تھکن کی دوری، ملیے اسلام آباد کے مالشیوں سے

شہر میں بازاروں اور ڈھابوں پر ایک سے ایک مالشیہ مل ہی جاتا ہے۔ 
کسی ڈھابے پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے یا پھر کسی ٹریفک سگنل پر انتظار کرتے ہوئے کہیں سے چھن چھن کی آواز آئے تو سمجھ جائیں کہ آپ کے آس پاس کہیں کوئی مالشیہ اپنے ساز و سامان سے لیس کسی گاہک کی تلاش میں ہے۔ یہ اندرون راولپنڈی یا لاہور کی نہیں بلکہ اسلام آباد کے پوش ترین سیکڑ ایف ٹین کی بات ہو رہی ہے۔
اگر آپ اسلام آباد میں کسی آفس میں کام کرتے ہیں اور شام کو ٹینشن سے دور اپنی تھکن اتارنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اب آپ کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسی شہر میں بازاروں اور ڈھابوں پر ایک سے ایک مالشیہ مل جاتا ہے۔ 
کسی کے سر میں درد ہو یا ٹانگ میں یا کمر درد کرے یا پھر پٹھے، بس دیسی مساج کرائیں اور منٹوں میں فٹ ہو جائیں۔ شہر میں اکثر چائے خانوں پر ایسے مالشیے رات گئے تک کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی چہل پہل کا منظر اسلام آباد کی شاموں کو رونق بخشنے کا سبب بھی بن رہی ہے۔  

کام کرنے والے کئی مالشیے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر اور تجربے سے سیکھتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہیں جو پروفیشنل  ہوتے ہیں، جنھوں نے کسی استاد سے یہ ہنر سیکھا ہوتا ہے۔

مساج کرنے والے تو کہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا درد ہو یا تکلیف اس کا علاج مساج کے ذریعے ممکن ہے۔ بس اس کے لیے کچھ خاص ٹیکنیک اور سپیشل تیل درکار ہوتا ہے۔ زیتون، دھنیہ، آملے اور بادام روغن تیل کی ایسی اقسام ہیں جس میں ہر طرح کے درد کی شفا ممکن ہے۔ 
بہاولپور شہر سے تعلق رکھنے والے محمد صابر اسلام آباد میں گذشتہ نو سالوں سے مساج کا کام کر رہے ہیں۔ ان کے کئی مستقل گاہک بھی بن چکے ہیں جو صرف انہی کے پاس آتے ہیں اور آئیں بھی کیوں نہ جب وہ ان کا ایسا دیسی مساج کرتے ہیں۔ ’بندے کو ٹینش ہوتی ہے دماغ میں ، بندے کو ہم ریلیکس کر دیتے ہیں، ان کا دماغ کھولتے ہیں، بندہ بالکل فریش ہو جاتا ہے،ایزی ہو جاتا ہے۔‘
اسلام آباد کے شہری عثمان مساج کرانے کے لیے اکثر ایف ٹین مرکز کا رخ کرتے ہیں جہاں انہیں صابر جیسے تجربہ کار مالشیے مل جاتے ہیں۔ ’پورے دن کا جو انسان تھکا ہوتا ہے۔ اس وقت دس پندرہ منٹ کی مالش ہو جاتی ہے اور بندہ ریفریش ہو جاتا ہے بالکل ریلکس ہوجاتی ہے باڈی ،سر کا درد ہو رہا ہو، سر کا مساج کروا لو۔۔۔ پین ریلیو ہو جاتا۔‘

 زیتون، دھنیہ، آملے اور بادام روغن تیل کی ایسی اقسام ہیں جس میں ہر طرح کے درد کی شفا ممکن ہے۔ 

کام کرنے والے کئی مالشیے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر اور تجربے سے سیکھتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہیں جو پروفیشنل  ہوتے ہیں، جنھوں نے کسی استاد سے یہ ہنر سیکھا ہوتا ہے۔ کون سی نس پر ہاتھ رکھنا ہے اور کونسی نس دبانے سے منٹوں میں درد ختم ہو جائے گا۔
ایسے ہی ایک پروفیشنل مالشیے راجہ بنارس ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ کام ہر بندے کے بس کی بات نہیں کیونکہ اگر غلط نس دبا دی تو مسئلہ بن سکتا ہے۔ ’یہ کام ہم سیکھتے ہیں، ہمارا استاد ہوتا ہے۔ اجازت دیتا ہے تو کام کرتے ہیں گردن کا کڑاکا نکالنا ہوتا ہے نازک کام ہوتا ہے، ہر بندہ یہ کام نہیں کر سکتا۔‘ 

کچھ ایسے شوقین بھی ہیں جو مالشیے کو ساتھ ہی اپنے ٹھکانے پر لے جاتے ہیں اور فل باڈی مساج کروانا پسند کرتے ہیں جس کی فیس بھی ڈبل ہوتی ہے: تصویر اردو نیوز

کچھ ایسے شوقین بھی ہیں جو مالشیے کو ساتھ ہی اپنے ٹھکانے پر لے جاتے ہیں اور فل باڈی مساج کروانا پسند کرتے ہیں جس کی فیس بھی ڈبل ہوتی ہے۔ بقول راجہ بنارس ’مارکیٹ میں مساج کروائیں تو پانچ سو روپے اور آؤٹ لے جائیں تو ہزار روپے تک لیتے ہیں۔ زیادہ دور ہو راولپنڈی وغیرہ تو پھر زیادہ پیسے تقریبا پندرہ سو تک مل جاتے ہیں۔‘
اسلام آباد جو کبھی شام کے بعد اپنی ویرانی کے لیے مشہور تھا مگر اب جگہ جگہ کھلنے والے ڈھابے اور وہاں مساج کی سروسز فراہم کرنے والے مالشیے رات گئے تک شہر کی رونقیں بحال رکھتے ہیں۔ 

شیئر: