حوثی باغیوں کا ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پھر حملہ

عرب اتحاد برائے یمن کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے حوثی حملے کو دہشتگردانہ قرار دیا۔
 سعودی عرب میں ابہا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حوثی باغیوں نے ایک بار پھر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا ہے جس میں ایک شامی باشندہ ہلاک جبکہ مختلف ممالک کے 21 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ 
عرب اتحاد برائے یمن کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کیا۔ واضح رہے کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ مختلف ممالک کے ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔
حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی۔ 
کرنل المالکی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حوثیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے 13 کا تعلق سعودی عرب، چار کا انڈیا، دو کا مصر اور دو کا بنگلہ دیش سے ہے۔ زخمیوں میں تین خواتین شامل ہیں جن میں سے ایک تعلق مصر اور دو سعودی عرب شہری ہیں۔ انڈیا سے تعلق رکھنے والے دو بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔
المالکی نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جن میں سے تین کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ 18 ابھی زیرعلاج ہیں۔ حملے سے ایئرپورٹ کا ریستوران بھی متاثر ہوا، جبکہ 18 گاڑیوں اور ایئرپورٹ کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
 ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ انتظامیہ نے حملے کے بعد صورتحال پر قابو پا لیا ہے اور پروازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق ہو رہی ہے۔

ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روزانہ مختلف ممالک کے ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یہ اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل 12جون کو ایئرپورٹ کے استقبالیہ ہال پر میزائل گرنے سے مختلف ممالک کے 26 مسافر زخمی ہوگئے تھے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے پرعرب اتحاد کے ترجمان کرنل المالکی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’شہریوں اورعوامی تنصیبات پر حملے کا اعتراف ہے۔ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق جنگی جرم کے دائرے میں آتا ہے۔‘
سعودی میڈیا کے مطابق اردن، شام، افغانستان، جیبوتی، بحرین، مصر اور کویت نے اسے دہشتگردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ ان ممالک نے ہر طرح کی دہشتگردی سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کے جملہ اقدامات کی مکمل تائید و حمایت کی ہے۔
عینی شاہدین نے عاجل ویب سائٹ کو بتایا کہ حملہ ایئرپورٹ کی کار پارکنگ پر ہوا۔ ایک مسافر خاتون ابتسام خالد نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ دیگر مسافرین کے مابین طیارے میں تھیں۔ ’عملے نے ہمیں طیارے میں بیٹھے رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے واقعہ کی اطلاع دی۔ 20 منٹ کے اندر ہمیں طیارے سے ایئرپورٹ جانے کی اجازت دیدی گئی۔ اس دوران ہم نے کوئی خوف یا ڈر محسوس نہیں کیا۔‘
ایک اور مسافر محمد مبارک کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایئرپورٹ میں داخل ہوتے وقت زبردست دھماکے کی آواز سنی۔ ’نظر کچھ نہیں آیا لیکن لمحوں میں ہر طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں کو ادھر ادھر دوڑتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد حملے کا علم ہوا۔‘

 

 

 

شیئر: