مریم نواز پارٹی نائب صدرات کے لیے اہل

مریم نواز کے پارٹی عہدے کو تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے چیلنج کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں الیکشن کمیشن نے حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے پارٹی عہدہ رکھنے کے خلاف  درخواست مسترد کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مریم نواز کو پارٹی کے نائب صدارت کا عہدہ مشروط طور پر رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔  
منگل کے روز الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے نائب صدر کا عہدہ بظاہر غیر فعال ہے۔ اس لیے مریم نواز نائب صدارت کا عہدہ رکھ سکتی ہیں ۔ مختصر فیصلے کے مطابق مریم نواز نائب صدارت کا عہدہ مشروط طور پر  رکھ سکتی ہیں ۔ مریم نواز قائم مقام صدر نہیں بن سکتیں اور نہ ہی اختیارات کا استعمال کر سکیں گی۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی کھیل داس کوہستانی اور تحریک انصاف کی رکن اسمبلی کنول شوزب کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
خیال رہے مریم نواز کو 8 اگست 2019 کو چوہدری شوگر ملز کیس میں احتساب بیورو نے گرفتار کیا تھا اور آج کل حراست میں ہیں۔
مزید پڑھیں
درخواست پر سماعت 27 اگست 2019 کو ہوئی اور الیکشن کمشن نے فیصلہ موخر کر دیا تھا۔ بعد ازاں سولہ ستمبر کو چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کے وکیل حسن مان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ نااہل اور سزایافتہ شخص پارٹی صدر نہیں ہو سکتا۔
اس کے جواب میں مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ مریم نواز کو تعینات کیا گیا اس عہدے کے لیے الیکشن نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن کے آئین کے مطابق یہ علامتی عہدہ ہے، عہدے کے حامل کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہوتے۔ پارٹی کا حصہ بننا یا عہدہ رکھنا کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے، آرٹیکل 62، 63 اور 63 اے کو الیکشن ایکٹ کی شق 203 کے ساتھ نہیں پڑھا جا سکتا۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کو پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی

مسلم لیگ ن کا ردعمل 

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تحریک انصاف سستی شہرت کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست لے کر گئی تھی۔ مریم نواز کو عوامی خدمت کے لیے کسی عہدہ اور سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مریم نواز کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ن لیگ کی حکومت میں مریم نواز پیچھے رہ کر صحت و تعلیم کے لیے کام کیا۔ موجودہ حکومت اس طرح کی چھوٹی حرکتیں کرتی رہتی ہے جس کا جواب الیکشن کمیشن سے مل گیا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی تنظیم نو کا اعلان چار مئی 2019 کو کیا گیا تھا جس کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو سینیئر نائب صدر اور مریم نواز سمیت سولہ دیگر رہنمائوں کو نائب صدور اور احسن اقبال کو سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ پارٹی کی تیرہ رکنی ایڈوائزری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی اور اسحاق ڈار کو بین الاقوامی امور کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔
نوٹیفکیشن پارٹی صدر شہباز شریف کی جانب سے لندن سے جاری کیا گیا تھا جس میں دیگر متعدد پارٹی عہدیداروں کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: