جمہوریت ترقی چاہتی ہے

ڈاکٹر محمد منظور عالم
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ایک ارب 30کروڑ شہریوں کے ساتھ دنیا کا دوسری سب سے بڑی آبادی والی ریاست ہے۔اس کے مسائل کی طویل فہرست ہے۔ ایسے میں اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے کہ ملک کو بنیادی ترقی کی راہ سے ہٹاکر جنگ کے میدان میں جھونک دیا جائے۔ جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ انسانی بحران میں اضافہ ہوا۔ معاشی مصیبتوں کا سامنا کرناپڑا ہے۔بے گناہوں کا قتل عام ہوا ہے۔ فائدہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا۔بیسویں صدی سے جمہوریت پنپنے لگی ہے۔ اکیسویں صدی میں جمہوریت ترقی کررہی ہے۔ یہ انسانی ذہن کا عظیم ترین ارتقاء ہے۔ کامیابی اور کامرانی کیلئے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات اور امن وسلامتی کی بحالی اولین شرط ہے۔ہندوستان اس وقت نازک موڑپر کھڑا ہے۔ 70سالوں کے سفر میں غربت ،جہالت ،پسماندگی اور پستی سے مکمل طور پر نہیں نکل سکا ہے۔ آج بھی ہندوستان کی ایک تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزارر ہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 48 فیصد لوگوں کے پاس اپنے مکانات نہیں۔ 75 فیصد دولت اور سرمایہ صرف چند لوگوں کے ہاتھوں میں محدود ہے۔اس وقت آئین اور دستور کی سب سے زیادہ دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ مسلمانوں ،دلتوں ،آدی واسیوں ،کسانوں اور کمزور طبقات کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہری جیسا برتاؤ کیا جارہاہے۔ان پر مختلف انداز سے تشدد کیاجارہاہے۔انہیں انسانی حقوق سے محروم رکھاجارہاہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی شعبہ نے ہندوستان میں اقلیتوں ،دلتوں اور کمزور طبقات کے ساتھ ہونے والی عصبیت ،تشدد اور مظالم پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاشی استحکام کیلئے خطرہ بتایا ہے۔ اقوام متحدہ نے ہندوستان کی اقلیتوں ،دلتوں اور کمزور طبقات پر مظالم روکنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین کی رپورٹ میں بھی یہ بتایاگیاتھا کہ ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں پر تشدد اور مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔
بین لااقوامی ایجنسیوں کی ان رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ارباب اقتدار اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لاء اینڈ آڈر کا جائزہ لیں۔ ان رپورٹس کو سامنے رکھ کر حالات کا تجزیہ کریں،ملک کے ماحول کو بہتر بنائیں،اندورنی طورپر جاری خلفشار کو ختم کریں۔انتہاء پسندی کو پنپنے سے روکیں۔متشدد طاقتوں پر لگام لگائیں، ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لے رکھا ہے۔
جمہوریت کی ایک اور خوبی اظہار رائے کی آزادی اور انتخابات میں شمولیت کی ہے۔ایسے ممالک میں ہر ایک شہری کو اپنا رہنما منتخب کرنے اور ووٹ دینے کا حق ملتاہے۔ ہندوستان میں اب انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ 5 برسوں کیلئے مرکزی حکومت کا انتخاب ہونے جارہا ہے ایسے میں جمہوریت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا صحیح استعمال بھی ضروری ہے۔ یہی وقت ہے اپنے مستقبل کے تئیں حساسیت اور بیدرای کا ثبوت پیش کرنے کا،ووٹ کے صحیح استعمال کا،اگر ابھی غلطی ہوئی،کسی طرح سے چوک ہوئی تو 5 برسوں تک پچھتانا پڑے گا۔
عام الیکشن 2019 جیتنے کیلئے مختلف طرح کے ہتھکنڈے اپنانے شروع کردیئے گئے ہیں۔ مختلف آئینی اداروں کا استعمال کیا جارہاہے۔ ہر ایک پارٹی اپنی حیثیت سے آگے بڑھ کر ووٹ حاصل کرنے کیلئے وعدہ کررہی ہے۔ جن کے پاس اقتدار ہے وہ اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرکے ہر حال میں الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ملک کو جنگ کے دہانے میں دھکیلنے سے بھی باز نہیں آرہے ہیں۔ امن اور صلح سمجھوتہ کے بجائے وہ ماحول کو خراب کرنے پر آمادہ ہیں۔جنگ ختم کرنے کے بجائے جنگ زدہ ماحول بنانا چاہتے ہیں جبکہ جمہوریت میں جنگ کی گنجائش نہیں۔ ملک کی ترقی اور جمہوریت کی کامیابی کیلئے امن وسلامتی ضرور ی ہے۔ ہندوستان کے عوام عقل مند ،ذی شعور اور بیدار ہیں۔ وہ حالات کو سمجھتے ہیں۔ان کے جذبات کو اب برانگیختہ کرکے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ ان کا استحصال اب آسان نہیں، شہریوں اور رائے دہندگان کے سامنے یہ بھی بڑا چیلنج ہے کہ وہ ترغیب کو سمجھنے کی کوشش کرے اور نہ ہی ترغیب کے جال میں پھنس کر سنہرے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ ڈالیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل اور حالات پر نظر رکھنی ہوگی۔ گذشتہ 5 برسوں میں جس طرح آئین کی دھجیاں اڑئی گئی ہیں،سی بی آئی ،عدلیہ ، آر بی آئی اورفوج سمیت متعدد اداروں کے آئینی اور بنیادی حقوق سے جس طرح کھلواڑ کیاگیاہے، اسے سامنے رکھنا ہوگا۔ریزرویشن ،بھائی چارہ ،امن واتحاد ،ہندومسلم یکجہتی ختم کرکے جس طرح منوادی نظام کو تھوپنے کی پالیسی اپنائی گئی اسے ختم کرنے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر ووٹ دینا ہوگا۔ ملک کی ترقی اور سماج کی کامیابی کیلئے دستور کو سمجھنا ،اسے عملی جامہ پہنانا ،ہر ایک شہریوں کو یکساں حق دینا ،تمام طرح کی اسکیموں میں برابری کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایسی ہی نظام چلانے والی حکومت کا انتخاب ملک کے حق میں ضروری ہے۔امید ہے کہ 2019 کے عام انتخابات میں عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال سوچ سمجھ کر ، ملک کے وقار ،مستقبل اور ترقی کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے، کسی لالچ اور خوف سے آزاد ہوکر ایک ترقی پسند حکومت کو اقتدار تک پہنچائیں گے تاکہ ملک میں آئین کی بحالی ہو۔ جمہوریت مضبوط ہو اور تمام شہریوں کو انصاف ،مساوات ،تحفظ اور آزادی مل سکے۔
مزید پڑھیں:- - - - نان اسٹیٹ ایکٹرز کیخلاف کارروائی

شیئر: