'فاٹا کے لوگ جنگ زدہ ہیں، اس لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کر رہے تھے'

گذشتہ برس مئی کے مہینے میں سابق فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد وقتاً فوقتاً قبائلی اضلاع کی جانب سے صوبائی و قومی اسمبلیوں میں نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔
اب جبکہ یہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے تو قبائلی اضلاع سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اراکین کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کے رہنے والوں کی آواز اب اسمبلیوں میں سنی جائے گی۔ 
پیر کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے سابق قبائلی اضلاع کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافے کے لیے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظور کر دی ہے جس کے تحت اب خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی نشستیں 16 سے بڑھا کر 24 اور قومی اسمبلی کی 12 نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
صوبائی اسمبلی کی 24 نشستوں کے ساتھ خواتین کے لیے چھ مخصوص جبکہ اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کی گئی ہے۔
یہ آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے پیش کیا تھا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ’ قومی اسمبلی سے بل کی منظوری پر قبائلی عوام کی جانب سے پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کا مشکور ہیں۔‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس آئینی ترمیم کے خلافایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا

بل کے متعلق محسن داوڑ نے مزید کہا کہ سابق قبائلی اضلاع کے قومی اسمبلی کے ممبران سے مشاورت کے بعد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے بھی اس بل کی حمایت کی تھی۔
ان کے مطابق 'جو حقائق ہم بیان کر رہے ہیں ان سے کوئی انکارنہیں کر پا رہا تھا، فاٹا کے لوگ آفت زدہ ہیں، جنگ زدہ ہیں، تو ہم مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ خصوصی سلوک ہو۔‘
ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے اردو نیوز کو بتایا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے قبائلیوں کی 70 سال کی محرومیاں ختم ہونے کی مزید امید پیدا ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے لیے 24 جنرل نشستوں کے ساتھ خواتین کے لیے چھ مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست ملاکر 31 بنتی ہے جو ایک اچھی تعداد ہے۔
ان کے بقول ’ہمارے لیے آج کا دن بہت اہم ہے اور یہ ایک اہم موڑ ہے، ہم نے 24 سیٹوں کے لیے جو مطالبہ کیا تھا وہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے پورا ہوا۔‘
قبائلی ضلع خیبر سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے۔ وہ اس بل کی منظوری کے لیے تمام اپوزیشن پارٹیوں کا شکریہ ادا اکرتے ہیں۔

یہ آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے پیش کیا تھا

ان کے مطابق ’آج ایک تاریخی دن ہے، مجھے یقین ہے کہ اب قبائلی عوام کی محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا، قبائلی علاقے بفر زون اور کرپشن کے اڈوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے، پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں ان علاقوں کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے، پوری پارلیمنٹ چاہتی ہے کہ قبائلی علاقے ترقی کریں، اب ہمارے علاقے بھی ترقی کی جانب گامزن ہو جائیں گے۔' 
قبائلی امور کے ماہر اور صحافی اسماعیل خان کہتے ہیں کہ قبائلی پہلے قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھتے تھے اب ان کو صوبائی اسمبلی میں بھی مناسب نمائندگی مل گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ان کی آواز اسمبلیوں میں سنی جائے گی۔
تاہم انہوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ دوبارہ حلقہ بندیوں سے انتخابات کے انعقاد میں ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا 24 نشستوں سے صوبائی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی ایک لابی بن جائے گی جو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکی گی۔
اسماعیل خان کے مطابق کہ ’قبائلی اضلاع اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں، اب ان کا بھی حق بنتا ہے کہ وہاں سے بھی وزیر اعلیٰ ہو، اگر بنوں، مردان، سوات، نوشہرہ، اور ایبٹ آباد سے وزیراعلیٰ آتا ہے تو قبائلی اضلاع سے بھی آسکتا ہے۔‘
26 ویں آئینی ترمیمی بل کے تحت قبائلی اضلاع میں انتخابات چھ مہینوں کے اندر اندر ہوں گے۔ 
پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیمی بل کے حق میں 288 ارکان نے ووٹ دیا اس کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں دیا گیا۔
اب یہ بل سینٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد یہ دستخط کے لیے صدر پاکستان کے پاس پہنچے گا۔

شیئر: