ا پنی مرضی سے پاکستان کا دورہ کیا،ملالہ

  لندن ...نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر نہیں گئی تھی لیکن پاکستان کا دورہ اپنی مرضی سے کیا ہے۔ اپنی بلاگ پوسٹ میں ملالہ نے لندن سے پاکستان کے سفر کا ایک ایک لمحہ تحریر کیا اور 5 سال قبل مشکل وقت کو بھی یاد کیا۔ملالہ نے لکھا کہ اپنی دوست کے ساتھ خوشی خوشی امتحان دے کر نکلی اور بس کا انتظار کیا جس کے بعد وہ تاریک وقت آیا جب میں حملے کا نشانہ بنی۔ملالہ نے لکھا کہ لندن سے دبئی اور دبئی سے اسلام آباد پہنچی تھی۔ اسلا آباد سے ہیلی کاپٹر میں وادی سوات کا سفر کیا۔ اس دوران حسین وادی کے اونچے پہاڑ، ہریالی اور دلکش نظارے دیکھے اور ہر ایک منظر کو اپنے آئی فون میں قید کیا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ایک پرندے کی آنکھ سے سب مناظر دیکھ رہی ہوں۔ملالہ نے لکھا کہ 500 سے زائد رشتہ دار اور دوستوں نے گھر آکر ملاقات کی۔دعائیں دیں اور نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔ملالہ نے سب کے ساتھ تصاویر بنوا کر یادیں سمیٹیں اور لکھا کہ اب امید ہے کہ ان سب سے ملنے کےلئے دوبارہ 5 سال کی نوبت نہ آئے۔انہوں نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوات میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔ جہاںکبھی طالبان کا ہیڈ کوارٹر ہوتا تھا وہاں اب صرف درخت اور ہریالی ہے جسے دیکھ کر بےحد خوشی اور اطمینان ہوتا ہے۔ اب پہلے سے زیادہ گھر ہیں۔ اسکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ نائیجیریا کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جہاں 24 ملین بچیاں تعلیم سے محروم ہیں ۔بچوں کی تعداد 2.4 کروڑ ہے۔ملالہ ک نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ اسکول جائے۔
مزید پڑھیں:ملالہ یوسفزئی کی برطانیہ واپسی

شیئر: