یکطرفہ مرورِ محبت، جس کا ہر لمحہ کسک بن کر جسدِ احساس کو کچوکے لگاتا ہے

ایسی خیرات جس کا کوئی سوالی نہ ہو، رائگاں جاتی ہے، یکطرفہ محبت بھی اپنی رعنائیاں کھو دیتی ہے کیونکہ اسے جواب نہیں ملتا، محبت جواب چاہتی ہے، سوال بن کر رہنا اس کیلئے ممکن نہیں ہوتا
شہزاد اعظم۔جدہ
مناہل اکثرمیرا دامن پکڑ کر کھینچتی اور توتلی زبان میں کہتی کہ ”مما! مجھے پاپا پاچھ لے کے چلو، مجھے پاپا پاچھ جانا ہے۔“میں اسے کیسے سمجھاتی کہ آپ کے پاپاایک بیٹی مناہل اوربیوی زریںپر مشتمل اس ”نسوانی جنت“ کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ہم دونوں ماں بیٹیوں کے مقدر میں ایک بات” یکطرفہ محبت“ مشترک ہے۔ میں نے بیوی ہونے کے ناتے زعیم کودل و جان سے ٹوٹ کر چاہا۔ میری محبت، خدمت، ایثار اور پیارکسی طور زعیم کا دل جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس یکطرفہ مرورِمحبت نے مجھے کئی بار نااُمیدی کی سنسنان وادیوں میں دھکیلا مگر میں ہر مرتبہ اک نئے حوصلے سے زعیم کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگتی ۔میں سوچتی تھی کہ کسی پتھر پر اگرپانی کا قطرہ ٹپکتا رہے تو وہ اس میں سوراخ کر دیتا ہے، اسی طرح میری محبت بھی ایک نہ ایک روز زعیم کے دل میں اپنی جگہ بنا لے گی مگر یہ محض میرا گمان ہی رہا۔ زعیم ایسی سنگلاخ چٹان کی مانند تھا جس میں پانی کے قطرے سے سوراخ کے لئے صدیاں درکار تھیں۔
مناہل بھی اپنے پاپا سے بے حد پیارکرتی تھی۔ وہ ہر روز ضد کرتی کہ میں اپنے پاپا کے سینے پر سر رکھ کر سوﺅں گی مگر زعیم اسے ڈانٹ دیتے اور کہتے کہ جاکر اپنی ماما کے پاس سوجاﺅ۔ مجھے تنگ مت کرو۔ وہ روتی ہوئی میرے پاس آتی اور مجھ سے شکایت کرتی کہ میرے پاپا نے مجھے” دانتا“ میں اس معصوم کو کیا بتاتی کہ یکطرفہ محبت کا شکار صرف وہی نہیں بلکہ میں بھی ہوں۔
ایک عرصے تک میں زعیم کے ساتھ اسی کسمپرسی اور تکلیف دہ حالات میں گزارا کرتی رہی۔ مجھے اس امر کا ادراک ہی نہیں ہوسکا کہ زعیم کا یہ رویہ کس لئے ہے۔ ایک روز مجھ پر جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ میری ایک سہیلی نے مجھے بتایا کہ آپ کے شوہر جو میرے دفتر میں کام کرتے ہیں ان پر کمپنی کے مالک کی صاحبزادی جو سی ای او ہیں، فریفتہ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے آپ کے شوہر سے اس طرح روابط استوار کررکھے ہیں کہ دفتر کے ہر فرد کو اسکا علم ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ اس خاتون کے والد جو کہ کمپنی کے مالک ہیں انہیں بھی اس حوالے سے معلومات ہیں۔ بات اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ یہ آپ کے شوہر کسی بھی دن اس سی ای او کو آپ کی سوتن بناکر لے آئیں گے۔
سہیلی کی اس بات پر مجھے یقین نہیں آیا لیکن جب میں زعیم کے رویئے کی جانب دیکھتی تومجھے ایسا لگتا کہ میری سہیلی نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ درست ہے۔ یونہی دن گزرتے رہے نہ جانے کتنی صبحیں اور کتنی شامیں آئیں اور آکر چلی گئیں۔ ایک روز ایسا بھی آیا ج کہ زعیم نے مجھے اور مناہل کواپنے ساتھ ہوٹل میں ڈنر پر چلنے کیلئے کہا۔ میرا دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ زعیم کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوگیا ہے۔ اس نے جان لیا ہے کہ وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرے دل نے گواہی دی کہ اب مرور محبت یکطرفہ نہیں رہیگی بلکہ میں نے آج تک جتنی بھی مشکلات برداشت کی ہیں اب انکا صلہ ملنے والا ہے۔ میں نے زعیم کی پسندیدہ ساڑی زیب تن کی، بالوں میں پھولوں کا زیور گوندھا۔ اسکی پسندیدہ خوشبو اوڑھی اور مناہل کو تیار کرکے اپنے ساتھ لیا۔ زعیم نے ہمیں گاڑی میں بٹھایا ا ور ساحل سمندر کے نزدیک ایک ہوٹل پر لیجاکر گاڑی روک دی۔ یہ نہایت خوبصورت اور پرسکون ماحول کا حامل ہوٹل تھا۔ ہم تینوں ایک ٹیبل پر جاکر بیٹھ گئے۔ ویٹر نے ہم سے آرڈر لیا۔ میں نے خوشی خوشی اپنے پسندیدہ گولہ کباب منگوائے۔ مناہل کے لئے میکرونی منگوائی ۔ زعیم نے صرف چائے کا آرڈر دیا او رکہا کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔ ویٹر نے کھانا لاکر میز پر رکھا۔ ہم نے کھانا شروع کیا۔ اسی دوران زعیم نے کہا کہ میں آج تمہیں ڈنر پر اسلئے لیکر آیا ہوں تاکہ پرسکون ماحول میں ایک تلخ حقیقت گوش گزار کرسکوں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے باس کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتاہوں۔ ہم دونوں محبت میں اس مقام پر جاپہنچے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ میں اپنا فیصلہ سنا رہا ہوں کہ میںاپنے باس کی بیٹی مس شہلا سے شادی کررہا ہوں اور مجبوری یہ ہے کہ شہلا کو یہ گوارا نہیں کہ وہ کسی کی سوتن بن کر گھر میں داخل ہو چنانچہ اس نے یہ شرط عائد کی ہے کہ میں اپنی پہلی بیوی کو فوری طلاق دیدوں۔ میں طلاق کی یہ خبر سنانے کیلئے ہی تمہیں یہاں لایا ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تم نے میرے ساتھ جو بھی وقت گزارا وہ بہت اچھا تھا کسی حد تک تم نے قربانی بھی دی لیکن میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ شہلا کے بغیر میری زندگی ادھوری ہے اور اس کے بغیر میں زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میں نے زعیم سے سوال کیا کہ اگر آپ شہلا کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے اور یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں تو مجھے بتلائیں کہ میں زعیم کے بغیر زندگی گزار نہیں سکتی ، میں اپنا قصہ غم کسے سناﺅں۔ کون ہے جو میرے اس دکھ کا فیصلہ کریگا۔ میں ہی نہیں میری بچی بھی اسی کو چاہتی ہے۔ جس نے ہم سے نگاہیں پھیرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں کیسے بتاﺅں کہ یکطرفہ مرورِ محبت میںگزرنے والا ہر لمحہ کسک بن کر جسدِ احساس کو کچوکے لگاتا رہتا ہے ، ایسی خیرات جس کا کوئی سوالی نہ ہو، رائگاں جاتی ہے۔ یکطرفہ محبت بھی اپنی تمام تر رعنائیاں کھو دیتی ہے کیونکہ اسے جواب نہیں ملتا۔ محبت جواب چاہتی ہے۔ صرف سوال بن کر رہنا اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ میں ایک ایسی شخصیت تھی کہ جو ساری زندگی زعیم کے سامنے محبت کے لئے دست سوال دراز کئے رہی۔ برسوں بعد بھی میرا کشکول خالی ہی رہا۔ میں کھانا کھائے بغیر بوجھل قدموں کے ساتھ گھر واپس آگئی۔ زعیم نے کہا کہ میں تمہیں گاڑی میں واپس لے چلتا ہوں لیکن میں نے اسکی ایک نہ سنی اور ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر آگئی۔ زعیم نے ایک عنایت یہ کی تھی کہ جاتے جاتے کہہ دیا تھا کہ جب تک تمہارا کوئی اور بندوبست نہیں ہوجاتا تم میرے گھر میں رہ سکتی ہو کیونکہ بہرحال تمہارے ساتھ میری بیٹی مناہل بھی ہے۔ 
(باقی آئندہ: ان شاءاللہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: