رجب کے کُونڈے ، منگھڑت فسانے پر مبنی

امام جعفر صادقؒ  کی تاریخ پیدائش8 رمضان یا 17ربیع الاوّل ہے ،22 رجب نہیں اور نہ ہی یہ ان کی تاریخِ وفات ہے
محمد منیر قمر۔الخبر
کہا جاتا ہے رجب کے کونڈے اندر ہی اندر پکتے اور تیار کئے جاتے ہیں ، انہیں اندر ہی کھایا جاتا ہے ، اس مخصوص حلوے کو چھت کے نیچے تیار کیا جاتا ہے اور چھت کے نیچے ہی کھایا جاتا ہے ، اسے باہر نہیں لے جایا جاسکتا۔ یہ بات محض اس حد تک تو بہر حال معقول ہے کہ ایسی چیزیں چھت سے باہر لے جاکر نہیں کھائی جاتیں بلکہ یہ’’ اندر کی چیز ‘‘ہے ، اسے اندر ہی رہنا چاہیئے ، باہر تو وہی چیز لائی جا سکتی ہے جو مذہبی ، اخلاقی، طبعی اور معاشرتی ہر اعتبار سے جائز اور ناقابلِ اعتراض ہو جبکہ یہاں کم از کم دینی و مذہبی اعتبار سے معاملہ اِسکے بر عکس ہے کیونکہ کونڈوں کا آغاز کسی شرعی دلیل پر نہیں ہوا بلکہ یہ تو محض ایک قصے یا افسانے میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ، قرآن و سنت اور سلفِ امت کے یہاں یہ مروّجہ فعل ثابت نہیں ۔
    تو آئیے پہلے آپ کو اِن کونڈوں کو وجۂ جواز بخشنے والی’’ داستانِ عجیب ‘‘کا خلاصہ سنادیں، لکڑہارے کی وہ داستان کچھ اس طرح ہے :
    ’’ ایک لکڑ ہارا مدینہ منورہ میں تنگدستی کی زندگی بسر کر رہا تھا ، تونگری کی تلاش میں وہ مدینہ سے نکلا اور 12سال تک کہیں بھی خوش حالی کی جھلک نظر نہ آئی ، پیچھے بیوی نے وزیر کے محل میں نوکری اختیار کر لی ۔ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ حضرت امام جعفر صادقؒ  کا وہاں سے گزر ہوا،انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : آج کیا تاریخ ہے ؟ کسی نے بتایا : آج رجب کی 22تاریخ ہے ، فرمایا:
     اگر کوئی مشکل میں پھنسا ہوا ہو تو اس کو چاہیئے کہ نئے کونڈے لائے اور اُن میں پوریاں بھر کر میرے لئے فاتحہ پڑھے ، پھر میرے وسیلے سے دُعا  مانگے ، اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہ ہوئی تو قیامت کے دن میرا دامن پکڑلے، یہ سن کر لکڑہارے کی بیوی نے اس پر عمل کیا اور اپنے شوہر کے صحیح وسلامت اور مال و دولت کیساتھ واپس لوٹ آنے کی دُعا کی اور پھر کونڈے اپنا رنگ دکھاتے ہیں ،12سال سے مارا مارا پھرنے والا لکڑ ہارا ایک مدفون خزانے کو پالیتا ہے اور واپس آکر وزیر محل کے سامنے ایک شاندار گھر بنالیتا ہے۔
     اچانک ایک دن وزیر کی بیگم کی نظر اپنے محل کے سامنے بنے ہوئے اُس شاندار مکان پر پڑی اور پتہ چلا کہ یہ اُسی خادمہ کا گھر ہے جو یہاں جھاڑو دیا کرتی تھی ، اسے بلواکر اسکا راز پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ سب کونڈوں نے رنگ دکھایا ہے ، وزیر کی بیگم کو کونڈوں کی اس’’ کرامت ‘‘پر یقین نہ آیا اور کہا :تمہارے شوہر نے یہ مال کسی چوری ڈاکے کے ذریعے حاصل کیا ہوگا۔
    جیسے ہی اس نے حضرت امام جعفر صادقؒکے ارشاد و کرامت کو جھٹلایا ویسے ہی اسکے میاں سے وزارت کا عہدہ جاتا رہا ، حاسد و کینہ پرور جھوٹا وزیر غالب آگیا اور اس نے اسکے میاں کو خائن ثابت کردیا ، بادشاہ نے اس وزیر کو معزول کر کے اسکی تمام جائداد بحقِ سرکار ضبط کرلی اور اسے ملک چھوڑ جانے کا حکم دے دیا ۔ میاں بیوی شہر سے نکل رہے تھے کہ بیوی کے پاس کُل 2درہم تھے ، ان میں سے انہوں نے ایک درہم کا خربوزہ خرید کر رومال میں باندھ لیا تاکہ بھوک کے وقت کام آئے ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن بادشاہ کا بیٹا شکار پر گیا ہوا تھا جسکے واپس آنے میں کچھ دیر ہوگئی ، نئے وزیر نے پھر کاری ضرب لگائی کہ کہیں معزول وزیر نے اُسے قتل نہ کروا دیا ہو ۔بادشاہ کے حکم سے سرکاری کارندے گئے اورانہیںدربار میں حاضر کردیا ، جب معزول وزیر کی بیوی کے ہاتھ میں موجود رومال کو کھولا گیا تو اس میں خربوزے کی جگہ شہزادے کا سر بندھا ہوا پایا گیا، بادشاہ ان دونوں کو پھانسی پر لٹکانے کا حکم صادر کر دیتا ہے اور جیل میں بند کر دیتا ہے ۔
    وزیر اور اس کی بیگم کونڈوں کی کرامت پر یقین نہ کرنے کے نتیجہ میں سزائے موت کے انتظار میں جیل میں بندہیں، وزیر اپنی بیگم سے کہتا ہے :
    مجھے کچھ یا دنہیں پڑتا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کِسی پر ظلم کیا ہو ، نہ جانے ہمیں کس خطا کی پاداش میں یہ ذلّت و رسوائی مل رہی ہے ؟،وزیر کی بیگم نے کہا: آپ تو بے قصور ہیں، قصور وار تو مَیں ہوں کہ جس نے حضرت جعفر صادق رحمہٗ اللہ کے کونڈوں کا انکار کیا ۔
چنانچہ وہ ساری رات توبہ کرتی رہی ، خلاصی کی صورت میں کونڈے بھرنے کا عزم کرتی رہی ۔
    اِدھر انہوں نے کونڈوں کی عظمت کا اقرار کیا ، اُدھر شہزادہ شکار سے گھر واپس آگیا ،بادشاہ اپنے بیٹے کو سلامت دیکھ کر بڑا حیران ہوا اور وزیر کو جیل سے نکلواکر ماجرا دریافت کیا تو اس نے ادب و احترام سے کونڈے نہ بھرنے ، ان کو جھٹلانے اور پھر رات جیل میں توبہ کر کے کونڈے بھرنے کے عہد کا واقعہ بیان کردیا ۔ بادشاہ نے اس وزیر کو دوبارہ بحال کردیا بلکہ خلعت سے بھی نوازا ،پھر بادشاہ اور وزیر تو کیا ، رعایا نے بھی کونڈے بھرنے کا اہتمام شروع کر دیا۔
         یہ عجیب و غریب داستان کونڈے بھرنے والوں کی دلیل ہے جو نہ تو آسمان سے نازل ہوئی ہے ، نہ نبیٔ رحمت ﷺ کی زبانِ مبارک سے صادر ہوئی ہے اورنہ ہی خلفائے راشدین یا دیگر صحابہ ؓ  میں سے کسی کی طرف منسوب ہے بلکہ قطعی من گھڑت کہانی ہے جو قرآن و حدیث تو دور کی بات ہے ،کسی بھی معتبر کتاب میں مذکور نہیں اور نہ ہی اِسکی کوئی سند ہے بلکہ کسی منشی جمیل احمد کے منظوم کلام میں خوبصورت انداز سے یہ افسانہ مِلتا ہے جس کا خلاصہ ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اسے الف لیلوی اور ہزار داستان نما ادبی شہ پارہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اِسے شریعت مان لیں ، اِتنی بڑی حماقت کوئی صاحبِ عقل و دانش مسلمان کیسے کر سکتا ہے؟
    اس افسانہ کے من گھڑت ہونے کے بعض دلائل  :
    جس ہستی یعنی حضرت امام جعفر صادق ؒ کی طرف اس داستان کو منسوب کیا گیا ہے ، اُن سے ایسے متکبرانہ الفاظ کا صادر ہونا قطعاً بعید از عقل ہے ۔
     اس داستان کے جھوٹے ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں نہ کبھی کوئی بادشاہ ہوا ہے ، نہ وزیر خصوصاً جبکہ حضرت امام جعفرؒ  کی پیدائش ایک روایت کے مطابق8رمضان80ھ اور دوسری کے مطابق 18؍ ربیع الاوّل83ھ میں ہوئی اور اُن کی وفات پر اتفاق ہے کہ15 ؍ شوال148ھ ہے ، اب تاریخِ اسلام کو دیکھ لیں، معلوم ہوجائے گا کہ اُن کی عمرِ عزیز کے تقریباً 52سال خلفائے بنی امیہ کے عہد میں گزرے جن کا دار الخلافہ دمشق تھا اور باقی سال خلافتِ بنی عباس میں گزرے جنہوں نے بغداد کو اپنا دار الخلافہ بنا لیا تھا ۔
    ان تاریخی حقائق سے معلوم ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں کبھی کوئی بادشاہ تھا ، نہ اس کا محل ، نہ کوئی وزیر تھا اور نہ ہی وزیر کا محل البتہ جس ادیب و شاعر نے بادشاہ ، وزیر اور ان کے محلات بنا ڈالے، اسی نے لکڑہارے کا کردار بھی تراش لیا اور ایک ادبی شہ پار ہ لکھ مارا جسے ہم نے شریعت بنا ڈالا ہے۔
    سابقہ دونوں تاریخی روایات کے مطابق امام جعفر صادقؒ  کی تاریخ پیدائش8 رمضان یا 17ربیع الاوّل ہے ،22 رجب نہیں اور نہ ہی یہ ان کی تاریخِ وفات ہے بلکہ وہ بالاتفاق15شوال ہے ، اب بتائیں یہ کونڈے کس خوشی میں بھرتے ہیں ؟
    در حقیقت بعض لوگوں کے نزدیک اُس دن نبیﷺ کے کاتبِ وحی اور آپﷺ کے برادرِ نسبتی ، امّ المؤمنین حضرت امّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت امیر معاویہؓ  کی وفات ہوئی تھی، لہٰذا وہ تو عمداً اور دانستہ بغضِ معاویہؓکے اظہار کیلئے خوشی مناتے اور حلوہ پوری کے کونڈے بھر بھر کر تقسیم کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگوں کی کثیر تعداد بلا سوچے سمجھے ، نا دانستہ ہی ان کی خوشی میں شریک ہوجاتی ہے ، پہلے تو اندر کا یہ لاوا اندر ہی اندر پکتا تھا اور اندر ہی اندر کھایا جاتا تھا مگر جب دوسرے لوگوں کی ایک بھیڑ بھی اُنکے ساتھ شامل ہوگئی تو اب اُسے مذکورہ داستانِ عجیب کے ذریعے ایک نئی صورت دے دی گئی ہے۔

شیئر: