”گونگے سربراہ“ کی خاطراہل و عیال گونگے بن گئے

ریاض۔۔۔گھر کے ”گونگے “ سربراہ کی خاطر 12افراد پر مشتمل سعودی خاندان نے اشاروں کی زبان میں کمال پیدا کرلیا۔ گھر کا ایک، ایک فرد اشارے کی زبان میں ماہر ہوگیا۔ سب نے طے کررکھا ہے کہ وہ گھر میں صرف اشاروں کی زبان میں گفتگو کرینگے۔ اس خاندان نے دنیا کی نظر میں پائی جانے والی غیر معمولی کمزوری کو طاقت میں تبدیل کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سعودی خاندان ماں باپ، 6بیٹوں او ر4بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ ماں گونگوں بہروں کی سعودی تنظیم کی چیئرپرسن کے طور پر کام کررہی ہے۔ اس نے اپنی اولاد کو اپنے گونگے باپ کے ساتھ رابطے میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اشاروں کی زبان سکھائی، سمجھائی او راس میں مہارت پیدا کرائی۔ ”ھلا الفھید“ اپنے خاندان کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس نے آنکھیں کھولی تو گھر کے تمام افراد کو آپس میں اشاروں کی زبان استعمال کرتے ہوئے پایا۔ ماں ہمارے گونگے باپ کی باتیں اشاروں کی زبان میں بتاتیں۔ اب یہی گھر میں رابطے کی زبان بن گئی ہے۔ اب انہیں اس زبان میں اس قدر مہارت حاصل ہوچکی ہے کہ وہ ا بلاغی، ٹی وی سمیت تمام شعبوں میں گونگوں بہروں کی ترجمانی میں ماہر ہوگئے ہیں۔ ھلا نے بتایا کہ اس کے والد کے علاوہ اس کے 3چچا اور 2پھوپھیاں بھی گونگی ہیں۔ ھلا نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ اس کے ابا سوشل میڈیا پر ہیں۔ بے شمار لوگ ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر وڈیو کلپ جاری کرتی رہتی ہے۔ والدکھانا بھی بناتے ہیں اور اپنے انداز میں گاتے بھی ہیں۔ وہ وزارت آباد کاری میں اعلیٰ دفتری عہدے پر فائز تھے ریٹائر ہوگئے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ 17بر س کی عمر سے اشاروں کی زبان کی ماہر ہوچکی ہے۔ اس نے بتایاکہ والد ہنس مکھ ہیں۔ زندگی کو پسند کرتے ہیں ہمیشہ پرامید رہتے ہیں۔ ھلا نے یہ بھی بتایا کہ گونگوں کی ترجمانی اس کی روزی روٹی کا بھی ذریعہ بن گئی۔ اسکے والد خلیج عرب کے ملکوں میں پہلے گونگے ہیں جنہوں نے وزارت میں اعلیٰ قلمدان سنبھالا۔ وہ تجارت، غیر منقولہ جائدادوں کے کاروبار میں بڑا ہنر رکھتے ہیں۔ ھلا نے بتایا کہ اس کی شادی ایک گونگے سے ہوئی ہے جس سے اسکی ایک بچی نورہ ہے۔ وہ بھی اشاروں کی زبان کی ماہر ہے۔ یہ دنیا میں گونگوں کی ترجمانی کرنے والی سب سے کمسن مترجم ہے۔

شیئر: