سری لنکا: ہلاکتیں 310 ہو گئیں، ملک بھر میں سوگ

سری لنکا میں مسیحیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کی دعائیہ تقریبات کے دوران ہونے والے حملوں میں 310 افرا کی ہلاکت پر قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔
منگل کی صبح دہشت گردی کے شکار افراد کی یاد میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
قومی سوگ کے سلسلے میں حکومتی عمارتوں پر سری لنکا کا قومی پرچم سرنگوں رہا اور لوگوں نے تین منٹ تک اپنے سر خم کرکے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں خاموشی اختیار کی۔
خاموشی مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر 30 منٹ کو شروع ہوا یہ وہ وقت تھا جب اتوار کے روز  ہونے والے آٹھ دھماکوں میں سے کولمبو کے چرچ میں پہلا دھماکہ ہوا تھا۔ 
 دوسری طرف پولیس کے ایک ترجمان روان گوناسکیرا  کے مطابق دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعدا 310 ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کی رات کو مزید زخمی ہسپتالوں میں دوران علاج دم توڑ گیے۔

ترجمان کے مطابق پولیس نے اب تک ان حملوں کے سلسلے میں 40 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
خیال رہے پیر کے روز سری لنکن حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اتوار کےروز ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ایک مقامی اسلا می شدت پسند گروپ، نیشنل توحید جماعت، ملوث ہے۔
حکومت نے ملک میں ہنگامی حالات نافذ کر دیا ہے۔ ہنگامی حالات کے تحت پولیس اور فوج کو شدت پسندوں کے حملوں سے نمنٹنے کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ ان اختیارات کے تحت پولیس اور فوج کسی بھی مشتبہ شخص کو بغیر وارنٹ کےگرفتار کر سکتی ہیں۔
 پولیس اورسکیورٹی ایجنسیاں اس بات کی تفتیش کر رہے کہ آیا توحید جماعت کو ان حملوں کے حوالے سے کسی بیرونی شدت پسند تنظیم کی مدد حاصل تھی یا نہیں۔

حکومت کے ترجمان اور کیبنٹ منسٹر راجیتھا سینارتنے کا کہنا ہے کہ تفتیشی اہلکار اس بات کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ آیا ان حملوں میں کوئی بین الاقوامی گروہ بھی ملوث ہے کہ نہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ممکن نہیں کہ ایک چھوٹا گروہ اتنے منظم اور بڑے پیمانے پرخودکش حملے کریں۔‘  
سری لنکا میں اتوار کو مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر متعدد گرجا گھروں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا  اور ان دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 310 تک پہنچ گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 35 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
 

شیئر: