا فقدان اس قوم کو پستی میں دھکیل گیا ہے۔ جس طرح شخصیات اہم ہوتی ہیں اسی طرح قوموں اور ملکوں کے سفر میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جو مجموعی طور پر عروج وزوال کی سمت کا تعین کر دیتے ہیں ،ان بر وقت اور عمدہ فیصلوں کی وجہ سے قوم کی ساکھ قائم ہو جاتی ہے،جس کی بنا پر مستقبل کا سفر جاری رہتا ہے۔ایسا ہی موقع پاکستان اور عمران خان کو ملا جس کا پاکستان نے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور اپنی اخلاقی برتری اور عالمی ساکھ کو بحال کر لیا ۔پاکستان کے مشرق میں ہمسایہ ملک ہند کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہاں ایک جنونی پارٹی کی حکومت ہے۔ دہشتگرد تنظیم آر ایس ایس کے کارکن نریندر مودی کی حکومت ہے۔ جن کی سیاسی جدو جہدکا سارا سفر ہی مسلمانوں کے خون کی سُرخی سے رنگے ہوئے راستوں پر ہے۔ ہندوستانی حکومت نے پلواما واقعے کے بعد سے میڈیا کے ذریعے ایک ہیجان انگیز صورتحال پیدا کی ہوئی تھی ،بدلہ بدلہ کی صدائیں باقاعدہ چیخوں اور دھمکیوں میں بدل چکی تھیں۔مودی حکومت دراصل 5سالہ دور حکومت کے بعد ناکام ہو چکی ہے ،ملک کے عوام کی حالت بد تر ہو گئی جس کیلئے انتخابات جیتنا مشکل ہو تا جا رہا ہے ،انہوں نے پرانا ہتھیار’’ مسلمان دشمنی‘‘ استعمال کرنا شروع کر دیا۔بغیر تحقیقات ،پاکستان پر ا لزام لگانا شروع کر دیا ۔
میں عرض کر رہا تھا کہ قوموں کی زندگی میں واقعات ان کی ساکھ بڑھا دیتے ہیں۔پاکستان کو یہ موقع مودی نے اُس وقت فراہم کر دیا جب ہندوستانی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے جبہ کے مقام پر بمباری کی اور بھاگ گئے۔جب پاکستان نے اس کا جواب دیا اور اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر بھارتی فضائیہ کی’ چُولیں‘ ہلا کے رکھ دیں۔اس واقعے نے پاکستان کو بھر پور موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کر سکے اور حکومت نے بھی اپنی دانش کا عمدگی سے مظاہرہ کیا۔ اس واقعے نے پاکستان کو عالمی طور پر ایک ذمہ دار اور بہادر ریاست کے طور پر متعارف کروا دیا بلکہ تجدید کروادی ہے۔اس کے ساتھ ہی اندرونی طور پر کئی ’بھاڑے کے ٹٹو ‘نمک حلالی کے چکر میں اپنی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے ان کے منہ بند ہوئے بلکہ ان پر شرمندگی کا ڈرون گرا دیا ۔
پاک فوج اور پاک فضائیہ نے دشمن کو اوقات یاد کرا دی  اور ان اندرونی ’دانشوروں‘ کو بھی پاک فوج زندہ باد کہنے پر مجبور کر دیا ۔یہ الگ بات ہے ان کے منہ میں چھالے پڑ گئے ہو نگے۔ اخلاقی لحاظ سے وزیر اعظم پاکستان نے اُس وقت برتری حاصل کی جب اپنے خطاب میں ایک بار پھر امن کی دعوت دی ۔یہ بھی کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور ان کا پائلٹ بھی واپس کر دیا۔
اس سارے کھیل کا فاتح پاکستا ن ہی ہے۔پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتکاری کے ذریعے خود کو منوایا ۔وزیرخارجہ نے کامیاب سفارتکاری سے دنیا کو پیغام دیا کہ ہم کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا جواب دیں گے اور ہم نے عملی طور پر ایسے کر بھی دیا ہے۔دنیا جو ابتدائی طور ہند کے دراندازی کے اقدام کو جائز کہنے لگی تھی ،پاکستان کے جواب اور سفارتکاری نے دنیا کو سوچنے پر مجبور ہوگئی ۔پاکستان کی بہادر افواج کا ڈنکا پورے زور سے بجا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انکی ٹیم نے اس کو کیش بھی کیا۔
پاکستان خاص طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکر گزار ہے کہ ان کے تعاون نے پاکستان کو اعتماد دیا کہ وہ ہر سطح پر اسٹینڈ لے سکتا ہے۔متحدہ عرب امارات اور او آئی سی کے اعلامیہ نے تو پاکستان کے موقف کو معتبر بنا دیا اور ہند کا بیانیہ اندرونی اور بیرونی طور پر مسترد ہو گیا ۔پاکستان کے سفارتکاروں نے دنیا بھر میں امن کا پیغام پہنچایا اور پاکستان کا میڈیا بھی اس مثبت سفارتکاری میں قابل تحسین کردار ادا کرنے پر خراج تحسین کا مستحق ہے۔اس واقعے کا ہند میں اُلٹا اثر ہوا ہے۔وہاں کے عوام اورر سیاسی پارٹیاں مودی حکومت کا موقف تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ان میں واضح تقسیم نظر آئی،بلکہ مودی حکومت مسلسل تنقید کی زد میں ہے۔ ہند کی افواج کا مورال زوال پذیر ہوا ،ان کی فضائیہ کی جگ ہنسائی ہوئی ،ان کی افواج کی جنگی مہارت ایکسپوز ہوئی اور اس پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ہند کی عالمی ساکھ بھی بُری طرح مجروح ہوئی ہے ،وہ طاقتیں جو ہند کو علاقے کا تھانیدار بنانے کا سوچ رہی تھیں ،وہ ہند کی اندرونی حالت اور ساکھ پر غور کرنے لگی ہیں۔پاکستان کے تمام ادارے ایک پیج پر تھے اور ان کی تمام کاوشیں مشترک اور اجتماعی تھیں۔ پاکستان کی سفارتکاری نے ہی پاکستان کو اخلاقی،جنگی،سیاسی اور سفارتی محاذ پر کامیاب کرا دیا ہے۔ویلڈن پاکستان۔

شیئر: