ٹرمپ کا محمد بن سلمان کو فون، ایران سے درپیش خطرات پر گفتگو

 
امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد ، نائب وزیراعظم و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے جمعہ کو ٹیلیفون پر رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے خطے کے حالات حاضرہ اور ایران کی جارحانہ سرگرمیوں سے نمٹنے کے ضامن ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے سمندر میں جہاز رانی کے تحفظ اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مل جل کر کام کرنے کے طور طریقوں پر بھی غوروخوض کیا۔


محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات کی فائل فوٹو

ایس پی اے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد نے امریکہ ار سعودی عرب کے دوستانہ تعلقات اور تیل کی مسلسل رسد کو یقینی بنائے رکھنے کیلئے صرف کی جانے والی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق وائٹ ہاﺅس نے اعلامیہ جاری کرکے ٹیلیفونک رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ نے محمد بن سلمان سے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور تیل منڈی پر اس کے اثرات کی بابت مذاکرات کئے۔ 
وائٹ ہاﺅس نے اس امر کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ ٹرمپ نے ایرانی نظام کے شدت پذیر جارحانہ رویہ سے رونما ہونے والے خطرات پر بھی محمد بن سلمان سے بات چیت کی۔
وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں رہنماﺅں نے مشرق وسطیٰ اور عالمی تیل منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنانے میں سعودی عرب کے فیصلہ کن کردار پر گفت و شنید کی۔
دریں اثناءامریکہ نے ایران کے معاملے پر پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں بلانے کی درخواست کی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے امریکی سفارت کار کا نام خفیہ رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ اس اجلاس میں خلیج میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں اور ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ گرانے کے معاملے کو زیر بحث لایا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پیر کو بین الاقوامی پانیوں میں ایران نے بغیر پائلٹ کا امریکی ڈرون گرایا تو امریکی فوج ایران پر جوابی حملے کے لیے تیار تھی، لیکن انہوں نے آخری وقت پر یہ حملہ روک دیا۔
انہوں نے جمعے کو اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’ہم جوابی کارروائی کے لیے تین مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار تھے، جب میں نے پوچھا کہ کتنےافراد ہلاک ہوسکتے ہیں تو ایک جنرل کی جانب سے جواب آیا کہ 150 ہوں گے تو میں نے اس حملے کو دس منٹ پہلے روکوا دیا۔‘
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ ایک نامعلوم ڈرون کو مار گرائے جانے کا جواب دینے کی مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’ہماری فوج تیار ہے، نئی ہے اور دنیا کی بہترین فوج ہے۔  پابندیاں انھیں تنگ کر رہی ہیں اور گذشتہ رات مزید لگا دی گئی ہیں۔‘
’ایران امریکہ اور دنیا کے خلاف کبھی جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکے گا۔‘


ایرانی حکام کے مطابق اگر ایران پر کوئی بھی حملہ ہوا تو اس کے خطے اور بین الاقوامی سطح پر برے اثرات ہوں گے (فوٹو:اے ایف پی)

اس سے قبل ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کے ذریعے تہران کو پیغام پہنچایا تھا کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’اس پیغام میں ٹرمپ نے لکھا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے اور ایران کے ساتھ تمام مسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں جواب کے لیے تھوڑا وقت دیا، لیکن ایران کا فوری جواب یہ تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کریں گے۔‘
ایک اور سرکاری اہلکار کا کہنا تھا ’ہم نے (امریکہ پر) صاف واضح کیا کہ ایرانی لیڈر (آیت اللہ) مذاکرات کے خلاف ہیں، لیکن ہم نے یہ پیغام ان تک پہنچایا تاکہ وہ خود فیصلہ کریں۔ تاہم ہم نے عمانی حکام کو بتایا کہ اگر ایران پر کوئی بھی حملہ ہوا تو اس کے خطے اور بین الاقوامی سطح پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

ایران نے جمعرات کو امریکہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا تھا۔ فوٹو اے ایف پی
ایران نے جمعرات کو امریکہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا تھا۔ فوٹو اے ایف پی

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن تاہم جمعے کی صبح انہوں نے یہ حکم واپس لے لیا۔
اخبار کے مطابق طیارے فضاء میں تھے اور بحری جہاز اپنی پوزیشنز سنبھال چکے تھے مگر پھر رک جانے کا حکم آنے پر کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔
روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کے مطابق روس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ایران کے خلاف کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور صورت حال کو جنگ کے دہانے کی طرف لے جا رہا ہے۔
روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ سرگئی ریابکو نے امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازعے کے نتائج پر غور کرے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صورت حال بہت خطرناک ہے۔

شیئر: