Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

44 امریکی ریاستوں میں وبا کا زور

برازیل وبا سے متاثر ہونے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں 70 ہزار ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ فوٹو: اے ایف پی
کورونا وائرس کی عالمی وبا سے دنیا بھر میں متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ 25 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پانچ لاکھ 59 ہزار سے زائد اموات بھی ہوئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 44 امریکی ریاستوں میں وبا زور پکڑ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برازیل میں کورونا سے مرنے والے افراد کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق براعظم امریکہ کے مختلف ملکوں میں اب تک 62 لاکھ 64 ہزار سے زائد شہریوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ چکا ہے جن میں سے دو لاکھ 76 ہزار سے زائد ہلاک ہوئے ہیں۔

 

براعظم یورپ کے ملکوں میں عالمی وبا نے اب تک 28 لاکھ 68 ہزار سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے جن میں سے دو لاکھ دو ہزار سے زائد کی موت ہو چکی جبکہ لاکھوں صحتیاب ہوگئے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق برازیل اور امریکہ اس وقت وبا سے متاثر ہونے والے بڑے ملک ہیں جہاں روزانہ نئے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق برازیل میں ایک دن میں 45 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس دوران ایک ہزار 200 سے زائد اموات ہوئیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ میں گزشتہ تین روز سے مسلسل 65 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ 
واضح رہے کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں اب تک کورونا سے ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق 44 امریکی ریاستوں میں کورونا کی وبا گزشتہ دو ہفتے میں تیزی سے پھیلی ہے۔ 

یورپی ملکوں میں وبا کا زور ٹوٹ چکا ہے تاہم احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گبریوسس نے کہا ہے کہ اگرچہ دنیا میں پچھلے چھ ہفتوں میں کیسز کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہے لیکن کورونا وائرس  کے پھیلاو کو روکنا اب بھی ممکن ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے دنیا کو وبا کے خلاف جارحانہ اپروچ اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ’ اٹلی ، سپین ، جنوبی کوریا اور انڈیا کی سب بڑی کچی آبادی کی مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وائرس کے پھیلاو کو روکنا ممکن تھا۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وبا کی صورتحال کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو‘۔

شیئر: