Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایشیا میں امریکی سفارت کاری ناکام ہو گی‘، بائیڈن کے دورے پر چین کا ردعمل

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حکمت عملی کو ’جس طریقے سے بھی پیش کیا جائے بالآخر اس نے ناکام ہونا ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے کے دوران چین کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایشیا میں امریکی سفارت کاری بالآخر ناکام ہو گی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ امریکہ کی ’نام نہاد انڈو پیسیفک سٹریٹیجی درحقیقت تقسیم پیدا کرنے، مخاصمت کو ابھارنے اور امن کو تباہ کرنے کی حکمت عملی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی کو ’جس طریقے سے بھی پیش کیا جائے بالآخر اس نے ناکام ہونا ہے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن کے ایشیا کے پہلے دورے کو اس خطے میں اپنی تجارتی اور فوجی برتری کو برقرار رکھنے کے امریکی عزم کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب اس کا حریف چین کووڈ وبا پھیلنے پر قابو پانے کے مقصد سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے نمایاں اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ 
واضح رہے کہ منگل کو امریکی صدر بائیڈن کواڈ گروپ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر خطے میں مشترکہ مفادات پر کام کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ آزادی اور کھلے پن کے نام پر چھوٹے گروہ تشکیل دے رہا ہے اور یہ سب کچھ اس امید پر کیا جا رہا ہے کہ چین کو روکا جا سکے۔ 
وانگ ای نے کہا کہ خاص طور پر یہ معاملہ زیادہ خطرناک ہے کہ امریکہ خطے میں افراتفری پھیلانے کے لیے ’تائیوان کارڈ‘ اور ’ساؤتھ چائنا سی کارڈ‘ کھیل رہا ہے۔

چین اور امریکہ کے درمیان کئی عالمی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کئی امور پر شدید اختلافات ہیں جن میں مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین میں چین کی سرگرمیوں، تائیوان پر چین کے دعوے اور امریکہ کے مطابق سنکیانگ کے علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ شامل ہے۔

شیئر: