سیاسی گرفتاریاں: ’حکومت کا اصل امتحان شروع‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز کی گرفتاری نے پہلے سے بڑھے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا کر دیا ہے۔
ایک روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی ضمانت منسوخی کے بعد گرفتار ہو چکے ہیں۔
ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران صورت حال اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کرگئی جب حمزہ شہباز کے وکلا نے دلائل دینے کے بجائے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے عدالت نے فوری قبول کر لیا۔
حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو یقین ہو گیا تھا کہ عدالت ان کی بات نہیں سنے گی۔ ’جب عدالت کے روبرو یہ پوچھا گیا کہ منی لانڈرنگ کے جو الزامات نیب عائد کر رہا ہے اس کے ثبوت فراہم کیے جائیں تاکہ ان کا جواب دیا جا سکے۔ اس بات کی بھی شنوائی نہیں ہوئی تو فیصلہ کیا گیا کہ احتجاجاً ضمانت کی درخواست واپس لے لی جائے۔‘

طریقہ انصاف پر شکوک و شبہات 

اپوزیشن جماعتوں نے عید کے بعد بڑے سیاسی اکٹھ اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا تھا عید تو گزر گئی لیکن ساتھ اپوزیشن کے گرد شکنجہ بھی مزید سخت ہو گیا۔
تجزیہ نگار امتیاز عالم نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ طریقہ انصاف سے شکوک و شبہات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ’چیئرمین نے جو اپنے انٹرویو میں کہا من و عن وہی وہی ہو رہا ہے۔ جن اقدامات کی طرف حکومت کے وزرا خود نشاندہی کررہے تھے وہ اب وقوع پذیر ہو رہے ہیں جس سے ان شکوک کو تقویت ملی ہے کہ انصاف کا یہ عمل جانبدرارنہ اور پہلے سے طہ شدہ ہے‘۔ 
سہیل وڑائچ کا اس موضوع پر کہنا تھا کہ دونوں بڑی جماعتوں کو انصاف کے اس عمل پر اعتراض ہے اور وہ ہر فورم پر اس کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ’جب انصاف کے بنیادی تقاضے پورے نہ ہوں اور اس کے شواہد بھی موجود ہو تو اس عمل پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیے تو احتساب کا شکنجہ ہے لیکن چیئرمین نیب جن پر خود بڑے بڑے الزام لگ چکے وہ ماروائے احتساب ہیں۔

اپوزیشن کی تحریک کا کیا ہو گا؟

ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اب چونکہ تحریک انصاف کا اصل امتحان شروع ہو چکا اب تحریک اسی صورت میں جڑ پکڑے گی اگر حکومت معاشی حالات قابو کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔
اگر حکومت اب تیار ہے اور ملک کو بحران سے نکال لاتی ہے تو پھر کون سی تحریک پھر تو یہ جیلوں میں ہی رہیں گے اور پہیہ آگے کو چلے گا۔
 امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ اگلے تین سال تک انہیں معیشت سنبھالتی نظر نہیں آرہی۔ ایک روز قبل جب سکرینیں زرداری کی گرفتاری پر سرخ تھیں ٹھیک اسی وقت پاکستان کی معیشت کی بدترین جائزہ رپورٹ پیش کی جا رہی تھی اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا البتہ مشیر خزانہ کا چہرہ سب کچھ بتا رہا تھا۔ تحریک تو عوامی ردعمل سے آئے گی اور اس کا تعین بھی عوام کرتے ہیں سیاسی جماعتیں تو بس عوامی نبض پے ہاتھ رکھتی ہیں۔
امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ بظاہر موجودہ گرفتاریوں سے عوامی فوکس تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن زیادہ دیر تک ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ 

شیئر: