Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی جوہری تنصیب پر نئی تعمیرات

صدر ٹرمپ کی سخت دباؤ کی پالیسی پر تہران نے جوہری پروگرام پر عائد بندشوں کو ترک کر دیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
ایران نے اپنے جوہری مرکز پر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا ہے، اس کا انکشاف بدھ کو جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں ہوا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ تعمیر اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ میں انتخابات قریب آ رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی سخت دباؤ کی پالیسی پرتہران نے اپنے جوہری پروگرام پر عائد بندشوں کو ترک کر دیا تھا جبکہ امریکہ کے الیکشن میں صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی طرف واپس آنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
 امریکہ ایران کے جوہری تنصیبات کے معاملے پر کیا طرز عمل اختیار کرے گا اس کا فیصلہ ووٹ سے سامنے آنے والا نتیجہ ہی کرے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان سخت کشیدگی نے سال کے اوائل میں امریکہ اور ایران کو جنگ کے قریب کر دیا تھا۔
سان فرانسسکو میں واقع پلانٹ لیبز کی جانب سے جاری تصاویر میں نظر آ رہا ہے کہ نطنز کے جنوب میں ایران نے نئی یا باقاعدہ سڑک تعمیر کی ہے جس کے بارے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سائٹ پہلے سکیورٹی فورسز کی مشقوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
ایک تصویر میں واضح ہے کہ وہاں پر تعمیراتی سامان موجود ہے اور سائٹ صاف نظر آ رہی ہے۔

 


ایران اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ علی اکبر صالحی نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ تباہ شدہ تنصیب کے مقام پر نئی تنصیب کا کام ہو رہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

جیمز مارٹن سنٹر فار نان پرولیفریشن سٹڈیز اور مڈل بری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ وہاں کھدائی کی جا رہی ہے۔
’وہ سڑک پہاڑوں میں بھی جاتی ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایسی تعمیر کے لیے کھدائی کر رہے ہیں جو سرنگ کی صورت پہاڑوں تک جائے گی۔‘
یہ بات جیفری لیوس نے بتائی جو ایران کے جوہری پروگرام پر تحقیق کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایران اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ علی اکبر صالحی نے پچھلے مہینے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ تباہ شدہ تنصیب کے مقام پر نئی تنصیب کا کام ہو رہا ہے ’جو نطنز کے ارد گرد واقع پہاڑوں کے دل میں ہو گی۔‘
انٹرنیشنل اٹامن انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے منگل کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ان کے انسپکٹرز تعمیراتی کام سے آگاہ ہیں۔ ایران نے اس سے قبل انسپکٹرز کو آگاہ کر دیا تھا جو جوہری معاہدے ختم ہونے کے بعد بھی ایران کی سائٹس تک رسائی رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے آغاز کر دیا ہے جو مکمل نہیں ہوا یہ ایک لمبا پراسس ہے‘
ٹرمپ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر عالمی طاقتوں کو ایران کے معاہدے سے دستبردار کروایا تھا جس میں ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے یورینیئم کی افزودگی محدود کرنے پر راضی ہوا، جب امریکہ نے پابندیاں بڑھائیں تو ایران اپنی بندشوں کو آہستہ آہستہ ختم کرتا گیا، بعدازاں رونما ہونے والے کچھ واقعات نے سال کے آغاز میں جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔

شیئر: