کرائسٹ چرچ حملہ: 4 پاکستانی زخمی، 5 لاپتہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں2 مساجد پر حملے میں 4 پاکستان زخمی ہوئے ہیں جبکہ5 لاپتہ ہیں۔
نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر مائیک بش کے مطابق کرائسٹ چرچ میں2 مساجد میں فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 49 ہوگئی  جبکہ ملک کی وزیراعظم جاسینڈ آرڈرن نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔
پولیس کمیشنر مائیک بْش کے مطابق یہ حملے جمعہ کو ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش  آئے۔
پاکستان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق5 لاپتہ پاکستانی شہریوں سے متعلق پاکستانی ہائی کمیشن تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس وا قعہ میں چار پاکستانیوں کو گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ ان کی حالت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کی پولیس نے اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک خاتون سمیت 4 افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم ان میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا گیا ۔

کرائسٹ چرچ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ ایک شخص کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اسے ہفتے  کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ کیا ایک ہی شخص دونوں مساجد میں حملے کا ذمہ دار تھا اور حراست میں  لئے گئے دیگر افراد کی شناخت کے بارے میں بھی نہیں بتایا۔
اس سے قبل ایک 28 سالہ آسٹریلوی شہری نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کی جانب سے ایک امیگریشن کے خلاف ایک بیان بھی سامنے آیا تھا۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈ آرڈرن نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں2مساجد پر حملہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ’دہشت گرد حملے کے سوا کچھ نہیں‘ اور اس حملے میں 40 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جسنڈرا آرڈرن کے مطابق اس حملے کے بعد پولیس نے ایک خاتون سمیت 4 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جمعہ کو وزیر اعظم جیسنڈا ایرڈرن نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا گیا  اور حراست میں  لئے گئے افراد کے علاوہ بھی حملہ آوروں کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے مزید دستوں کو علاقے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے فائرنگ کے وا قعہ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا تھا۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے حراست میں لئے گئے 4 افراد میں سے ایک آسٹریلوی شہری ہے۔

جمعہ کی دوپہر کرائسٹ چرچ کی2 مساجد میں مسلح شخص نے فائرنگ کی تھی۔ عینی شاہد نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ایک شخص نے فوجی وردی پہنی ہوئی تھی جس کے ہاتھ میں خودکار رائفل تھی اور وہ مسجد النور میں لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔
 کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ اپنا تیسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لئے  آئی بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم ہیگلے پارک ڈسٹرکٹ میں واقع اس مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے پہنچی ہی تھی کہ فائرنگ شروع ہو گئی، لیکن وہ اس سے پچ کر نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔
بنگلہ دیشی کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ’ پوری ٹیم متحرک حملہ آواروں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی ہے!دل دھلا دینے والا تجربہ اور برائے مہربانی ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
 

 

 

شیئر: