بحرین میں خطے کا سب سے بڑا کلیسا تعمیر ہوگا

 30ملین ڈالر لاگت آئے گی، ایک سو بحرینی خاندان عیسائی ہیں، حکومت کی طرف سے مکمل تعاون حاصل ہے
 
بحرین میں خطے کا سب سے بڑا کلیسا تعمیر ہوگا۔ 30ملین ڈالر لاگت کا تعمیر ہونے والی کلیسا خلیج عرب کے شمالی علاقہ کا سب سے بڑا کلیسا ہوگا۔ یہ بات بحرین میں قومی کلیسا کے خادم اور ’’البیارق البیضاء ‘‘ کمیٹی کے سربراہ پادری ہانی عزیز نے کہی۔ 
اخبار الخلیج سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحرینی حکومت نے عظیم الشان کلیسا تعمیر کرنے کے لئے تمام تر سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔منصوبے پر جلد عملدرآمد ہوگا۔
پادری ہانی عزیز نے بتایا کہ بحرین مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں بقائے باہم اور رواداری کا بہترین نمونہ ہے۔یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے نہایت اطمینان سے اپنے عقائد کے مطابق رسومات ادا کرنے میں آزاد ہیں۔بحرین میں باہم بغض وعناد نہیں۔ سب ایک وطن میں رہتے ہوئے آزادی کے ساتھ اپنی رسومات ادا کرتے ہیں۔ ہر مذہب کا ماننے والے دوسرے کے مذہب کا احترام کرتا ہے۔
  • بحرین میں عیسائی برادری:
انہوں نے بتایا کہ بحرین میں ایک سو سے زیادہ عیسائی خاندان ہیں۔انہیں حکومت کی طرف سے مکمل تعاون حاصل ہے۔ انہیں دیگر مذاہب کے ماننے والے شہریوں کی طرح سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق حاصل ہیں۔عیسائی شہریوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا ۔بحرین عیسائی خاندانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے لئے بہترین ٹھکانہ ہے۔
بحرینی شہریت کے حامل عیسائی خاندانوں میں سے بیشتر کا تعلق آرتھوڈکس فرقے سے ہے۔ یہ عیسائی مذہب کا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ بحرین میں ایک سو عیسائی خاندان ہیں جن میں معروف ترین خاندان حیدر، نصیف، سمعان، اوجی، ودیع اور انطون ہیں۔
 

شیئر: