”میں تتلی ہوں، تمہاری قید میں نہیں رہ سکتی“

 وہ گرجی تو مشرف گڑگڑانے لگا، اسے منانے لگاحالانکہ اب بھی کرتا دھرتا وہی تھا ،نازو بڑی طوطا چشمی سے اس کے کئے کرائے کو ملیامیٹ کررہی تھی مگر اسے یہ بھی قبول تھا
مسز زاہدہ قمر ۔ جدہ
اس کے غصے سے ڈرتا تھا کہ کہیں ناراض ہوگئی تو کئی دن تک منہ پھلائے رکھے گی اور اسکی ناراضی تو مشرف کی جان نکال دیتی تھی اس لئے اس کی ہر بدتمیزی اور غصے کو وہ بڑی رسانیت سے برداشت کرتا تھا۔ وہ جو اپنے گھر میں ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا اب بے حسی اور چاپلوسی کی ساری حدیں پھلانگ گیا تھا۔ 
اوہو! بڑے آئے رانی بناکر رکھنے والے، یہ کیوں نہیں کہتے کہ مجھے قید کرنا چاہتے ہو؟ اور پھر میرے گھر والوں کا کیا بنے گا؟ ان کا خرچہ کون اٹھائےگا؟ مجھے تو تم قید کرلو گے۔ میں تتلی ہوں تتلی۔ ایسے ہی لوگ مجھے تتلی نہیں کہتے، آزاد ہوں،تمہاری قید میں نہیں رہ سکتی۔وہ جاہلانہ پن سے چلا رہی تھی۔
بولو!میرے گھر والوں کے خرچے پانی کا کیا ہوگا؟ میں اپنے ماں باپ کا بازو ہوں۔ 
ارے ارے !اتنا غصہ؟ بھئی میں تو یہ تیور دیکھ کر ہی مرجاﺅ ں گا، مشرف نے عامیانہ انداز میں مسکرا کر اس کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
تمہارے گھر والے اب میرے بھی گھر والے ہیں۔
ان کے بارے میں سوچنا اب تمہاری نہیں، میری ذمہ داری ہے۔ میں اٹھاﺅں گا انکا خرچہ! وہ اب بھی نازوکے گھر کے تمام خرچ اٹھا رہا تھا۔ سب کی فرمائشیں پوری کرتا تھا مگر ڈر کے مارے اس نے جتایا نہیں بلکہ صرف یہ کہا کہ میں خرچہ اٹھاﺅنگا مگر نازو تو یہ سن کر سیخ پا ہوگئی۔
کیوں!ہم بے حس ہیں کیا، بالکل ہی لاپروا سمجھا ہے میرے والدین اور گھر والوں کو جو وہ تم سے خرچہ پانی لیں گے۔
ہم عزت دار لوگ ہیں، محنت کرتے ہیں اور کسی کا احسان نہیں لیتے، سمجھے تم! آئندہ ایسی گھٹیا بات مت کہنا۔ وہ گرجی تو مشرف اس کے سامنے بالکل غلاموں کی طرح گڑگڑانے لگا، اسے منانے لگاحالانکہ اب بھی کرتا دھرتا وہی تھا اور نازو بڑی طوطا چشمی سے اس کے کئے کرائے کو ملیامیٹ کررہی تھی مگر اسے یہ بھی قبول تھا۔ بڑی مشکل سے نازو کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔
اچھا سنو ! راشن ڈلوا لینا گھر میں اور اماں ابا کو ذرا بازارلے جاکر ڈھنگ کے کپڑے دلوا دو، وہ منہ سے نہیں کہتے تو تم بھی اندھے بن گئے ہو۔ دیکھتے نہیں انکے پاس سارے کپڑے پرانے ہوگئے ہیں۔ وہ فرمائشی پروگرام کرنے لگی۔ 
ہاں بھئی! تم ٹھیک کہہ رہی ہو، واقعی مجھے ان دونوں کیلئے سوچنا چاہئے تھا۔
بس سوری،میں بھول گیا تھا۔ راشن کا بھی اور کپڑوں کا بھی۔وہ اس کے ضمیر جگانے والی نصیحتوں کو بھول کربڑے فدایانہ انداز میں چاپلوسی کررہا تھا۔ہاںجی ، بھول گیا راشن کومگر کھانا کھانا نہیں بھولا۔ 
یہ بات منے چنے کو کون بتائے گا کہ کھانا راشن سے بنتا ہے۔ بڑے بھولے ہو ۔ یہ بھی بھول گئے کہ مجھے جھمکے دلوانے کا وعدہ کیا تھا صرف دو کڑے ہی دلوائے۔ بس اتنی اوقات تھی تمہاری ! وہ مسلسل طنزیہ انداز میں مشرف کی بے عزتی کررہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: