سوڈان: خفیہ ادارے کے دفتر میں بغاوت

مسلح بغاوت کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر فضائی حدود بند کردی گئی ہے ( فوٹو: اسکائی نیوز)
سوڈانی حکام نے محکمہ خفیہ کے ہیڈ کوارٹر میں فائرنگ اور مسلح بغاوت کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر فضائی حدود بند کر دی۔
العربیہ نیٹ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ محکمہ خفیہ  کے بعض اہلکاروں نے حقوق کی تقسیم پر نا پسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے احتجاج کیا تھا۔ انہیں محکمہ خفیہ کی تنظیم نو کے تحت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔
سوڈان کے وزیر اطلاعات  نے ٹی وی پر اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ خفیہ میں جو کچھ ہوا وہ محدود درجے کا احتجاج تھا۔ مسلح افواج اور باقاعدہ فورسز صورتحال سے قانون کے دائرے میں نمٹ رہی ہیں۔ سڑکوں پر امن و امان کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ابھی تک مقامی شہریوں یا افواج کے کسی اہلکار کو احتجاجی عمل کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔

سوڈانی وزیر اطلاعات  نے کہا کہ محکمہ خفیہ میں جو کچھ ہوا وہ محدود درجے کا احتجاج تھا ( فوٹو: العربیہ)

انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ ادارے باغی دستوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ خود کو حوالے کردیں اور اپنے ہتھیار فوج کو پیش کردیں۔
 وزیر اطلاعات نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج بغاوت کچلنے پر قادر ہیں۔ وہ عوام اور سرکاری اداروں کی حفاظت کرسکتی ہیں۔ وزیر اطلاعات نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جائے وقوعہ سے دور رہیں اور حالات کو کنٹرول کرنے کا کام افواج تک محدود رکھیں۔
سوڈانی محکمہ خفیہ نے اعلامیہ جاری کرکے بتایا کہ محکمہ خفیہ کی تنظیم نو کے تحت متعدد اداروں کو ایک دوسرے میں ضم کردیا گیا۔ اس حوالے سے  بعض اہلکاروں کی چھٹی کردی گئی۔ اس سلسلے میں آپریشن اتھارٹی کے اہلکاروں کو متعدد آپشن دیئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک گروپ نے پراویڈنٹ فنڈ اور ملازمت کے بعد ملنے والے فوائد پر اعتراض کیا ہے۔
پیشوں کے سوڈانی گروپ نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ہنگاموں کا فیصلہ ہونے تک اپنے گھروں میں رہیں۔ یہی وہ گروپ ہے جس نے عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔
گروپ کا کہناہے کہ وہ انارکی پھیلانے کی کسی بھی کوشش، شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور اسلحہ پھیلانے کی ہر جد و جہدکا مخالف ہے۔ گروپ نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ 
گروپ نے توجہ دلائی ہے کہ سرکاری ذرائع ابلاغ احتجاجی عمل کے حوالے سے تمام خبروں کو چھپا رہے ہیں۔ انہوں نے سوڈانی عوام اور مقیم غیر ملکیوں سے کہا کہ وہ عسکری سرگرمیوں والے تمام علاقوں سے دور رہیں۔ شدید کشیدگی کے باعث مسلح جھڑپوں کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے دور رہنا ضروری ہے۔
 

شیئر: