Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہندوستانی ووٹروں کی مذہبی خطوط پر صف بندی

مسجدوں میں خصوصی مشاہدین تقرر کرنے کا مطالبہ اس امر کا غماز ہے کہ بی جے پی کو نوشتہ دیوار نظر آرہا ہے
 
سید اجمل حسین
مرکز و ملک کی  80فیصدریاستوں میں برسر اقتدار اور 2019میںبھی لوک سبھا میں شاہانہ داخلہ کی جدو جہد میں مصروف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دہلی یونٹ نے الیکشن کمیشن سے یہ مطالبہ کر کے کہ وہ ائمہ مساجد کو لوک سبھا انتخابات کے دوران مسلمانوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کر نے کی کوشش سے باز رکھنے کیلئے مسجدوں میں خصوصی مشاہدین کا تقرر کرے اس امر کا غماز ہے کہ بی جے پی کو کچھ نوشتہ دیوار نظر آرہا ہے۔ اگرچہ 14فروری سے پہلے مودی جادو کا مائل بہ زوال ہوتا اثر مکمل طور پر اڑن چھو ہوتا نظرآنے لگا تھا وہ26فروری کو ہندوستانی فضائیہ نے سرحد پار بالا کوٹ میں بمباری سے نہ صرف بحال ہونا شروع ہو گیاتھا بلکہ حزب اختلاف کے در و دیوار بی جے پی کے حق میں آنے والے طوفان سے لرزنے لگے تھے۔اس کے باوجود ریاستی سطح پر حزب اختلاف کی جماعتوں میں انتخابی اتحاد سے بی جے پی کو فضا اپنے حق میں ہوتے ہوئے بھی اپنے حق میں نظر نہیں آرہی تھی۔ یہ بات کافی حد تک درست بھی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ یہ مسلم رہنماؤں کا ہی نہیں ائمہ مساجد کا بھی وتیرہ بن گیا ہے کہ وہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے مسلمانوں کے دم توڑتے بی جے پی فوبیا کو پھر ہرا کر دیتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو ہندو غیر بی جے پی جماعتوں کا رخ کرنے ہی والے ہوتے ہیں کہ تیزی سے پلٹ کر پھر بی جے پی کے پروں میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ ووٹروں کی مذہبی خطوط پر صف بندی کی جتنی ذمہ داری نام نہادمسلم رہنماؤں کی زبان اورمسلم پارٹیوں کے عمل اور اس سے کہیں زیادہ غیر بی جے پی پارٹیوں کے لیڈروں اور بی جے پی لیڈروں کی مسلمانوں کے حق اور مخالفت میں بیان بازی پر عائد ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف مسلم رہنما سیکولر امیدوار کی گردان شروع کر دیتے ہیں وہیں مسلم پارٹیوں کے سربراہان غیر ریاستوں میں بھی اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر کے اور غیر بی جے پی پارٹیوں کے لیڈران ووٹر لسٹوں سے مسلم ووٹروں کے نام حذف کر دیے جانے جیسے فروعی معاملات اٹھا کر اور خود بی جے پی لیڈران مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر کیء رہی سہی کسر پوری کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی غیر بی جے پی سیکولر جماعتوں کے لیڈر ہیں جو مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان پہنچانے والی کارروائیوں پر خموشی اختیار کئے رہتے ہیں یا توجہ دلانے پر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اتنا کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے،قصور واروںکو سزا ملنی چاہئے۔ اس کے بعد بس فوٹو سیشن کرا کے رفو چکر ہوجاتے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کی غیر بی جے پی پارٹیوں کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کے باعث مسلم ووٹوں کی غیر بی جے پی جماعتوں کے امیدواروں میں تقسیم سے ان کے جیتنے کے امکانات کا تمام تر انحصار ان ہندو وٹروں پر ہی ہوجاتا ہے جن پر ان کی گرفت ہوتی ہے اور یہ منقسم مسلم ووٹ ان کیلئے بونس ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ موجودہ غیر بی جے پی اور نام نہاد سیکولر ہندو لیڈروں میں کسی کو بھی نندن بہوگنا نہیں کہا جا سکتا اور جس سیاسی لیڈر،آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کو بہوگنا ثانی کہا جاسکتا تھا اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ اربوں روپے کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے متعد دسیاسی لیڈران اس لیے آزادانہ گھوم رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی خود کو مسلم نواز لیڈر کے طور پر پیش نہیں کیا۔ چونکہ اس بار3 طلاق بل پیش کرنے اور اس کے گرجانے کے باعث ایک بار پھر صدارتی آرڈی ننس لانے اور رام مندر کا راگ الاپنا بند کر کے اسے سپریم کورٹ کے توسط سے عدالت سے باہر تصفیہ کرانے کے عمل سے بی جے پی نے مسلمانوں کی رائے اپنے حق میں ہموار کرنے کی جو کوشش کی ہے اس سے اسے اپنے ووٹ فیصد میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ اسی لیے اس کا الیکشن کمیشن سے فریاد کرنا کہ مسجدوں میں خصوصی مشاہدین کا تقرر کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی رائے اپنے حق میں ہموار کرنے کی اس نے جو کوشش کی ہے اس پر پانی نہ پھر سکے۔ وہ چاہتی ہے کہ پلوامہ حملہ کے بعد فضائیہ کی کارروائی کا اسے ملنے والے فائدے کو حزب اختلاف خاص طور پر کانگریس، ترنمول کانگریس اور تیلگو دیشم جس طرح کم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا ری ہیں اس کو کچھ فیصد مسلم ووٹرز سے بے اثر کر دیا جائے۔ ایک بار پھر جب وہ لوک سبھا میں پوری آب و تاب سے داخل ہو تو وہ فخر سے غیر بی جے پی پارٹیوں کو یہ جتا سکے کہ مسلم ووٹوں کے وہی ٹھیکیدار نہیں بلکہ اسے بھی ان کی حمایت حاصل ہے اور اس بار نامساعد حالات کے باوجود اس کی اس شاندار کامیابی میں مسلمانوں کا بھی تعاون شامل رہاہے۔
مزید پڑھیں:- - - -عالمی طاقت سے وفا کی آس و امید

شیئر: