عربوں کا سب سے مشہور اور منفرد عکاظ میلہ تصاویر میں

عکاظ میلے میں پہلی بار خواتین کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ تصویر: اے ایف پی
عکاظ میلہ سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ تصویر: اے ایف پی
عکاظ میلے میں سعودی عرب کی ثقافت اور ورثے کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ تصویر: اے ایف پی
میلے میں گھؑڑ سواری کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ تصویر: اے ایف پی
میلے میں شریک ایک خاتون گھُڑ سواری کر رہی ہیں۔ تصویر: اے ایف پی
سعودی محکمہ سیاحت کئے مطابق عکاظ دانشوروں، ادیبوں اور فنکاروں کا میلہ بن گیا ہے۔ تصویر: اے ایف پی
میلے میں مٹی کے برتن اور اور ہاتھوں سے بنی مصنوعات کی نمائش کی جاتی ہے۔ تصویر: اے ایف پی
عکاظ کا تاریخی میلہ اسلام سے قبل بھی منعقد ہوتا تھا۔ تصویر: اے ایف پی
عکاظ میلہ اسلام کی آمد سے قبل عربوں کا سب سے بڑا میلہ مانا جاتا تھا۔ یہ عربوں کا سب سے مشہور اور منفرد میلہ ہوا کرتا تھا۔ 
یہ میلہ سعودی عرب کے پر فضا مقام طائف کے مقام پر منعقد ہوتا تھا۔ قدیم زمانے میں اس کا آغاز 501 ہجری میں ہوا۔ عرب قبائل چاند کے گیارہویں مہینے یعنی ذیقعد کی پہلی تاریخ کو یہاں آتے، اپنا سامان فروخت کرتے اور 20 روز تک یہاں موج مستی کیا کرتے تھے۔
رواں برس عکاظ میلے کا آغاز یکم اگست کو ہوا جو 31 اگست تک جاری رہے گا۔
سعودی محکمہ سیاحت و قومی ورثہ کے مطابق عکاظ میلہ جدید دور میں بھی اپنی اہمیت منوا چکا ہے۔ 13 برس قبل اس میلے کا دوبارہ آغاز کیا گیا تھا۔ رواں برس اس میلے میں 30 سے زائد شعری نشستیں اور نغموں کی محفلیں منعقد ہو رہی ہیں ۔11 سٹیج ڈراموں کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ مایہ نازعرب شعرا میلے میں اپنا کلام پیش کر رہے ہیں۔ یہاں تاریخی بازار بھی لگایا گیا ہے جس میں مٹی کے برتن، دستی مصنوعات اور قدیم دور کی تاریخی مصنوعات رکھی کی گئی ہیں۔

شیئر: