Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سماجوادی اور بہوجن اتحاد

***معصوم مرادآبادی***
اترپردیش کی 2بڑی پارٹیوں کے انتخابی اتحاد نے حکمراں بی جے پی کے خیموں میں ہلچل مچادی ہے۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لئے ہونے والا سمجھوتہ ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طورپر دیکھاجارہا ہے۔ یہ سمجھوتہ اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ دونوں ہی پارٹیاںماضی میں ایک دوسرے کی شدید مخالفت کے بل پر اپنی سیاست چمکاتی رہی ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں جس طرح بی جے پی نے ان دونوں کی بازی کو پلٹ کر رکھ دیا تھا، اس نے ان دونوں ہی پارٹیوں میں ایک ایسی انقلابی سوچ کو جنم دیا کہ دونوں نے تمام اختلافات مٹاکر ایک دوسرے کے ساتھ آنا ہی بہتر سمجھا۔ اس سمجھوتے کی بنیاد گزشتہ سال ہونے والے لوک سبھا کے 3 ضمنی انتخابات نے ڈالی تھی جہاں ان دونوں پارٹیوں کے مشترکہ امیدوار نے بی جے پی کو بری طرح شکست سے دوچارکردیاتھا۔ پھول پور، گورکھپور اور کیرانہ کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو دھول چاٹنا پڑی تھی حالانکہ گورکھپور اور پھول پور کی نشستیں خود وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے استعفیٰ سے خالی ہوئی تھی۔ وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کوان ہی کے گھر میں شکست دینے سے سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے حوصلے بلند ہوگئے اور ان دونوں نے آئندہ لوک سبھا الیکشن متحد ہوکر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس اتحاد کو توڑنے کیلئے حکمراں بی جے پی نے مایاوتی کو سی بی آئی کے شکنجے میں کسنے کی کوشش کی لیکن بی جے پی کی یہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوئی اور یہ اتحاد وجود میں آہی گیا۔ 
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے گزشتہ ہفتے لکھنؤ میں ایک بڑی پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا کہ اترپردیش کی 80لوک سبھا سیٹوں میں سے دونوں ہی پارٹیاں 38-38 سیٹوں پر چناؤ لڑیں گی اور 4 سیٹیں اپنے اتحادیوں کے لئے چھوڑی جائیں گی۔ ان میں رائے بریلی اور امیٹھی کی 2سیٹیں بھی شامل ہیں جہاں سے کانگریس لیڈر سونیاگاندھی اور راہول گاندھی چناؤ لڑتے ہیں۔ باقی 2سیٹیں راشٹریہ لوک دل کے لئے چھوڑی گئی ہیں لیکن ایس پی اور بی ایس پی کا یہ اعلان کانگریس کو قطعی پسند نہیں آیا جو اس بات کا انتظار کررہی تھی کہ وہ اترپردیش میں ایس پی، بی ایس پی اتحاد میں ایک اہم فریق کے طورپر شامل ہوگی۔ سماجوادی اور بی ایس پی نے سیٹوں کا بٹوارا کرتے وقت کانگریس کو نظرانداز کردیا اور اسے ملک کی سب سے بڑی ریاست میں صرف 2سیٹوں کا حقدار گردانا۔ کانگریس نے اس اتحاد کو نامنظور کرتے ہوئے اترپردیش کی سبھی 80سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ ا س میں ایک اور پیچ اکھلیش یادو کے چچا شیوپال یادو کی پارٹی کا بھی ہے جسے پرو گریسو سماجوادی پارٹی کے نام سے رجسٹرڈ کرایاگیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے اسے چابی کا انتخابی نشان بھی الاٹ کردیا ہے۔ شیوپال یادو ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد کو اٹاوہ کی یادو بیلٹ میں نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد میں کانگریس کو شامل نہ کئے جانے کے کئی اسباب ہیں۔ پہلا سبب تو یہ ہے کہ کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ اترپردیش میں ختم ہوچکا ہے اور اس کا کوئی مخصوص ووٹ بینک نہیں لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ کئی اپوزیشن پارٹیاں یہ نہیں چاہتیں کہ عام انتخابات میں وہ بی جے پی کو ہرا کر ایک بار پھر کانگریس کو اقتدار میں لائیں۔ ان پارٹیوں کا خیال ہے کہ کانگریس تیسرے محاذ کے امیدوار کو حمایت دے اور اس کے تحت مایاوتی یا پھر ممتا بنرجی کے وزیراعظم بننے کے امکانات کو روشن کیاجائے۔ کانگریسی لیڈروں کا رویہ اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ برابری کا نہیں بلکہ برتری والا ہے۔ یوں بھی حالیہ اسمبلی چناؤ کے دوران مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کو ملی کامیابی نے اس کے تیور بدل دیئے ہیں۔سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد کے درمیان بعض حلقوں کی طرف سے یہ سوال بھی پوچھا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں کی پوزیشن اور حصہ داری کیا ہوگی جو اترپردیش میں تقریباً ایک چوتھائی ووٹروں کے مالک ہیں۔ ان دونوں پارٹیوں کے ووٹ بینک پر نگاہ ڈالی جائے تو دلتوں کا 22فیصد ووٹ مایاوتی کے کھاتے میں شمارکیاجاتا ہے جبکہ سماجوادی پارٹی 7فیصد یا2 ووٹوں پر منحصر ہے۔ اس کا باقی ووٹ بینک مسلمان ہیں جن پر وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہے حالانکہ اس پارٹی نے ابھی تک مسلمانوں کیلئے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جن کے بل پر وہ مسلم ووٹ کی اکلوتی حقدار ہو۔ سیاسی بازی گری کے بل پر وہ مسلم ووٹوں پر ہاتھ صاف کرتی رہی ہے۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کو 18فیصدی ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس وعدے کو وفا نہ کرسکی کیونکہ ایسا ہونا عملی طورپر ممکن ہی نہیں تھا۔ یہ وعدہ محض مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لئے کیاگیا تھا۔ اس مرتبہ مایاوتی نے مسلمانوں کو 10فیصد ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن غور سے دیکھاجائے تو یہ بھی ایک سیاسی نعرہ ہی ہے۔ مسلمانوں کی ایک مجبوری یہ ہے کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لئے سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ان کا ووٹ حاصل کرکے سب سے پہلے انہیں ہی ٹھینگا دکھاتی ہیں۔ یہ پارٹیاں انفرادی سطح پر چند مسلمانوں کی منہ بھرائی کرکے مطمئن ہوجاتی ہیں اور عام مسلمان ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ان پارٹیوں کو ووٹ دینے سے پہلے اپنی سماجی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی پسماندگی دور کرنے کیلئے ٹھوس یقین دہانی حاصل کریں تبھی اپنا ووٹ ان کی جھولی میں ڈالیں۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں