کراچی میں امن کے واضح اشارے لیکن سٹریٹ کرائم اب بھی ایک بڑا مسئلہ

توصیف رضی ملک
 
پاکستان کا ساحلی شہر کراچی  کچھ عرصہ پہلے جرائم اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے خبروں میں رہتا تھا تاہم حالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے اور اب یہاں پاکستان سپرلیگ کے میچز کے انعقاد کو حکام شہر میں امن کی مکمل بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ 
کرکٹ میچوں کے انعقاد کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے تھے جس میں پولیس کے ساتھ ساتھ فوجی اور نیم فوجی دستوں کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں تو کیا ایک ایونٹ کے کامیاب ہونے پر کہا جا سکتا ہے کہ شہر میں اب سب اچھا ہے؟
دنیا کے بڑے شہروں میں جرائم کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے گلوبل کرائم انڈیکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق جرائم کی شرح میں نمایاں کمی کی وجہ سے کراچی کی رینکنگ بہتر ہو کر 61 ہو گئی ہے جبکہ 2014 میں کراچی کا چھٹا نمبر تھا۔
2014 میں کراچی میں جرائم کی شرح 81.34 تھی جو 2019 تک بہتر ہو کہ58.43 ہو گئی ہے۔
 اس انڈیکس میں انڈیا کے دارالحکومت دہلی کا 55واں نمبر ہے اور وہاں حالات کراچی کی نسبت زیادہ خراب ہیں۔
عالمی رپورٹس میں تو بہتری کے واضح اشارے ملتے ہیں تو کیا شہری بھی شہر میں امن و امان کی صورتحال سے مطمئن ہیں؟
یہ جاننے کیلئے اردو نیوز نے کراچی میں سپیئر پارٹس ڈیلر ارشد سلام غوری سے بات کی، انہوں نے بتایا کہ کراچی میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد  صورتحال  میں بہت بہتری آئی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ شہر میں نو گو ایریاز کا خاتمہ ہوا ہے اور بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں کمی کی  وجہ سے کاروبار بہتر ہوا ہے۔
صحافی اور سوشل ایکٹیوسٹ رمشا جہانگیر نے بھی شہر میں سکیورٹی حالات کو پہلے کی نسبت بہتر قرار دیا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کا انعقاد امن کی دلیل ہے، اور اس کے علاوہ بھی شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور شہری خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔
کراچی میں امن و امان کی ابتر صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے پولیس کے محکمے کو بھی زیادہ فعال اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے وعدے کیے گیے تھے لیکن اس شعبے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ 
اس کی ایک مثال سال 2018 میں جاری کردہ پولیس رپورٹ ہے جس کے مطابق، شہر میں قتل و غارت گری اور اغوا برائے تاوان میں کمی آئی لیکن سٹریٹ کرائم ایک چیلنج رہے۔ پولیس ڈیٹا کے مطابق گذشتہ برس سٹریٹ کرائم میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔
 
اس حوالے سے لندن میں قائم سکیورٹی فرم، سی ٹی ڈی ایڈوائزر (CTD Advisors) نے کراچی میں امن و امان کی  موجودہ صورتحال پہ اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن فرم سے وابستہ سکیورٹی کنسلٹنٹ نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو سراہا،تاہم انہوں نے پولیس کے نظام میں بہتری کی اشد ضرورت کی بھی نشاندہی کی۔
سٹریٹ کرائم کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہری روزینہ رشید نے بتایا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال مبہم سی ہے اور موبائل چوری کے واقعات پھر سے سننے اور دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
کراچی کے پولیس چیف ڈاکٹر عامر احمد شیخ نے بھی اردو نیوم سے بات کرتے ہوئے اس مسئلے کو تسلیم کیا اور بتایا کہ سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پی ایس ایل کا انعقاد کراچی میں سکیورٹی صورتحال میں بہتری کی واضح مثال ہے لیکن شہر کی گلیوں اور شاہراؤں کو مزید محفوظ بنانے کے کیلئے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔  
 
 

شیئر: