’’مسٹر چپس کو گڈبائے کہنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا‘‘

رائے شاہنواز 
 
’مسٹر چپس‘ انٹرمیڈیٹ کے سلیبس میں رہیں گے یا نہیں اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
 
پاکستان میں گذشتہ چند روز سے مقامی نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر اس خبر کی بہت تشہیر ہوتی رہی ہے کہ پنجاب حکومت نے شہرہ آفاق انگریزی ناول ’گڈ بائے، مسٹر چپس‘ کو انٹرمیڈیٹ کے سلیبس سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اردو نیوز نے اس معاملہ کی کھوج لگائی تو صورتحال اس سے بھی تھوڑی مختلف نظر آ ئی، جب پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی عبدالقیوم سے رابطہ کیا تو ان کا یہ کہنا تھا کہ ابھی تک بورڈ نے مسٹر چپس کو سلیبس سے نکالنے کا فیصلہ نہیں کیاالبتہ بورڈ آف گورنرز کی ماہانہ وار ہونے والی اگلی میٹنگ میں اس معاملے کو رکھا جائے گا۔ اگر بورڈ نے متفقہ فیصلہ کیا تو اس ناول کو سلیبس سے ہٹا دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکی مصنف جیمز ہلٹن کا یہ ناول سنہ 1934 میں شائع ہوا تھا اور یہ سنہ 1963 سے پنجاب میں انٹرمیڈیٹ کے انگریزی نصاب کا حصہ ہے۔ 
یہ ناول ایک سکول ٹیچر مسٹر چپنگ کی زندگی پر مشتمل ہے جو برطانیہ کے ایک خیالی شہر میں ایک سکول تدریس سے وابستہ ہے۔ اس ناول کا میں مسٹر چپس کی اببدائی زندگی سے موت تک 1870 سے لے کر1933 کےعرصہ میں ہونے والی سماجی تبدیلیاں، فرانس و روس کی جنگ کا آغاز اور ہٹلر کے اقتدار میں آنے تک معاشرتی و سماجی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ مسٹر چپس کو سلیبس سے ہٹانے کا محرک کیا ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ حال ہی میں شروع کیے جانے والے پرائم منسٹر سٹیزن پورٹل میں آنے والی کئی شکایات کی وجہ سے اس بات پر غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں نے اس آن لائن شکایت سیل میں بڑی تعداد میں اس ناول کے سلیبس میں ہونے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کتنی شکایات ان کو موصول ہوئیں تو ان کا کہنا تھا کہ آن لائن شکایت سیل میں ہر دو سو میں سے تیس شکایتیں مسٹر چپس کے ناول سے متعلق ہیں۔ زیادہ تر لوگ یہ تجویز دے رہے ہیں کہ یہ ناول غیرضروری ہے اس کی جگہ پر پیغمبر اسلام کی سوانح عمری پڑھائی جائے۔

  • مسٹر چپس سے شکایت کیوں؟ 
پنجاب کری کولم اینڈ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالقیوم سے جب یہ پوچھا گیا کہ آخر لوگوں کو اتنی دہائیوں کے بعد ’گُڈ بائے مسٹر چپس‘ سے شکایت کیوں پیدا ہوئی اور ان شکایات کی نوعیت کیا ہے؟ تو ان کا یہ کہنا تھا کہ لوگوں کی شکایت یہ ہے کہ یہ ناول ایک ایسی شخصیت سے متعلق ہے جو ہمارے کلچر سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اگر کسی شخصیت کے بارے میں پڑھایا ہی جانا ہے تو کیوں نہ کسی مسلمان شخصیت کے بارے میں پڑھایا جائے۔
 انہوں نے کہا کہ ہلکی پھلکی شکایات تو پہلے بھی آتی تھیں اور ان کو نمٹا دیا جاتا تھا۔ اب پرائم منسٹر پورٹل کی وجہ سے وفاقی حکومت نے وہ شکایات ہمیں بھیجی ہیں اور اب کی بار ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس لیے اب بورڈ اس پر غور کرے گا۔
  • نصاب بدلنے کا طریقہ کار
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں نصاب تعلیم میں تبدیلی کا طریقہ کیا ہے۔ کیا نصاب محض لوگوں کی پسند نا پسند اور خواہشات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے یا تبدیل کیا جاتا ہے؟ عبدالقیوم کہتے ہیں کہ عمومی طور پر ایسا نہیں۔
عبدالقیوم کے مطابق بورڈ انتہائی منجھے ہوئے تعلیمی ماہرین پر مشتمل ہے تاہم پاکستان کے اکثریتی عوام کے مطالبے کو بالکل نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ اسی لیے بورڈ کی اگلی میٹنگ میں اس موضوع کو زیر بحث لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نصاب میں‌ ترمیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ بورڈ میٹنگ میں معاملہ رکھا جاتا ہے۔ جس پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ بحث کئی اجلاسوں تک محیط ہوتی ہے، اور فیصلہ ہو جانے کے بعد باقاعدہ ترمیم کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل درآمد کا مرحلہ آتا ہے. اور وہ چیز اگلے سال کی کتب میں تبدیل کردی جاتی ہے۔
اردو نیوز کے ایک سوال پر کہ اگر بورڈ نے حتمی فیصلہ کرلیا تو غیر مسلم طلبا کے لیے کیا متبادل مضمون رکھا جائے گا؟ عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ان کے لیے بانی پاکستان محمد علی جناح کی سوانح عمری متبادل مضمون کے طور پر نصاب میں رکھی جائے گی۔
 

شیئر: