Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پبلک پراسیکیوشن نے تمام شاخوں میں لیڈی انسپکٹرز تعینات کرنے کا عندیہ دے دیا

ریاض.... سعودی پبلک پراسیکیوشن نے صدر دفتر سمیت تمام شاخوں میں لیڈی انسپکٹرز تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ آئندہ خواتین سے پوچھ گچھ کا کام لیڈی انسپکٹرز ہی کیا کریں گی۔ قانونی اور شرعی امور میں مہارت حاصل کرنے والی خواتین کو انسپکٹرز کے طور پر تعینات کیا جاسکے گا۔ سعودی وکیل خاتون نورہ السلامہ نے سبق ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت میں لیڈی انسپکٹر کے طور پر کام کرنے کی اہل خواتین موجود ہیں انہیں تربیتی کورس کرانا ہوگا۔ شریعت اور قانون کے شعبوں سے فارغ ہونے والی خواتین بھی اس میں حصہ لے سکتی ہیں اور سعودی عرب نیز غیرملکی جامعات سے فوجداری کے قانون میں ایم اے پاس خواتین کو بھی انسپکٹر کے طور پر تعینات کیا جاسکے گا۔ السلامہ نے مذکورہ فیصلے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد زندگی کے مختلف شعبوں میں سعودی خواتین کو اپنی خدمات فراہم کرنے کا موقع دینا ہے ۔ لیڈی انسپکٹرز کا دائرہ کار خواتین کے مقدمات تک محدود نہیں رہے گا ۔ جہاں تک زیر حراست خواتین کی نجی حیثیت کی پاسبانی کا معاملہ ہے تو فوجداری نظام کی کارروائی اور لڑکیوں کی نگہداشت کرنے والے اداروں کے قوانین اس کی بہترین ضمانت ہیں۔ ایک اور وکیل خاتون احلام الشہرانی نے کاکہ یہ بہت بڑا اقدام ہے۔ اس سے عدلیہ میں خواتین کو مزید تحفظ حاصل ہوگا۔ ملزم خاتون لیڈی انسپکٹرز کے ساتھ کھل کر گفتگو کرسکتی ہے۔ اس سے قبل سعودی خاتون نے اس میدان میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ 

شیئر: