Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حرمین ریلوے، دنیا کی تیز ترین ٹرین میں چوتھے نمبر پر

’حرمین ریلوے کی رفتار 300 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، 450 کلو میٹر کا سفر دو گھنٹوں میں طے ہوجاتا ہے‘ ( فوٹو: سبق)
حرمین شریفین ریلوے دنیا کی تیز ترین ٹرین سروس میں چوتھے نمبر پر ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق اس کی رفتار 300 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ اس میں 450 کلو میٹر کا سفر محض دو گھنٹوں میں انجام دیا جاسکتا ہے۔
ریلوے دنیا کا محفوظ ترین سفر کے ساتھ فضائی سفر کا متبادل سمجھا جاتا ہے جس کی خدمات میں روز ترقی ہو رہی ہے۔
ریلوے وہ واحد ذریعہ ہے جس کی مدد سےافراد کی بڑی تعداد کو تیز ترین رفتار سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔
دنیا میں بہترین ریلوے سروس فراہم کرنے والے ملکوں میں چین سرفہرست ہے جس کے پاس مجموعی طور پر 38 ہزار کلو میٹر کی ریلوے ٹریک ہے۔
اسی طرح سپین، جرمنی، اٹلی، بلجیئم  اور انگلینڈ کے پاس بھی بہترین ریلوے سروس ہے۔
2018 میں افریقی ممالک میں مراکش نے البراق نامی ریلوے سروس متعارف کروائی جو پورے براعظم میں بہترین سروس مانی جاتی ہے۔
اسی طرح جنوبی کوریا، تائیوان، انڈیا، تھائی لینڈ، روس اور امریکہ نے بھی ریلوے نظام میں اصلاحات کی ہیں۔
دنیا کی تیز ترین ریلوے سروس چین  میں  جس کی رفتار 460 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جو شنگھائی سے لونگ یانگ جاتی ہے۔
دوسرے نمبر پر تیز ترین ریلوے سروس بھی چین میں ہے جو فاکسنگ  کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی رفتار350 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے اس کی حد 420 کلو فی گھنٹہ تک جاسکتی ہے۔

’50 سینٹی گریڈ گرم ماحول اور تند وتیز ہوا اور گرد وغبار کے طوفان میں بھی اس کی رفتار متاثر نہیں ہوتی‘ ( فوٹو: سبق)

تیسرے نمبر پر آئی سی ای ریلوے ہے جو جرمنی چلتی ہے۔ اس کی رفتار 330 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔
سعودی عرب میں حرمین ریلوے کو چوتھا نمبر حاصل ہے اور یہ 300 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے چلتی ہے۔
اس کی خصوصی بات یہ ہے کہ یہ 50 سینٹی گریڈ گرم ماحول اور تند و تیز ہوا اور گرد وغبار کے طوفان میں بھی اس کی رفتار متاثر نہیں ہوتی۔
اس میں 13 بوگیاں ہیں اور اور مجموعی طور پر 417 مسافروں کے لیے گنجائش ہے۔
 

شیئر: