Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ھسپانوی فلم سٹوڈیو مشترکہ منصوبے کے ذریعے سعودی مارکیٹ میں 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

سعودی عرب میں 2018 میں سنیما گھر کھولنے کی اجازت دی گئی تھی( فائل فوٹو اے ایف پی)
فلکس بلباس کے سی ای او نے کہا کہ ھسپانوی فلم  سٹوڈیو منیمو وی ایف ایکس مقامی کمپنی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے ذریعے سعودی مارکیٹ میں 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فلکس نے الشرق کو بتایا کہ سعودی نیکسٹ لیول کمپنی کے ساتھ ہماری شراکت ریاض میں ایک علاقائی ہیڈ کوارٹر کھولنے اور فلمی مواد کی صنعت کو مقامی بنانے کے ساتھ ساتھ سعودیوں کو تربیت دینے اور انہیں عالمی سطح پر بااختیار بنانے پر مشتمل ہے۔‘
خیال رہے کہ ہسپانوی فلم سٹوڈیو منیمو جن فلموں کی تیاری میں شامل تھا ان میں دی ڈارک نائٹ، اوتار، دی مشن، ڈوم اور ہیری پوٹر شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ فلکس بلباس 2022 کے اوائل میں ریاض میں آپریشنز کا آغاز کرے گی جس میں تقریبا 45 ملازمین کی ایک ٹیم ہو گی جو پروڈکشن، بصری اثرات،طویل  اور مختصر  دورانیےکی فلموں، ٹیلی ویژن شوز اور اشتہارات کے لیے لاجسٹک اور مشاورتی خدمات پیش کی جائیں گی۔
سعودی عرب میں 2018 میں سنیما گھر کھولنے کی اجازت دینے کے بعد مملکت میں فلم سازی اور فلموں کی نمائش ایک حالیہ رجحان ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب نے 35 برس کے بعد 2018 میں ملک میں سینما گھر کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے سینما گھر کھولنے کا پہلا لائسنس اے ایم سی کمپنی کو جاری کیا تھا۔
18 اپریل 2018 کو سینما پر 35 سالہ پابندی ختم کر کے ریاض میں پہلا کمرشل مووی تھیٹر کھولا گیا اور ’بلیک پینتھر‘ فلم دکھائی گئی۔

شیئر: