اچھی نہ سہی سیدھی سادی کرکٹ کھیل لو بھائی

پاکستان کی اس کرکٹ ٹیم سے بھلا 2003 یا2007 کے ورلڈکپ  کی ناقابل تسخیر ٹیم آسٹریلیا جیسی کلاس اور مستقل کاکرردگی کی امید کسی کو ہے۔
لیکن بھائی سیدھی سادی کرکٹ کی امید تو رکھ سکتے ہیں نا ؟
3 جون کو انگلینڈ کے خلاف پہلے بیٹنگ کرکے تین سو اڑتالیس رنز بناکر بڑا میچ جیتنے والی ٹیم کو پتا نہیں کیا سوجھی کہ ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں آسٹریلیا جیسی ٹیم کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کرڈالا۔
3 جون تو چھوڑیے جناب 6 جون والا آسٹریلیا ویسٹ انڈیز میچ بھی بھول گئے ؟ جب آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کی اور پھر اسٹارک اور بولرز نے 289 رنز کا کامیاب دفاع کرکے بتایا کہ یہ ورلڈ کپ ماضی کے کسی بھی ورلڈ کپ کی طرح پریشرسے بھرپور ہے اور سمجھداری سے کھیلنے کا تقاضہ کررہا ہے ۔
ٹاس کو ذرا پرے کریں تو ٹیم سلیکشن پر بھی شاہینوں نے سب کو حیران کردیا۔ 
اب آسٹریلیا کے خلاف واحد سپیشلسٹ سپنر شاداب خان کو ڈراپ کرکے ایک اور فاسٹ بولر کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ ایسا ہی ہے جیسے پاکستانی ٹیم آسٹریلیا جائے اور کینگروز فاسٹ بولر ڈراپ کرکے ہمیں متحدہ عرب امارات سمجھ کر دو سپنرز سے پھانسنے کا پلان بنا لیں۔ 
یعنی کہ دیوانے کا خواب 
میچ سے پہلے مائیکل کلارک کہتا رہ گیا کہ پچ کے ہرے رنگ پر نہ جاؤ، پچ کے اندر کا حال جانو لیکن ٹیم مینجمنٹ کو پتہ نہیں کیا ہری ہری سوجھی۔
اچھی نہ سی سیدھی سادی کرکٹ تو کھیل لو بھائی۔
بھلا ہو ٹیم مینجمنٹ کا کہ غریب شاہین شاہد آفریدی کو پہلے تین میچ میں کوئی موقع دینے کا اشارہ بھی نہ دینے کے بعد سیدھا ورلڈ کپ کے سمندر میں نئی گیند تھما کر دھکیل کردیا۔ 
گلین میکس ویل بیٹنگ پر آئے تو  دونوں پارٹ ٹائم سپنرز لگا دیے۔
اس سے پہلے آصف علی نے دو آسان ترین کیچ گرا دیے اور باؤنڈری لائن پر کھڑے پاکستانی شائقین کرکٹ کے تاثرات نے جیسے فیلڈنگ کوچ گرانٹ بریڈ برن سے لے کر ارشد سبنری والے کے دل کے حال کی ترجمانی کرڈالی۔ 
شارٹ پچ بولنگ پر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں وکٹیں طشتری میں رکھ کر دینے والے بیٹسمینوں نے آسٹریلیا کے خلاف بھی وکٹیں اوپرآتی گیندوں پر گنوائیں تو شعیب منصور کی یاد آئی کہ 
ہک اور پل کرنا نہیں آتا تو شارٹ پچ پر ہٹ کیوں مارتے ہو۔۔۔
عرض اتنی ہے جناب کہ اچھی نہ سہی سیدھی سادی کرکٹ ہی کھیل لو بھائی۔
قسمت سے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے سے کسی نے آپ کو روکا جناب ؟
تین سلپ لے کر لیگ سٹمپ پر گیند کرنے کے بجائے آپ کو آف سٹمپ گیند کرنے سے کس نے روکا جناب؟
حریف ٹیم کی سپن کھیلنے میں دشواری دیکھ کر بھی اپنے واحد سپنر کو کو الیون میں اتارنے سے کس نے روکا جناب؟ 
توعرض صرف اتنی ہے کہ اچھی نہ سہی سیدھی سادی کرکٹ ہی کھیل لو بھائی۔
اور ہاں آخری وکٹ اور ایک آخری چانس ہوتے ہوئے کپتان کا نمبرون الیون کو سٹرائیک پر لانے اور رن آؤٹ کے مضحکہ خیر انداز کے بعد بس اب یہ عرض ہے کہ اچھی نہ سہی سیدھی سادی کرکٹ ہی کھیل لو بھائی۔ 
خدا بھارت کے خلاف میچ میں خیر کرے۔

شیئر: